ضمیر رہبر تزکیہ
Al-Risala, February 2011, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے اندر فطری طور پر ایک فیکلٹی (faculty) ہے جس کو ضمیر (conscience)
ا جاتا ہے۔ یہ ضمیر ایک خدائی معلم ہے۔ وہ انسان کے لیے رہبر تزکیہ (tazkia guide) کا کام کرتا ہے۔ ضمیر ہر موقع پر خاموش زبان میں انسان کو بتاتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو، یہ تزکیہ کے موافق روش ہے اور وہ تزکیہ کے خلاف روش ہے۔ یہ پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش ہے اور وہ غیر پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش، وغیرہ۔
لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بیشتر لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ضمیر ان کے لیے رہبر تزکیہ کا کام نہیں کرتا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ضمیر کے ساتھ ایک اور برعکس فیکلٹی موجود ہے۔ ایگو (ego) ہے۔ آدمی اکثر نفس اور شیطان کے زیرِ اثر آجاتا ہے۔ وہ ضمیر کو اپنا کام کرنے نہیں دیتا۔ ضمیر کی خاموش آواز ہر موقع پر ابھرتی ہے، لیکن ایگو (ego) اس آواز کو دبا کر اس کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ طالبِ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہو۔ وہ اپنی قوتِ فکر کو بیدار وہ ہر موقع پر اپنے ایگو کو زریرو کرتا رہے۔ ایگو کو زیرو کرتے ہی یہ ہوگا کہ ضمیر اپنا فطری رول ادا کرنے لگے گا اور تزکیہ کے راستے پر آدمی کا سفر بھٹکے بغیر جاری رہے گا۔
ایگو کو زیرو کرنے کا یہ کام اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ کام کوئی دوسرا شخص انجام نہیں دے سکتا۔ ہر آدمی کو خود یہ کام کرنا ہے کہ جیسے ہی اس کا ایگو جاگے، وہ فوراً متنبہ ہو جائے اور اپنی قوتِ ارادی (willpower) کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ایگو کو زیرو کر دے۔