Al-Risala · December 2011
Here comes the Quran man.
Al-Risala, December 2011, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ گویا تاریخ کا اعادہ ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا، اُس وقت اصحاب رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ عرب کے اندر اور عرب کے باہر لوگوں سے مل کر اُن کو قرآن وہ قرآن کے مُقری (پڑھ کر سنانے والے) بن گئے۔ یہ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل کی بات ہے۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں داعی کو قدیم طرز کا مقری نہیں بننا ہے، بلکہ اس کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributer) بننا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہی داعی کی شناخت اکیسویں صدی عیسوی میں بھی یہی داعی کی شناخت ہے، اس فرق کے ساتھ کہ پچھلے دور میں اُن کو مقری قرآن کا لقب ملا تھا۔ اب موجودہ دور میں اُن کو قرآن مین کہا جاتا ہے۔ یہ دور کا فرق ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کا فرق۔