قرآنی ماڈل
Al-Risala, December 2011, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اب پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل (Quranic model) کو لیجئے۔ اس معاملے میں قرآن کا ماڈل، خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) پر مبنی ہے۔ قرآن کے مطابق،
خداوند عالم کا تخلیقی پلان اور پیراڈائز دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ لیے قرآن کے مطابق ، پیراڈائز کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خداوند عالم کے تخلیقی پلان کی روشنی میں سمجھا جائے۔
قرآن ، خدا کی کتاب ہے۔ وہ پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کے مطابق ، خدا نے انسان کو بنایا اور اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا۔ یہ آبادکاری بطور امتحان تھی ، نہ کہ بطور انعام ، یعنی یہ آبادکاری اس لیے تھی کہ دنیا کی عارضی زندگی میں انسان اپنے آپ کو پیراڈائز کا اہل ثابت کرے اور پھر موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں اس کو اس کے عمل کے مطابق ، پیراڈائز میں بسایا جائے۔ اس اعتبار سے موجودہ دنیا گویا کہ ایک انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ آدمی کو مختلف قسم کے احوال میں رکھ کر جانچا جا رہا ہے کہ کون اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔ جو لوگ اس جانچ میں پورے اتریں ، ان کو منتخب کر کے جنت کی ابدی دنیا میں داخل کر دیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس جانچ میں ناکام ہو گئے ، اُن کو ابدی طور پر کائنات کے کوڑے خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔
قرآن کے مطابق ، یہ جنت ابدی ہوگی اور اسی کے ساتھ ایک معیاری اور آئیڈیل جنت۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ انسان ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے حزن سے بچ کر زندگی گزارے۔ جنت کی یہ دنیا ہر قسم کے ناموافق حالات (disadvantages) اور ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے خالی یہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جس کی تمنا وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ جنت کی اس دنیا میں آدمی کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں گی۔ یہاں اُس کو مکمل فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ موجودہ دنیا میں بھی اگر چہ تمام اچھی چیزیں موجود ہیں ، لیکن یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے ، جب کہ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک معیاری دنیا (perfect world) ہوگی۔ جنت کی دنیا میں نہ شور ہوگا اور نہ کسی قسم کی کثافت۔ یہ دنیا ہر قسم کی منفی باتوں سے خالی ہوگی۔ موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے ، اور جنت ایک کامل دنیا ہوگی۔ اور کسی معاملے میں
ناقص نمونے کا وجود میں آنا، اپنے آپ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کامل نمونہ بھی وجود میں آ سکتا یہی ہے جنت کا قرآنی ماڈل۔ یہ ماڈل بلاشبہ فطرت کے تقاضے سے پوری طرح ہم آہنگ وہ تمام متعلق مظاہر سے مطابقت (corroborate) کر رہا ہے۔
پیراڈائز کے قرآنی ماڈل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں آدمی کامل شعور کے ساتھ اور اپنے مائنڈ کی اعلیٰ ترقیاتی سطح پر جئے گا۔ یہ جنت انسان کے لیے نہ کوئی محدود دنیا ہوگی اور نہ ایسا ہوگا کہ وہ شعور سے کم تر کسی سطح پر اُس کو حاصل ہوگی۔
پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی پراسرار (mysterious) جگہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ ہماری دنیا جیسی ایک جگہ ہوگی۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جنت میں وہ تمام اچھی چیزیں اہل جنت کو ملیں گی، جو اُنھیں دنیا کی زندگی میں ملی تھیں، مگر یہ تمام چیزیں نہایت اعلیٰ صورت میں ہوں گی۔ اسی طرح جنت میں اس کے باشندوں کو ہر قسم کی سرگرمیوں کا موقع ہوگا، مگر یہ سرگرمیاں اوّل سے آخر تک پرکیف ہوں گی۔ وہاں نہ کوئی بورڈم ہوگا اور نہ کوئی تکان۔ مزید یہ کہ دنیا میں آدمی چیزوں سے محظوظ ہونے کی بہت کم طاقت رکھتا ہے۔ جنت میں ایسا ہوگا کہ وہاں کے باشندوں کو چیزوں سے انجوائے کرنے کی لامحدود طاقت حاصل ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ پیراڈائز کے قرآنی ماڈل میں انسان، خدا کے پڑوس میں رہنے کا موقع پالے گا، جو کہ ہر قسم کی خوبیوں اور ہر قسم کے کمالات کا اتھاہ خزانہ ہے۔
کیرانہ (مظفر نگر، یوپی) میں صدر اسلامی مرکز کی کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری قائم ہوگئی ہے۔ اس لائبریری سے عمومی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ لائبریری کا پتہ حسب ذیل ہے: Mr. Muqeem Ilahi Shamsi Distt. Kairana - 247774 Muzaffer Nagar (UP), Mobile: 09897048535