مذہب اور عقلیات
Al-Risala, December 2011, pp. 12–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم ترین زمانے سے مذہب کے دائرے میں یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ مذہب کے عقائد کو عقلی اصولوں کے مطابق صحیح ثابت کیا جائے۔ مذہب میں چوں کہ خدا کے عقیدے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس لیے فطری طور پر بڑے بڑے دماغ اس میں مصروف رہے ہیں کہ وہ عقلی دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کو ثابت شدہ بنائیں ۔ خدا ہماری دنیا کا خالق اور مالک ہے۔ اس اعتبار سے بلاشبہ یہ تمام کاموں میں سب سے زیادہ بڑا کام ہے کہ خدا کے وجود کو انسانی عقل کے معیار پر ثابت شدہ بنایا انسان ہمیشہ عقل کی روشنی میں سوچتا ہے، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل کے معیار پر خدا کی معرفت حاصل کرے، تا کہ خدا کے بارے میں وہ اُس اعلیٰ یقین کا درجہ پا سکے جو خداوندِ عالم کی نسبت سے مطلوب ہے۔
مگر عجیب بات ہے کہ پوری انسانی تاریخ اس معاملے میں ایک مایوس کُن تصویر پیش کرتی بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود یہ مقصد اپنے مطلوب معیار پر حاصل نہ ہوسکا۔ کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ پوری تاریخ میں، کچھ استثنائی افراد کو چھوڑ کر، عام طور پر انسان خدا کی اعلیٰ معرفت سے محروم رہا ہے۔ خدا کا نام لینے والے تو بے شمار تعداد میں موجود ہیں، اور آج بھی موجود ہیں، لیکن وہ انسان جو خدا کی اعلیٰ معرفت سے بہرہ ور ہو، جس کو خدا کی معرفت اُس اعلیٰ درجے میں حاصل ہو، جو سینے کے اندر ایک طوفان برپا کردیتی ہے، جو دل ودماغ کے اندر ایک زلزلہ کے ہم معنیٰ بن جاتی ہے، جب کہ انسان کی زبان سے حمدِ خداوندی کا وہ کلمہ نکلے جو کائناتئی میزان کو بھر دینے والا ہو، انسانی تاریخ، تھوڑے سے افراد کو چھوڑ کر، ایسے خدا پرست افراد سے خالی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو اس کے اعلیٰ معیارِ عقل پر خدا کے عقیدہ کو اس کے لیے قابلِ ادراک نہ بنایا جا سکا۔ مذہب اور عقلیات کی یہ کہانی فلاسفہ (philosophers) سے شروع ہوتی ہے۔ بڑے بڑے دماغ فلسفیانہ غور وفکر میں مشغول رہے ہیں۔ ان لوگوں نے چاہا کہ وہ خدا کے عقیدے کو
اعلیٰ تعقل کی سطح پر قابل فہم بنائیں ۔ لیکن وہ سب کے سب اس مقصد میں ناکام رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان فلسفیوں کے پاس غور وفکر کے لیے جو فریم ورک (framework) تھا ، وہ ایک محدود فریم ورک تھا۔ اس محدود فریم ورک کے تحت ، اُنھیں خدا کے عقیدے کو ایک ثابت شدہ حقیقت بنانا تھا، لیکن اُن کا محدود فریم ورک، خدا کو اپنے تصور میں لانے کے لیے بالکل ناکافی تھا۔ اس لیے غیر معمولی فکری کوشش کے باوجود ، وہ خدا کے بارے میں اعلیٰ معرفت کا شعور دینے میں ناکام رہے۔ مثال کے طور پر تمام فلاسفہ کا مشترک ذہن اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر یہ تھا کہ وہ اعلیٰ حقیقت کو ایک غیر شخصی وجود (impersonal being) تصور کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کو عالمی روح (world spirit) یا عالمی تصور (world idea) جیسا نام دیا۔ مثلاً برکلے اور کانٹ اور اس تصور کے تحت ، وہ فلسفیانہ فکر پیدا ہوا، جس کو آئیڈیل ازم (idealism) کہا جاتا ہے، فلسفیانہ الہیات (philosophical theology) کا دوسرا نام آئیڈیل ازم ہے۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا دور آیا۔ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک نیا علم پیدا ہوا، جو علم کلام (theology) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اس علم میں مشغول ہوئے ، وہ متکلمین (theologists) کے نام سے مشہور ہیں۔ متکلمین اسلام کے اس گروہ نے از سرِ نو یہ کوشش کی کہ وہ مذہبی عقیدہ ، یا خدائی عقیدہ کو عقل کی اصطلاحوں میں بیان کریں۔ لیکن ان کی کم زوری یہ تھی کہ اُن کے پاس فریم ورک کے نام سے جو چیز موجود تھی، وہ دوبارہ یونانی منطق (Greek logic) تھی۔ یونانی منطق، دراصل قیاسی منطق (syllogism) کا دوسرا نام ہے۔ یہ منطق کا وہ طریقہ ہے، جو سائنسی منطق (scientific logic) کے ظہور میں آنے سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ مسلم متکلمین کے پاس دلیل قائم کرنے کے لیے یہی قدیم منطق قابل حصول تھی۔ یہ منطق تعقل پسند انسان کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی تھی۔ اس بنا پر مسلم متکلمین بھی عقلیاتِ اسلام کے سفر کو زیادہ آگے نہ بڑھا وہ بھی اس معاملے میں اُسی طرح ناکام ثابت ہوئے، جس طرح اُن سے پہلے فلاسفہ (philosophers) اس معاملے میں ناکام ثابت ہو چکے تھے۔
اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسوی صدی میں جدید سائنس (modern science) کا اس زمانے میں فطرت میں چھپے ہوئے نئے حقائق دریافت ہوئے ۔ ان حقائق نے تاریخ میں پہلی بار وہ علمی بنیاد فراہم کی، جس کی مدد سے الہیات (theology) کو از سرِ نو سائنسی الہیات (scientific theology) کے طور پر مرتب کیا جا سکے۔ سائنسی الہیات کے ظہور نے اس بات کو آخری حد تک ممکن بنا دیا کہ خدا پرستانہ عقائد کو خود اُس علمی معیار پر مدلل کیا جا سکے، جس کو انسان کے نزدیک مسلمہ عقلی معیار کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہ جدید سائنسی امکان اپنی اعلیٰ ترین صورت میں سامنے آیا، لیکن اُس کو الہیات کے شعبے میں استعمال نہ کیا جا سکا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد علم کے سیکڑوں شعبوں میں ایک انقلاب آ گیا۔ ہر شعبے میں یہ کوشش کی گئی کہ علوم کو جدید سائنسی معیار پر ڈیولپ کیا جا سکے۔ علمِ خلیّات (cytology) سے لے کر علمِ فلکیات (astronomy) تک بے شمار علمی شعبوں کو سائنسی ترقی کا درجہ ملا، لیکن الہیات کا علم اس اعتبار سے ایک مستثنیٰ علم بنا رہا۔ بیسویں صدی، سائنس کی زبردست سرگرمیوں کی صدی ہے، مگر الہیات کے اعتبار سے یہ صدی کسی حقیقی سرگرمی سے خالی نظر آتی ہے۔ میرے علم کے مطابق، بیسویں صدی میں دو ایسے آدمی اٹھے، جو ایک طرف تو پورے معنوں میں سائنٹسٹ تھے، اور دوسری طرف، بظاہر وہ اس بات کا شعور رکھتے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الہیات کو جدید سائنس کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔ اور اس طرح، الہیات کو وہی درجہ دیا جائے جو درجہ دوسرے علومِ انسانی کو حاصل ہے۔ یہ دو آدمی حسبِ ذیل تھے: سر جیمز جینز (1877-1946) Sir James Jeans ڈاکٹر عبد السلام (1926-1996) Dr. Abdus-Salam سر جیمز جینز اور ڈاکٹر عبد السلام، دونوں نے جدید الہیات کے موضوع پر کچھ جزئی، لیکن اہم کام انجام دیا۔ مثلاً سر جیمز جینز نے اپنی کتاب (1930 ,The Mysterious Universe) میں خالص سائنسی تجزیہ (Scientific analysis) کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کائنات
اتنی زیادہ بامعنی ہے کہ وہ ال ٹپ (at random) طور پر وجود میں نہیں آسکتی، یقیناً وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وجود میں آئی ہے۔ سرجیمز جینز نے لکھا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام ایک پروفیشنل سائنٹسٹ تھے۔ نظریاتی فزکس (theoretical physics) میں انھوں نے کیمبرج یونی ورسٹی (لندن) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ جدید الہیات کے اعتبار سے اُن کا کام بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جس ریسرچ پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز (1979) ملا، وہ الہیات کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ زیر نظر موضوع پر ڈاکٹر عبدالسلام کی ایک کتاب (Ideal and Realities) ہے، جو پہلی بار 1984 میں چھپی۔
سر آئزک نیوٹن (وفات: 1727) کے زمانے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ چار بنیادی طاقتیں (forces) ہیں، جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ آئن سٹائن (وفات: 1955) نے اس تعداد کو گھٹانا چاہا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے خالص ریاضیاتی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں ہیں، بلکہ تین ہیں۔ اس تحقیق پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔ بعد کو نظریاتی فرکس کے مشہور برٹش پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش: 1942) نے اس تعداد کو مزید گھٹایا، اور یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اس طاقت کو انھوں نے واحد ڈور (single string) کا نام دیا۔
اس طرح خالص سائنٹفک ریسرچ کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میں تعدد (plurality) نہیں ہے، بلکہ توحید (oneness) ہے۔ گویا کہ کائنات کا نیچر موحدانہ (monotheistic) ہے، اس کا نیچر مشرکانہ (polytheistic) نہیں ہے۔ اس سائنٹفک تحقیق میں ڈاکٹر عبدالسلام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ انھوں نے پہلی بار چار طاقتوں کے نظریے کو توڑا، اور سائنسی طور پر ایک طاقت کو ماننے کا راستہ ہموار کیا۔
سرجیمز جینز اور ڈاکٹر عبدالسلام، دونوں یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ سائنسی الہیات
(scientific theology) کو مرتب کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیں۔ لیکن دونوں اس موضوع پر صرف جُزئی کام کر سکے، وہ اس موضوع کا تکمیلی باب نہ لکھ سکے۔ بظاہر دونوں کا عذر ایک تھا۔ اپنی اکیڈمک سرگرمیوں اور پروفیشنل مشغولیت سے اتنا زیادہ وابستہ رہے کہ اُن کو سائنسی الہیات کے موضوع پر مزید کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ موضوع، دوسرے تمام اہم موضوعات کی طرح، مکمل ڈیڈی کیشن (dedication) کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اس کام کی یہ ضروری قیمت نہ دے سکا۔ اس لیے دونوں میں سے ہر ایک اس کام کو انجام دینے سے قاصر رہا۔ اسلام کو عقلی بنیاد (rational basis) دینے کے لیے کچھ اور لوگوں نے کتابیں تصنیف کیں۔ لیکن اصل ضرورت کے اعتبار سے یہ کتابیں کسی حقیقی اہمیت کی حامل نہ تھیں۔ اصل مقصد جدید سائنٹفک مائنڈ کو ایڈریس کرنا تھا، مگر ان کتابوں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: 1- حجۃ اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہ دہلوی 2- تشکیل جدید الہیات اسلامیہ، ڈاکٹر محمد اقبال (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
3- قصة الإيمان بين العلم والفلسفة والقرآن، شیخ ندیم الجسر 4- قرآن اور علمِ جدید، ڈاکٹر محمد رفیع الدین میں نے ان کتابوں کا، اور اس طرح کے دوسرے بہت سے مضامین اور مقالات کا مطالعہ مگر میں نے محسوس کیا کہ یہ تمام کتابیں اصل مسئلے کی نسبت سے بہت ناقص ہیں۔ وہ ایک طاقت ور چیلنج کا صرف کم زور جواب ہیں۔ یہاں پہنچ کر میرے اندر ایک نیا احساس جنم لینے لگا۔ میں نے کئی ایسے خواب دیکھے، جو اس بات کا اشارہ تھے کہ غالباً قضاء الہی کا یہ فیصلہ ہے کہ اپنی تمام کم زوریوں کے باوجود، میں اس خدمت کو انجام دوں۔
موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما کسی نہ کسی ردِ عمل کے تحت اٹھے۔ ان کی زندگی کا کورس ردِ عمل کی نفسیات کے تحت بنا۔ مگر میرا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ کسی قسم کے رد عمل نے میری
زندگی کا کورس متعین نہیں کیا، بلکہ فطرت کا ایک واقعہ تھا، جس نے میری زندگی کا رخ متعین کیا۔ یہ واقعہ 27 جولائی 1955 کو پیش آیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ (یوپی) میں تھا۔ اُس علاقے میں نہایت شدید بارش ہوئی تھی۔ قریبی ندی ٹونس (Tons River) کا پانی پھیل کر شہر کی آبادی تک پہنچ گیا۔ برٹش دور میں یہاں 1871 میں شہر کے کنارے ایک بہت بڑا بند بنایا گیا تھا۔ بند سیلاب سے حفاظت کا واحد ذریعہ تھا۔ مگر اس سال سیلاب کا پانی اتنا زیادہ بڑھا کہ لال ڈگی کا یہ بند اُس کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ یہ میرے لیے ایک بھیانک تجربہ تھا۔ اس تجربے کو میں نے اُسی زمانے میں قلم بند کیا تھا جو اخبار ’’دعوت‘‘ (نئی دہلی) کے شمارہ 5 ستمبر 1955 میں چھپا تھا۔ میں، میں نے اپنے اس مشاہدے کو ان الفاظ میں لکھا تھا:
’’26 اور 27 جولائی 1955 کی درمیانی رات کو ضلع کلکٹر (اعظم گڑھ) کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان ہوا — ’’لال ڈگی کا بند ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے اونچی جگہوں پر چلے جائیں‘‘۔ اُس رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب سنسنی لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر بند کی طرف ڈھوے۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریا لے کر اُس جگہ مٹی ڈالنی شروع کردی، جہاں سے بند پھٹ گیا تھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا، وہ اپنے سروں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر دوڑ رہے تھے۔ درجنوں پیٹرومیکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ نے کہہ دیا کہ اب بند قابو سے باہر ہے۔ آخر کار بارہ بجے دن کے بعد بند ٹوٹ گیا اور پانی سڑکوں پر بہنے سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اس طرح دوڑ رہا تھا کہ گویا وہ اُن کا پیچھا کر رہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61)
فطرت کا یہ واقعہ میرے لیے قیامت کی یاد دہانی کے ہم معنی تھا۔ یہ گویا، بڑی قیامت سے پہلے
چھوٹی قیامت تھی جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس واقعے کو دیکھ کر جو تاثر میرے اوپر ہوا، وہ میری پوری زندگی پر چھا گیا۔ اس کے بعد میری تقریروں اور تحریروں میں انذارِ آخرت کا پہلو نمایاں وصف کے طور پر شامل ہو گیا۔ میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ سرگزشتِ انذار۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بلاشبہ درست ہے، اور جو لوگ میری تقریر اور تحریر سے واقف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میری تقریر اور تحریر میں یہی انداز غالب نظر آتا ہے۔
اسی طرح میری زندگی میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے میری تحریر میں سائنسی اسلوب کو گہرائی کے ساتھ شامل کر دیا۔ فروری 1955 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر کے بعد جب اعلان کیا گیا کہ وہ چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو انسانوں کا ایک ہجوم اُس کو لینے کے لیے اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے مطبوعہ نسخے ہاٹ کیک (hot cake) کی طرح فروخت ہوگئے۔ بعد کو یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ میں اُس کا نام تھا ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘، ہندی میں ’’نو یُگ کے پرویش دُوار پر‘‘ اور انگریزی میں: On the Threshold of a New Era اس مقالے کی ترتیب کے دوران میں نے جو مطالعہ کیا، اُس سے دعوت کا ایک پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا، وہ یہ کہ جدید سائنسی دریافتوں نے جو نیا مواد (data) فراہم کیا ہے، وہ ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم زیادہ مدلل اور موثر انداز میں دعوتِ حق کا کام کر سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو سائنس گویا کہ اسلام کا علمِ کلام (theology) ہے۔ سائنسی دریافتوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ حق کی دعوت کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے، جو جدید انسان کے لیے قولِ بلیغ (63: 4) کے ہم معنی بن جائے۔ اسی زمانے میں مجھ پر قرآن کی ایک آیت کا مفہوم زیادہ واضح انداز میں کھلا۔ یہ آیت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ہے، مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے زمانے میں قرآن کی تفسیر میں کثیر تعداد میں
لکھی گئیں،لیکن اس آیت کی گہری معنویت مفسرین سے اوجھل رہی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’عن قریب لوگوں کو ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (63: 41)۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس دور کی پیشین گوئی ہے جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس میں فطرت (nature) کو مطالعے کا موضوع بنایا گیا۔ یہ فطرت پوری کی پوری، خدا کی تخلیق ہے۔ اس تخلیق کے اندر خالق کی نشانیاں (signs of God) بے شمار تعداد میں موجود تھیں، مگر وہ مخفی انداز میں تھیں۔ جدید سائنس (modern science) نے ان نشانیوں کو کھولا، یہاں تک کہ یہ نشانیاں انسانی معلومات کے دائرے میں آگئیں۔
فطرت کی ان نشانیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، اُن کا ظہور۔ اور دوسرے، تبیین حق کے لیے اُن کا استعمال۔ اس معاملے میں پہلا کام سائنس دانوں کو کرنا تھا۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے اس کام کو بھر پور طور پر انجام دے دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی، انھیں سائنسی دریافتوں کی صدی ہے۔ یہ دریافتیں کتابوں کی صورت میں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔ اس کے بعد اس سلسلے میں دوسرا کام یہ تھا کہ مسلم علماء اور اہل علم ان معلومات سے واقفیت حاصل کریں اور مطلوب علمی انداز میں یہ بتائیں کہ یہ معلومات کس طرح اسلامی عقائد کے لیے استدلال کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ قرآن کی پیشگی خبر کے باوجود دورِ جدید میں اٹھنے والے مسلم علماء اور اہل علم اس جدید امکان سے بے خبر رہے اور نتیجہ وہ اُس تبیین حق کے لیے استعمال بھی نہ کر سکے۔ حدیث میں خواب کو نبوت کا چھیا لیسواں درجہ بتایا گیا ہے، یعنی ختم نبوت کے بعد بھی الہامِ خداوندی کا ایک درجہ باقی ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں کو خصوصی رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ خواب کا ذریعہ میرا تجربہ ہے کہ مجھ پر بہت سی باتیں خواب کے ذریعے کھلیں۔ یہ بات بھی مجھ پر خواب کے ذریعہ واضح ہوئی کہ تبیین حق کے اس اہم کام کے لیے مجھ کو اٹھنا ہے، اپنے تمام تر عجز کے باوجود اللہ کے بھروسے پر مجھ کو یہ کام انجام دینا ہے۔ اسی ذیل کا ایک تجربہ وہ ہے جو گویا کہ مجھے بین النوم والیقظہ پیش آیا: ستمبر 1963 کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں
پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں یہ خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لئے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لئے دی جاسکے۔ " کاش اللہ تعالیٰ مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق " یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا: God Arises یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتیٰ کی کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اس وقت پوری طرح مجھ پر واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں حسب معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو ند وہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر (Webster) کی لغت میں لفظ arises کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے : Let God arise, let His enemies be scattered, Let them also that hate Him flee before Him, As smoke is driven away, so drive them away; As wax melteth before the fire, so let the Wicked perish at the presence of God. (Psalms 68: 1-2)
اس کے دشمن تتر بتر ہوں ۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں۔ طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انہیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں۔
زبور کی یہ دعا حقیقتاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیشین گوئی ہے۔ یہ اسی منصوبہ الہی کا ذکر ہے جو قرآن میں سورہ صف (آیت : 9-8) اور سورہ فتح (آیت : (28) میں وارد ہوا ہے۔ ذریعہ اللہ تعالیٰ جس عظیم الشان سطح پر اپنے دین کا اظہار کرنے والا تھا، اسرائیلی پیغمبر (داود) کی زبان سے بشکل دعا اس کو کہلایا گیا۔ حضرت داؤد نبی آخر الزماں سے ڈیڑھ ہزار برس قبل پیدا ہوئے تھے۔
اس طرح گویا اذان اور اقامت کے درمیان مسجد کے اس تجربے میں مجھ کو کتاب کا نام اور اس کا موضوع دونوں بتا دیا گیا۔ عمر کی چھٹی دہائی میں پہنچنے کے بعد میری بہترین تمنا یہ تھی کہ میں اسلام پر ایک کتاب تیار کر سکوں جو اردو اور عربی کے علاوہ انگریزی میں God Arises کے نام سے شائع ہو۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو پکار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ— اے میری امت، خدا کے دین کو، وقت کے افکار کی طرف سے بہت بڑا چیلنج درپیش ہے۔ اور اس چیلنج کا موثر جواب دے کر، خدا کے دین کو دوبارہ سرفرازی عطا کرو۔
عالم تصور میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ پیغمبر نے بار بار اپنی امت کو پکارا، لیکن امت کا کوئی شخص نہیں اٹھا، جو اس پکار پر لبیک کہے۔ آخر کار، میں اپنے عاجز قدموں کے ساتھ اٹھتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول، اگر چہ میں آپ کا ایک کم زور امتی ہوں، لیکن میں خدا کے بھروسے پر اس کام کو انجام دوں گا، اور پھر خدا کے رسول، دوبارہ وہی بات کہتے ہیں جو آپ نے مکہ میں اُس وقت کہی تھی، جب کہ آپ کی پکار کے بعد بڑوں میں سے کوئی نہیں اٹھا، اور بنو ہاشم کے ایک نوجوان نے کہا تھا کہ میں آپ کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں۔ اٌس وقت آپ نے فرمایا: أنتَ يا علي، أنتَ يا علي۔ عالم تصور میں، خدا کے رسول کا یہ جواب پا کر میرا حوصلہ بڑھا، اور میں نے طے کر لیا کہ مجھے یہ کام انجام دینا ہے۔ میرا سہارا صرف ایک احساس تھا، جو حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ تھا— انسان سے تو یہ کام نہیں ہو سکتا، مگر خدا سے ہو سکتا ہے۔
میں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ مجھے سائنسی دریافتوں کی مدد سے جدید اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے، تو یہ میرے لیے کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ یہ میرے جیسے انسان کے لیے ہمالیہ پہاڑ کو اپنے سر پر اٹھانے سے زیادہ مشکل تھا۔ اس مقصد کے لیے مجھے انگریزی زبان میں بھر پور قدرت حاصل کرنا تھا۔ جدید افکار (modern thought) کو سمجھنے کے لیے مختلف علوم کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا تھا۔ کا موقف کیا ہے، اس کو براہ راست مطالعے کے ذریعے جاننا تھا۔
اُس زمانے میں، میں نے مختلف شہروں کے سفر کیے۔ مختلف شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں۔
لائبریریوں سے کتابیں حاصل کیں۔ اُس زمانے میں میری دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ میں ہر وقت پڑھتا رہتا تھا یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے کتاب میرے ہاتھ میں ہوتی تھی اور میں اس کو کھول کر پڑھتا رہتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات: 1985) اکثر یہ کہتی تھیں کہ یہ شخص کسی نہ کسی دن سڑک پر چلتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا جائے گا اور سڑک ہی پر اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ میرے اس دیوانہ وار مطالعے کی کسی نے بھی حوصلہ افزائی نہیں کی، لیکن میں ہر چیز سے بے پروا ہو کر اپنے کام میں لگا رہا۔ آزادی ہند (1947) کے بارے میں ایک کتاب ہے جو دو مصنفین نے مشترک طور پر لکھی ان میں سے ایک شخص برطانیہ کا تھا، اور دوسرا فرانس کا۔ اس کتاب کا نام ہے۔ آدھی رات کی آزادی (Freedom at Midnight) ۔
اپنی اس کتاب کی تیاری میں مذکورہ دونوں مصنفین نے بے شمار چیزوں کا مطالعہ کیا۔ کے چھپنے کے بعد ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا :
We lived like hermits, and we produced ‘Freedom at Midnight’ اسلام پر عصری اسلوب (modern idiom) میں کتاب تیار کرنے کے لیے میرا بھی یہی مذکورہ مثال کو لیتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ۔ میں نے رہبان کی مانند زندگی گزاری، اور میں نے خدا کے موضوع پر اپنی کتاب تیار کی :
I lived like hermit, and I produced my book on God. جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے فطرت کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ گویا کہ خدائی نشانیاں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آفاق اور انفس میں آیات الہی کے ظہور کے ہم معنی ہیں (41 : 53)۔ اس سلسلے میں اپنے مطالعے کے نتائج کو میں نے اپنی مختلف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں مختصر طور پر چند مثالیں درج کی جاتی ہیں 1 - قدیم فلاسفہ اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر شخصی خدا (personal God) کے طور پر خدا کا ادراک نہیں کرپاتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے خدا کو غیر شخصی خدا (impersonal God) بتایا۔
مگر غیر شخصی خدا صرف ایک خیالی خدا تھا، وہ (cosmic rays) یا قوتِ کشش (gravity) کے مانند خدا کے عقیدے کی حیثیت سے اس کی کوئی معنویت نہ تھی۔
لیکن سائنس کی تحقیقات کے بعد ایک نئی دنیا انسان کے سامنے آئی، ایک ایسی دنیا جو لازمی طور پر یہ تقاضا کر رہی تھی کہ کائنات کے وجود و بقا کے پیچھے ایک زندہ شعور ہے، نہ کہ صرف مادی عمل۔ اس طرح سائنس دانوں نے خدا کا نام لیے بغیر، خدا جیسی ایک ہستی کا اعتراف کر لیا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کتاب کا مطالعہ کیجیے:
Sir Fred Hoyle, The Intelligent Universe (1983)
اس طرح، غیر شخصی خدا (Impersonal God) کے فلسفیانہ قیاس کے لیے کوئی علمی بنیاد (Scientific base) باقی نہ رہی۔ سائنس کی نئی دریافتوں نے بتایا کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے شخصی خدا (personal God) کا تصور زیادہ قابل فہم ہے۔
2- یہی معاملہ علّتہ العلل (cause of the causes) کا ہے۔ قدیم متکلمین نے درست طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے علّتہ العلل کا نظریہ پیش کیا تھا، لیکن ہزار برس پہلے کے زمانے میں جو معلومات انسان کو حاصل تھیں، اُن کے مطابق، علّتہ العلل کی حیثیت صرف ایک قیاس کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی عیسوی میں فلکیاتی تحقیقات کے دوران ایک نئی دریافت ہوئی، جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کا نظریہ اب ایک ثابت شدہ نظریہ بن گیا ہے۔ بگ بینگ کے نظریے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تقریباً پندرہ بلین سال پہلے ایک کائناتی گولا (cosmic ball) تھا۔ یہ کائناتی گولا موجودہ کائنات کے تمام ذرات (particles) پر مشتمل تھا۔ کا سمک بال کے باہر، ہر طرف صرف خلا پایا جاتا تھا۔ پھر اچانک ایک وقت خاص پر اس کا سمک بال کے اندر ایک انفجار (explosion) ہوا اور پھر دفعتاً اس کے اَن گنت ذرات وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر دھیرے دھیرے لمبے عمل کے دوران موجودہ کائنات بنی۔
بگ بینگ کی اس دریافت کے بعد قدیم متکلمین کا علّتہ العلل کا نظریہ محض قیاسی نظریہ نہیں رہا،
بلکہ وہ ایک ایسا نظریہ بن گیا ہے، جس کی پشت پر ایک خالص سائنسی بنیاد موجود ہے۔ کا سمک بال میں انفجار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی خارجی عامل (factor) موجود تھا جس کی مداخلت سے یہ انفجار وجود کیوں کہ طبیعیاتی قوانین کے مطابق، خود بخود یا کسی داخلی سبب سے ایسا انفجار ہرگز ممکن نہ تھا۔ اس طرح، علّۃ العلل کا نظریہ اب ایک ثابت شدہ نظریہ بن چکا ہے، نہ کہ صرف ایک قیاسی نظریہ۔ 3- کائنات میں بظاہر بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ اس تنوع کی بنا پر شرک کا عقیدہ پیدا یہ سمجھ لیا گیا کہ جب تخلیق میں تنوع ہے، تو اس کا خالق بھی کئی ہونا چاہیے۔ نیوٹن کے زمانے میں یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ چار طاقتیں ہیں جو پورے عالم کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں ہیں: 1- قوت کشش (gravitational force)
2- برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force)
3- طاقت ور نیوکلیئر قوت (strong nuclear force)
4- کم زور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force)
یہ قدیم سائنسی نظریہ بظاہر شرک کے عقیدے کی موافقت کر رہا تھا۔ لیکن سائنس داں اس قسم کے چار نظریے پر مطمئن نہ تھے۔ ان کو نظر آتا تھا کہ کائنات میں بہت زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی ہم آہنگ کائنات میںچار طاقتوں کا نظریہ انھیں بے جوڑ نظر آتا تھا۔ سائنس دانوں کی تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ یہ ثابت ہو گیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اس دریافت کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہا جاتا ہے۔ اس جدید سائنسی دریافت نے شرک (polytheism) کے نظریے کا علمی طور پر خاتمہ کر دیا۔ اب علم اور عقل کی بنیاد صرف توحید (monotheism) کے نظریے کو حاصل ہے۔ اب توحید کا نظریہ ایک ثابت شدہ سائنسی نظریے کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ سادہ طور پر صرف ایک مذہبی عقیدہ۔ 4- قدیم زمانے میں علماے الہیات، خدا کے وجود کو اس طرح ثابت کرتے تھے کہ — کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز میں کامل ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈیزائن (design)
ہو، وہاں ڈیزائنر (designer) کا وجود بھی اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے: When there is a design, there is a designer. and when the designer is proved, God is also proved. استدلال خالص منطقی اعتبار سے ایک درست استدلال تھا، لیکن قدیم زمانہ میں تھا کہ یہ ثانوی (secondary) درجے کا استدلال ہے۔ وہ اول درجے کا استدلال نہیں۔ کیوں کہ یہ استدلال ایک استنباط (inference) پر مبنی تھا، نہ کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر۔ سائنسی تحقیق جب تک عالم کبیر (macro world) تک محدود تھی، اُس وقت تک یہ استدلال بظاہر درست نظر آتا تھا۔ کیوں کہ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام حقیقی چیزیں اپنا مادی جسم رکھتی ہیں، اِس بنا پر وہ قابلِ مشاہدہ (visible) ہیں۔ گویا کہ جو چیز دوربین یا خورد بین کے ذریعے نہ دیکھی جاسکتی ہو، وہ کوئی حقیقی چیز بھی نہیں۔ لیکن بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات، عالم کبیر سے گزر کر عالم صغیر (microworld) تک پہنچ گئیں۔ یہ سائنس کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب تھا۔ اِس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہاں ایسی چیز بھی موجود ہوسکتی ہے، جو نہ خورد بین سے دیکھی جاسکے اور نہ دوربین سے۔ طرح کی چیزوں کو مشاہداتی ذرائع سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی چیز کے وجود کو صرف استنباط (inference) کے ذرائع سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
سائنس کی اِس ترقی کے بعد یہ ہوا کہ معقول استدلال (valid argument) کا قدیم تصور ختم اب علمی طور پر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی اتناہی (inferential argument) ہو لیا۔ اب کی طور پر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر قائم کیا ہوا استدلال۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے اس پتے پر رابطہ کریں: The Spiritual Message 101, Prathemesh Apartement Azad Road, Gundavli, Andheri (East), Mumbai-400 069 (India)