ڈی کنڈیشننگ کا عمل
Al-Risala, February 2011, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ صبح و شام جاری رہتا ہے۔ اس معاملے کو حدیث میں ایک مثال کے ذریعے اس طرح بتایا گیا ہے: انّ هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء. قيل: يا رسول الله، وما جلاؤها. قال: كثرة ذكر الموت، وتلاوة القرآن (البیہقی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 2168) یعنی دلوں میں زنگ لگتا ہے، جیسے کہ لوہے میں زنگ لگتا ہے جب کہ اس پر پانی پڑ جائے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، اس کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کا مطالعہ کرنا۔ اس حدیث رسول میں تمثیل کے ذریعے ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ سماج کے اندر رہتے ہوئے انسان بار بار ایسے حالات سے گزرتا ہے جو اس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتے ہیں۔ غصہ، نفرت، تشدد، انتقام، وغیرہ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان جذبات کو فوراً ختم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ منفی جذبات انسانی ذہن کا مستقل حصہ بن جائیں گے، یہاں تک کہ اُن کو دور کرنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ انسانی دماغ کے دو بڑے حصے ہیں ـــ شعور (conscious mind)، اور لاشعور (unconscious mind) ـــ فطری نظام کے تحت، کوئی منفی احساس پہلے ذہن کے شعوری حصے میں داخل ہوتا ہے۔ اگر اس کو فوراً ذہن سے نکالا نہ جائے تو وہ دھیرے دھیرے ذہن کے لاشعوری حصہ میں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اس کو نکالنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنا نگراں رہے، وہ ہر لمحہ اپنے منفی احساس کو پراسس (process) کرکے مثبت احساس میں تبدیل کرتا رہے، یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے، وہ اپنے ذہن کی تطہیر کرکے اس کی آلودگی کو ختم کرتا رہے۔ اس تطہیر یا ڈی کنڈیشننگ کا ذریعہ ہے۔ اپنی موت کو بار بار یاد کرنا اور قرآن کی روشنی میں زندگی کے انجام پر غور و فکر کرتے رہنا۔ تزکیہ: روحانی خوراک جسم کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جسم کو پہنچائی جائے تو جسم صحت مند ہو جائے گا۔
اسی طرح روح کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جب روح کو پہنچائی جاتی ہے تو روح صحت مند ہو جاتی اسی عمل کا نام تزکیہ نفس ہے اور اسی صحت مند روح کو مصفیٰ اور مزکیٰ روح کہا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق، روح کی یہ خوراک تفکیر (191:3) ہے۔ آدمی کے اردگرد ہر وقت کچھ واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سماجی، تاریخی، کائناتی، ہر سطح پر اور ہر آن ان واقعات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ ان واقعات کو لے کر سوچنا اور اُن سے عبرت اور نصیحت لینا، یہی روح کی خوراک ہے۔ جو شخص اپنے شعور کو اتنا ترقی دے کہ اُس کو گردو پیش کے واقعات میں خدائی کرشمے دکھائی دیں، جو اُس کے لیے خدا کو یاد دلانے کا ذریعہ بن جائیں تو ایسے شخص نے گویا اپنی روح کے لیے رزق ربانی کا ایک دسترخوان حاصل کر لیا۔ اس کی روح اس دسترخوان سے اپنی صحت مندی کی خوراک حاصل کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔
تزکیہ کا اہم ترین ذریعہ یہ ہے کہ اپنے اندر عبرت پذیری کے مزاج کو جگایا جائے۔ گویا تزکیہ کی زمین ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس پر تزکیہ کی فصل اگتی ہے۔ کسی اور جگہ اس کو اگانا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر ایک ہرا بھر ا درخت اگانے کی کوشش کرنا۔
تزکیہ کا ذریعہ رزق رب ہے، نہ کہ رزقِ شیخ۔ تزکیہ اُس عمل کا نتیجہ ہے جو بندہ اور خدا کے درمیان نفسیاتی تعلق کے ذریعے براہِ راست قائم ہوتا ہے، تزکیہ کسی واسطے کے ذریعے نہیں ملتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ ہے، نہ کہ ایک انسانی عطیہ۔
تزکیہ وہ نعمت ہے جو کسی انسان کو براہِ راست خدا سے ملتی ہے۔ کسی انسان کے واسطے سے جو تزکیہ ملے، وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، لیکن وہ تزکیہ نہیں ہو سکتا۔