Al-Risala · December 2011

مسیحی ماڈل

Al-Risala, December 2011, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ کرسچن ماڈل (Christian model) کا ہے۔ موجودہ مسیحیت میں پیراڈائٔز کے وجود کو مانا گیا ہے۔ لیکن موجودہ مسیحیت کے مطابق، پیراڈائٔز کا استحقاق عقیدۂ کفارہ (atonement) سے جڑا ہوا ہے، یعنی آدمی کی خطا کے بعد تمام انسان پیدائشی طور پر گنہگار اور پیراڈائٔز سے محروم ہو چکے اب پیراڈائٔز صرف ان عورتوں اور مردوں کے لیے ہے، جو اس عقیدے کو مانیں کہ مسیح

مصلوب ہوکر اُن کی طرف سے اُن کے تمام گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔

موجودہ مسیحیت کا تصور بھی انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیدائشی گناہ (original sin) کا نظریہ ایک فلسفیانہ نکتہ تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے بالکل اجنبی ہے۔ فطرت یہ چاہتی ہے کہ جو شخص کوئی بُرا عمل کرے، وہی اپنے عمل کی سزا بھگتے۔ گناہ کوئی اور شخص کرے اور اس کی گنہ گاری پیدائشی طور پر کسی اور شخص تک پہنچ جائے، یہ وراثتی گنہ گاری (hereditary sin) ہے۔ اور وراثتی گنہ گاری کا نظریہ انسانی فطرت سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔

Printed page