تزکیہ اور محاسبہ
Al-Risala, February 2011, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکی انسان بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ (process) آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے، موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگر اں بننا پڑتا ہے۔ تزکیہ کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول وعمل کی نگرانی کرتا رہے، وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔ خود احتسابی کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت (repentance) اور محاسبہ (introspection) کی صلاحیت پائی جائے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی صورتیں پیش آئیں، بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کر دیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہو جائے، اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں۔
آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے، وہ ہر موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے، وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے ۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکی شخصیت (purified personality) کا درجہ
حاصل نہیں کر سکتا۔ محاسبہ سے ذہنی ارتقا (intellectual development) حاصل ہوتا ہے، اور ذہنی ارتقا اس بات کا ضامن ہے کہ تزکیہ کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آدمی کے اندر جاری رہے۔ تزکیہ اور تواضع فصل کے لیے موافق زمین درکار ہے۔ فصل ہمیشہ زرخیز زمین پر اگتی ہے، بنجر زمین پر کبھی فصل نہیں اگتی۔ اسی طرح تزکیہ کے لیے بھی موافق زمین درکار ہے۔ تواضع (modesty) تزکیہ کے لیے موافق زمین ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت ہوگی، اس کے لیے تزکیہ کا حصول آسان ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، کبر (arrogance) تزکیہ کے لیے ایک غیر موافق زمین ہے۔ کے اندر کبر کا مزاج ہو، وہ کبھی تزکیہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ تواضع (modesty) سے آدمی کے اندر کمی کا احساس پیدا ہوتا متواضع انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ مجھے کچھ اور پانا ہے جو میرے اندر نہیں ہے۔ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے جب سچائی آتی ہے تو وہ کسی تحفظ ذہنی (reservation) کے بغیر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ بے لاگ انداز میں اس کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ بہت جلد دریافت کر لیتا ہے کہ سچائی اس کے لیے اس کی کمی کی تلافی ہے۔ وہ سچائی کو خود اپنی چیز سمجھ کر اس کو قبول کر لیتا ہے۔ صفت تزکیہ کی روح ہے۔ اس کے برعکس معاملہ متکبر انسان کا ہے۔ متکبر انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میرے پاس پہلے ہی سے سب کچھ موجود ہے، مجھے کسی سے کچھ اور لینے کی ضرورت نہیں۔ نفسیات کی بنا پر وہ باہر کی کسی چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ مصلح کی بات کو آسانی کے ساتھ رد کر دیتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کے لیے تزکیہ کے حصول میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جو تواضع کا مزاج رکھتا ہو۔ تواضع کا مزاج آدمی کے اندر قبولیت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ نفسیاتی پیچیدگی (complex) سے آزاد ہوگا اور جو آدمی نفسیاتی پیچیدگی سے آزاد ہو، وہی تزکیہ کے درجے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔