Al-Risala · December 2011

اچانک ترقی، تدریجی ترقی

Al-Risala, December 2011, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر نو جوانوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ انھیں کوئی ایسا شارٹ کٹ (shortcut) مل جائے جس کے ذریعے وہ اچانک کوئی بڑی ترقی حاصل کر لیں، لیکن حقیقی دنیا میں ایسا کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں۔ چناں چہ ایسے نو جوانوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کر پاتے۔ اُن کو حقیقت کا علم صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُن کے لیے کام کرنے کا وقت ختم ہو گیا ہو۔ اسی حقیقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

زیست کا راز کھلا، گردش ایام کے بعد اس کہانی کا تو آغاز تھا، انجام کے بعد فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی بڑی ترقی صرف تدریجی (gradual) طور پر حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو ابتدا میں معمولی کامیابی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ترقی کرتے ہوئے بڑی کامیابی تک پہنچتا ہے۔ اس دنیا میں ہر ترقی سے پہلے معمولی کامیابی ہے اور آخر میں بڑی کامیابی۔

ہر نو جوان کو یہ جاننا چاہیے کہ خدا کی بنائی ہوئی یہ دنیا اس کی امنگوں (ambitions) پر نہیں چل رہی ہے، بلکہ وہ خود اپنے قوانین پر چل رہی ہے۔ اس دنیا میں کسی شخص کے لیے کامیابی اور ترقی کا صرف ایک ہی فارمولا ہے، وہ یہ کہ آدمی فطرت کے قانون کو جانے اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اس کے سوا ہر دوسرا فارمولا بے بنیاد ہے، وہ کسی شخص کو کسی حقیقی انجام تک پہنچانے درخت ہمیشہ بیج سے شروع ہو کر بڑا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اچانک اس کو بڑے بڑے درختوں کا باغ حاصل ہو جائے تو ایسی چھلانگ اس دنیا میں ممکن نہیں۔ درخت کا سفر جب بھی شروع ہوگا، بیج سے شروع ہوگا، نہ کہ پورے درخت سے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسان بھی اس دنیا میں درخت کے مانند بڑھتا ہے۔ درخت گویا کہ فطرت کی طرف سے ایک مظاہرہ (demonstration) ہے، جو بتاتا ہے کہ ترقی چاہنے والوں کو ترقی کا سفر کس طرح طے کرنا چاہیے۔

Printed page