Al-Risala · February 2011

غلطی کے بعد محاسبہ

Al-Risala, February 2011, pp. 11–15

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کا ایک بہت بڑا ذریعہ محاسبہ (introspection) ہے۔ محاسبے کے ذریعے آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر اپنی اصلاح کا داعیہ (incentive) جاگتا ہے۔ اس طرح محاسبہ آدمی کو ذہنی اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دی جو آپ کو ناگوار ہوئی۔

آپ کے جذبات بھڑک اٹھے، آپ نے منفی ردعمل کے انداز میں اس کا جواب دیا۔ بعد کو آپ کے اندر ندامت (repentance) پیدا ہوئی۔ آپ نے اپنی روش پر نظرثانی کی۔ آپ نے سوچا کہ اس طرح میں اپنے اندر ایک منفی شخصیت بنارہاہوں۔ ایسی منفی شخصیت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے سخت تباہ کن ثابت ہوگی، ایسی منفی شخصیت مجھ کو جنت میں داخلے کے لیے نااہل بنادے گی۔ آپ نے سوچا کہ قرآن کے مطابق، جنت والوں کا کلچر امن کلچر ہوگا۔ وہاں ایسے لوگ آباد کئے جائیں گے جو باہمی زندگی میں امن اور محبت کے ساتھ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حالت میں اگر میں نے اپنے اندر ایسی شخصیت بنائی جس کے اندر ٹالرنس (tolerance) نہ ہو، جو مشتعل ہو جانے والی ہو، جس کے اندر دوستانہ روش (friendly-behaviour) کی صلاحیت نہ پائی جاتی ہو، ایسا شخص جنت میں داخلے کے لیے نااہل قرار پائے گا، وہ ابدی طور پر مسرت اور کامیابی سے محروم رہے گا۔ یہ سوچ آپ کے لیے ایک تعمیری دھماکہ ثابت ہوگی۔ آپ خود اپنے نگراں بن آپ کے اندر اپنی اصلاح کا شدید جذبہ پیدا ہو جائے گا۔

خود احتسابی کا یہی مزاج تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تزکیہ ہمیشہ داخلی سوچ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ خارجی نوعیت کی کسی کارروائی کے ذریعے ۔ تزکیہ وہ عمل ہے جس میں آدمی خود اپنا مرُبّی ہوتا ہے، وہ خود ہی طالب علم ہوتا ہے اور خود ہی اپنا استاد بھی۔ مبنی بر قلب، مبنی بر دماغ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع کو پڑھیے ۔ اس رکوع میں اولوالالباب (اہل عقل) کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے زمین و آسمان (کائنات) پر غور اس میں تم اللہ کی نشانیاں دیکھو گے ۔ اس کے ذریعہ تم اپنے رب کو پہچانو گے۔ اس کے ذریعہ تم کو خدا کے تخلیقی منصوبہ کا علم حاصل ہوگا۔ اس کے ذریعہ تم جنت اور جہنم کو دریافت کرو گے۔ اس کے ذریعہ تم کو پیغمبر کی اہمیت معلوم ہوگی ۔ غرض وہ تمام چیزیں جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ طور پر تزکیہ سے ہے، ان سب کو اس رکوع میں کائناتی تفکر سے وابستہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کا

تزکیہ مبنی بر عقل تزکیہ ہے، نہ کہ مبنی بر قلب تزکیہ۔ اس سلسلے میں ’’قلب‘‘ کا لفظ قرآن اور حدیث میں لٹریری معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، نہ کہ سائنسی معنوں میں۔

بعد کے زمانے میں، صوفیا کے اثر سے مسلمانوں میں مبنی بر قلب تزکیہ کا تصور رائج ہو گیا۔ تصور کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسان کا قلب تمام ربانی حقیقتوں کا خزانہ ہے۔ کے ذریعہ اس خزانہ تک پہنچو، اور پھر تم کو وہ چیز حاصل ہو جائے گی جس کو اسلام میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ مبنی بر قلب (heart-based) تزکیہ کا یہ تصور قرآن سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ اس کا ماخذ تاریخ تھا۔ زمانے سے چوں کہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور لوگوں کے درمیان چلا آ رہا تھا، اس کے زیر اثر مضافات (9:30) کے طور پر لوگوں نے اس کو اسلام میں داخل کر دیا۔ جدید سائنس نے وہ علمی بنیاد فراہم کر دی ہے جس کے تحت اسلامی تزکیہ کو دوبارہ مبنی بر دماغ تزکیہ کے طور پر زندہ کیا جائے۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کا قلب خون کی گردش (circulation of blood) کے لیے صرف ایک پمپ (pump) کا کام کرتا ہے، قلب کے اندر سوچنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ سوچنے کی صلاحیت تمام تر صرف دماغ میں ہے۔ انسان کی زندگی کے تمام افعال سوچنے کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں۔ تزکیہ کا معاملہ کوئی مستثنیٰ معاملہ نہیں۔ تزکیہ کا مقصد بھی دماغ کی سطح پر سوچنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قلب پر مفروضہ توجہ دینے سے۔ قلب پر توجہ دینا، اتنا ہی زیادہ بے بنیاد ہے، جتنا کہ حصولِ تزکیہ کے لیے ناخن یا بال پر توجہ دینا۔ رہنما کی ضرورت تزکیہ کا ذریعہ اصولاً یہ ہے کہ آدمی قرآن میں غور کرے، وہ حدیث کا مطالعہ کرے، وہ اصحاب رسول کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرے ۔ یہ تزکیہ کا اصولی ماخذ ہے۔ اس کی یہ حیثیت ابدی طور پر باقی رہے گی۔ اس کے علاوہ، تزکیہ کے حصول کی ایک عملی شرط بھی ہے، اور وہ ہے اپنے زمانے کے کسی رہنما یا مرشد کو تلاش کرنا اور اس کے علم اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا۔ آدمی کو جب کوئی مرشد مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ بلا شرط اس کو اپنا مرشد بنا لے۔ مرشد کو مشروط طور پر ماننا تزکیہ

کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے، نہ کہ مددگار۔ جب ایک شخص یہ کہے کہ میں نے فلاں انسان کو اپنا غیر مشروط رہنما مان لیا، تو اس کا مطلب اندھا مقلد بننا نہیں ہوتا، اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ شعوری ارتقا کے نتیجے میں دو انسانوں کا ویولینتھ (wavelength) ایک ہو گیا۔ یہ ذہنی ہم آہنگی کا واقعہ ہے، نہ کہ ذہنی تقلید کا واقعہ۔ اصل یہ ہے کہ حقیقت نفس الامری میں تعدد نہیں ہوتا، اس لیے جب دو انسان اصل حقیقت تک پہنچ جائیں تو فطری طور پر ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری توأم (intellectual twin) بن جاتے ہیں۔

تزکیہ کے لیے رہنما یا مرشد لازمی طور پر ضروری ہے، لیکن مرشد کی اہمیت عملی ہے، نہ کہ مرشد کی اہمیت دراصل ایک عمومی سنت اللہ کے تحت ہے۔ اس سنت اللہ کو سورہ الزخرف کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات، ليتخذ بعضهم بعضاً سخرياً (43:32) یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کو قائدانہ صفات کے ساتھ پیدا کرے۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ ایک شخص کو قائد بناتا ہے اور دوسروں سے یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ خدا کی سنت کے مطابق ، یہی زندگی کا فطری نظام ہے۔ مرشد کا معاملہ بھی اسی سنت اللہ کے مطابق ہے۔ اللہ تعالی خصوصی اہتمام کے ذریعے کسی کو مرشد کے مقام پر کھڑا کرتا ہے۔ دوسروں کا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے تزکیہ کا مقصد حاصل کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ گویا کہ فطرت کی ایک آزمائش میں ناکام ہوگئے۔ مرشد کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک معلوم عقلی معاملہ ہے۔ غور و فکر کے ذریعے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مرشد سے جو چیز ملتی ہے، وہ پراسرار ''فیض‘‘ نہیں ہے، وہ وہی چیز ہے، جس کو عام طور پر تربیتی استفادہ کہا جاتا ہے۔ مرشد ایک زندہ رہنما ہوتا ہے، نہ کہ پراسرار طور پر کوئی مقدس شخصیت۔ تزکیہ کے لیے ربط کی اہمیت تزکیہ لیے صحبت (companionship) ایک مددگار ذریعہ ہے۔ قدیم زمانے میں صحبت کا

ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ہے براہ راست ملاقات۔ موجودہ زمانہ مواصلات (communication) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کوئی شخص دور رہتے ہوئے بھی اپنے مزکی یا مربی سے صحبت کا فائدہ حاصل کر سکے۔

اس ربط کا ذریعہ خط وکتاب اور انٹرنیٹ اور ٹیلی فون، وغیرہ ہیں۔ اسی کا ایک ذریعہ ٹیلی کونسلنگ (tele-counselling) بھی ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں تزکیہ کا طالب ہو تو یہ چیزیں اس کے لیے صحبت کا بدل بن جائیں گی۔

انھیں جدید ذرائع میں سے ایک پرنٹنگ پریس ہے۔ پرنٹنگ پریس نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ ماہانہ یا غیر ماہانہ میگزین کے ذریعے مسلسل طور پر تزکیہ کا مواد حاصل کیا جاتا رہے۔ موضوع سے متعلق مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔ اس طریقے کی اہمیت خود قرآن سے معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: علّم بالقلم (4 :96) یعنی قلم کے ذریعہ لکھی ہوئی کتابوں سے دین کو اخذ کرنا۔

مطالعہ کی اہمیت ایک پہلو سے، صحبت سے بھی زیادہ ہے۔ صحبت میں آدمی کسی بات کو اپنے مرشد سے ایک بار سنتا ہے، لیکن کتاب کی صورت میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ بار بار اس کا مطالعہ کرے، وہ بار بار اس کو سامنے رکھتے ہوئے اُس پر غور وفکر کرے، وہ اس کو لے کر دوسروں سے اُس پر مذاکرہ (exchange) کرے ۔ یہ ایک ایسا فائدہ ہے جو صرف کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ تزکیہ کے لیے رابطہ انتہائی حد تک ضروری ہے، یعنی مرشد سے مسلسل طور پر استفادہ کرتے رہنا، اپنے مسائل مرشد کو بتا کر اُس سے رہنمائی حاصل کرنا۔ یہ ربط براہ راست صحبت کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور مواصلات کے ذریعے بھی۔ یہ ربط مسلسل طور پر مطلوب ہے۔ وقتی ربط سے تزکیہ کا فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

Printed page