ترجیح کا مسئلہ
Al-Risala, December 2011, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تعلیم یافتہ مسلمان اپنے بچوں کے ساتھ یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں۔ ایک بار وہ اپنے بچوں کو لے کر دہلی آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کی صحبت میں بیٹھ کر آپ سے مزید کچھ سیکھوں ، مگر اگلے دن وہ کئی دنوں کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ چلے گئے ، تاکہ انھیں تاریخی عمارات اور یادگاریں دکھائیں۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے بچے میرے بغیر انجوائے (enjoy) نہیں کر سکتے ، اس لیے مجھے اُن کے ساتھ جانا پڑا۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام والدین کا حال ہے۔ ان والدین میں کچھ وہ ہیں جو اعلان کے ساتھ سیکولر ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو بہ ظاہر دین دار ہیں، لیکن دین ان کی ترجیح (preority) نہیں۔ جب بھی دین اور فیملی کے درمیان کسی اکی کا چوائس (choice) لینے کا سوال ہوتا ہے تو فوراً اُن کی فیملی ان کا چوائس بن جاتی ہے۔ ایسے موقع پر وہ دین کو اُسی طرح بھول جاتے ہیں ، جیسے کہ وہ اُن کی فہرست حیات میں شامل ہی نہیں۔
اسی کا نام اولاد پرستی ہے، اور اس اولاد پرستی میں باریش لوگ بھی اتناہی مبتلا ہیں ، جتنا کہ بے ریش لوگ ۔ بے ریش گروہ اور باریش گروہ کے درمیان ظاہر کے اعتبار سے ضرور فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان بظاہر کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ فطرت کی تقسیم میں والدین کو اپنے بچوں کا ’’امام‘‘ بننا تھا، لیکن عملاً وہ خود اپنے بچوں کے ’’مقتدی‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ قرآن میں اولاد کوفتنہ (8:28) بتایا گیا ہے، یعنی آزمائش (test) کا ذریعہ۔ اولاد فتنہ کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اولاد کے لیے اُن کے دل میں بہت زیادہ محبت ہوتی ہے۔ اس بڑھی ہوئی محبت کی بنا پراولا د اپنے والدین کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ اس معاملے میں آزمائش یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے حق میں اپنی بڑھی ہوئی محبت کو کنٹرول کریں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ اولاد کے ساتھ اپنی محبت کو عذر(excuse) بنائیں ، بلکہ وہ یہ کریں کہ اس فطری تعلق کے باوجود وہ اپنی محبت کو خدا کے لیے خاص کر دیں۔
سوال و جواب میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کے مسلمانوں میں آج کل لفظ بہت زیادہ رائج ہے، وہ ہے اہل سنت والجماعۃ۔ اس لفظ کا مفہوم اُن کے نزدیک یہ ہے کہ مسلم ملت عمومی طور پر جس مسلک پر قائم ہے، وہ درست مسلک ہے۔ براہ کرم واضح فرمائیں کہ اہل سنت والجماعت سے کیا مراد اور کیا اہل سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست ہے۔ (خواجہ کلیم الدین، امریکا) اہل سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست نہیں۔ ذیل میں اس سوال کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ”أهل السنة والجماعة“ کا لفظ پہلی بار عبداللہ بن عباس نے استعمال کیا (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 390)۔ ”الجماعة“ کے بارے میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ایک بڑا مجموعہ نہیں، بلکہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حق پر قائم ہیں، حتیٰ کہ اگر صرف ایک شخص بھی حق پر قائم ہے تو وہ حدیث میں بیان کردہ ”الجماعة“ کا مصداق ہے۔ ابن مسعود نے فرمایا ہے: ”الجماعة: ما وافق الحق إن كنت “ ”ولو كان التمسك شخصاً واحداً“ (إغاثة اللهفان لابن قيم الجوزية، 1/69) غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل السنۃ والجماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ما أنا عليه وأصْحَابِي، یعنی صحابہ اور دوسرے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی سچی پیروی کرنے والے ہیں، یعنی متبعین سنت اور اصحاب رسول۔ حق کی معرفت کے لیے کیا صرف مطالعہ کی کثرت کافی ہے یا اس کے لیے کوئی اور چیز درکار براہ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں۔ (عدنان خان، نئی دہلی)
میں کچھ ایسے افراد سے واقف ہوں جو حق کے متلاشی (seeker) تھے۔ انھوں نے بہت زیادہ
مطالعہ ک، بلکہ وہ ساری عمر مطالعہ ہی کرتے رہے۔ مگر بیش تر لوگ حق تک نہ پہنچ سکے، وہ کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اپنے تجربے سے میں نے یہ جانا ہے کہ زیادہ مطالعے کا پلس پوائنٹ بھی ہے اور مائنس اگر آدمی کے اندر تجزیہ (analysis) کی صلاحیت ہو، تو اس کا زیادہ مطالعہ اُس کو سچائی تک اور اگر اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ ہو، تو اُس کا زیادہ مطالعہ صرف اس کے کنفیوژن میں اضافہ کرے گا۔ مجھے ایک ایسے شخص کا علم ہے جس نے بہت زیادہ مطالعہ کیا اور پھر وہ سچائی تک پہنچا، کیوں کہ اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت تھی۔ یہ ایک بنگالی ہندو، ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیاتھے۔ انھوں نے گہرے مطالعے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ اس کے برعکس مثال، ڈاکٹر رادھا کرشنن کی ہے۔ انھوں نے بہت زیادہ مطالعہ کیا، لیکن وہ سچائی تک نہ پہنچ سکے۔ آخر میں ان کا حافظہ ختم ہو گیا تھا، وہ کسی کو پہچانتے نہ تھے۔ اُن کا کیس میڈنیس (madness) کا کیس بن گیا۔ اسی حال میں وہ مر گئے۔ ان کا یہ حال اس لیے ہوا کہ ان کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ تھی۔ میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ انگریزی بہت اچھی تھی، لیکن ان کتابوں میں کنفیوژن کے سوا اور کچھ نہیں۔