Al-Risala · December 2011

سوال و جواب

Al-Risala, December 2011, pp. 39–42

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے بعض علماء اور مجاہدین کا کہنا ہے کہ حدیث میں مذکور ’’غزوہ ہند‘‘ کی روایت سے مراد انڈیا یا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ ہے۔ براہِ کرم، اس روایت کے الفاظ اور اس کے مفہوم کو واضح فرمائیں (بلال احمد، پاکستان)۔

یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن البیہقی کے متعلق الفاظ یہ ہیں : عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند (السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث : (17118) یعنی میری امت کے دوگروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے— ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔

یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ پاکستان کے بعض انتہا پسند لوگ اپنی اُس لڑائی کو اس روایت کا

مصداق سمجھتے ہیں جوانھوں نے انڈیا کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ مگر یہ سرتا سرا یک بے بنیاد بات ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے 1947 سے پہلے دو قومی نظریے کے نام پر ہندوؤں سے نظریاتی لڑائی چھیڑی، مگر وہ اس میں ہار گئے۔ تقسیم کے بعد جو پاکستان اُن کو ملا، اُس کو قائدِ پاکستان مسٹر محمد علی جناح نے کٹا پھٹا پاکستان (truncated Pakistan) کہا تھا۔ اِس کے بعد پاکستان نے بار بار انڈیا سے لڑائی کی، مگر وہ ہر بار ناکام رہا۔ 1948 میں قبائل کے ذریعے کشمیر پر حملہ، 1965 میں باقاعدہ ہندوستان پر حملہ، 1971 میں بنگلہ دیش کی لڑائی، اِس کے بعد 1999 میں کارگل کی لڑائی، نیز کشمیر میں 1971 کے بعد مسلسل طور پر، پراکسی وار (proxy war) کا جنگی سلسلہ جواب تک جاری ہے۔ اِن تمام جنگوں میں انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کو مکمل طور پر شکست ہوئی۔

اس لمبے تجربے سے دو بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے— ایک، یہ کہ اس حدیث میں "غزوہ" سے مراد مسلح جنگ نہیں ہے۔ اگر اس سے مراد مسلح جنگ ہوتی تو مذکورہ جنگ میں مسلمان ضرور کامیاب ہو جاتے۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں "عصابہ" سے مراد پاکستانی لوگ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ پاکستانی لوگ انڈیا کے خلاف بار بار اقدام کے باوجود یک طرفہ طور پر شکست کھا رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں۔ علماء اور اہل مدارس کے لیے الرسالہ مشن کی اہمیت کیا ہے۔ براہ کرم، اس کو واضح فرمائیں (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)۔

جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ، ہمارے دعوتی مشن کے اصل مخاطب علماء اور مدارسِ عربیہ کے لوگ ہیں، کیوں کہ امکانی طور پر وہ قرآن اور حدیث پر مبنی مشن کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مدارس عربیہ کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشنگ کر سکیں ۔ سیکولراداروں میں پڑھے ہوئے لوگ ہمارے دعوتی مشن کو بھر پور طور پر سمجھ نہیں سکتے۔

اصطلاحوں سے مانوس نہیں ہوتے جن میں ہم کلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گہرے علمی اور خالص دینی موضوعات پر میں صرف ان لوگوں سے گفتگو کر پاتا ہوں جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی ہو۔ کیوں کہ جن لوگوں کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی نہ ہو، اُن سے دینی موضوعات پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک حد آ جاتی ہے اور ان سے گفتگو جاری نہیں رہ پاتی۔ اہل مدارس کی ڈی کنڈیشننگ کیا ہے، وہ اصلاً صرف ایک ہے، یہ کہ وہ شخصیت پرستی کے خول سے باہر آ جائیں۔ وہ چیزوں کو اپنے اکابر کے بجائے اصول کی حیثیت سے دیکھنے لگیں۔ اہل مدارس اگر ایسا کر سکیں تو اُن کے لیے اعلیٰ معرفت کا دروازہ پوری طرح کھل جائے گا۔ اہل مدارس کو دوسروں کے مقابلے میں، دو چیزیں خصوصی طورپر نہ حاصل رہتی ہیں— ایک، حقائق دینیہ سے مانوس ہونا۔ اور دوسرے اصطلاحات دینیہ سے آشنا ہونا۔

مزید یہ کہ حدیث کے مطابق، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو (أن يكون بصيرا بزمانه)۔ علماء اور اہل مدارس، دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باعث، اسلام کے روایتی علم سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پر وہ اُس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جس کو مذکورہ حدیث رسول میں’’بصیرتِ زمانہ‘‘ کہا گیا ہے، یعنی اپنے زمانے سے باخبر ہونا۔ ایسی حالت میں علماء اور اہل مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ الرسالہ مشن کے تحت تیار کردہ لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ کہ یہ لٹریچر بصیرتِ زمانہ کی اسی کمی کی تلافی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

مسلم امت کے بحران کے موضوع پر ایک کتاب نگاہ سے گزری۔ میں نے اس کتاب کو کئی بار پڑھا، مگر اس کتاب میں متعین طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو ’امت کا بحران‘ کہا جاتا ہے، اور نہ اس بحران کا کوئی متعین لائحہ عمل اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ پوری کتاب بیانیہ انداز میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف متعین زبان (specific language) میں کلام کرنا جانتے ہی نہیں، وہ صرف طویل ادعائی اسلوب کلام سے واقف ہیں۔ موجودہ زمانے میں امت کا بحران کیا ہے اور اس بحران سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے، براہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں۔ (ابوالحکم محمد دانیال، پٹنہ)

مسلم امت کا بحران موجودہ زمانے کا ایک اہم موضوع ہے۔ اس موضوع کی تحقیق اور اس کی درست توجیہہ ہی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ دورِ جدید میں امت کے لیے صحیح لائحہ عمل (line of action) متعین کیا جائے۔ اس لحاظ سے یہ موضوع، احیاء امت کے لیے بنیادی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسئلہ (problem) زندگی کا لازمی جز ہے۔ جب مسئلہ پیدا ہواور آپ بروقت اس کا درست حل دریافت کر لیں تو مسئلہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ وہ عملاً آپ کے سفر ترقی کا نیا زینہ بن جائے۔ اس کے برعکس، اگر آپ مسئلے کا درست حل دریافت کرنے میں ناکام رہیں تو مسئلہ آپ کے لیے ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) بن جائے گا۔ غیر حل شدہ مسئلے سے پیدا ہونے والی اسی صورت حال کا دوسرا نام بحران (crisis) ہے۔

مسلم امت کے موجودہ بحران کی اصل جڑ یہ ہے کہ دور جدید میں مغربی قوموں کی طرف سے اُس کو نئے قسم کے چیلنج پیش آئے۔ اپنے قدیم ذہن کی بنا پر مسلم رہنما اس چیلنج کی نوعیت کو سمجھ نہ سکے اور غیر ضروری طور پر اپنے روایتی ہتھیاروں کے ذریعے اس سے لڑائی شروع کردی۔ طویل قربانی کے بعد جب اُنھیں اس جنگ میں ناکامی ہوئی تو اب وہ آخری چارہ کار کے طور پر مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بم باری کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ تباہی میں اضافے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ٹکراؤ کی سیاست کو مکمل طور پر موقوف کر دیا جائے اور خالص غیر جانب دارانہ انداز میں پورے معاملے کی از سر نو تحقیق کی جائے اور پھر مبنی بر حقیقت لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اس لائحہ عمل کی درستگی کا معیار صرف ایک ہوگا، اور وہ یہ کہ اس پر عمل کرنے سے مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہو۔ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے مقصدِ اصلی کو بھول گئے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ مسلم امت کا واحد نشانہ ہے۔ اسی نشانے کو اختیار کرنے کی صورت میں، اُن کے کام بنیں گے، اور اس نشانے کو چھوڑنے کی صورت میں، اُن کے تمام کام بگڑ جائیں گے۔ امت کا موجودہ بحران اسی کا ایک نتیجہ ہے۔

Printed page