Al-Risala · February 2011

تزکیہ کا طریقہ

Al-Risala, February 2011, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگوں نے تزکیہ کے مختلف طریقے بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس ذیل میں انھوں نے تزکیہ کے طریقوں کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کے طریقوں کی کوئی فہرست آپ خواہ کتنی ہی لمبی فہرست بنالیں، مگر کوئی بھی فہرست تزکیہ کے طریقوں کی جامع نہیں بن سکتی، کوئی بھی فہرست تزکیہ کے طریقوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ طویل ترین فہرست کے بعد بھی کچھ ایسے اجزا

باقی رہیں گے جو تجربہ کے بعد یہ ثابت کریں گے کہ یہ فہرست ایک ناقص فہرست تھی۔ اصل یہ ہے کہ تزکیہ کا تعلق کسی فہرست سے نہیں ہے، بلکہ انسان کے اپنے ارادے سے ہے۔ انسان فی الواقع تزکیہ کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور وہ دیانت دارانہ طور پر اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو تو وہ ضرور اپنا تزکیہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن اگر آدمی اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ نہ ہو اور وہ اپنا تزکیہ کرنے کے لیے حریص نہ ہو تو کوئی بھی تحریر یا تقریر اس کا تزکیہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ انسان کی ایک انوکھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کر لیتا وہ اپنی ہر غلطی کو درست ظاہر کرنے کے لیے خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی مصلح یا مربی اس کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنے بارے میں ایک باشعور فیصلہ کرے۔ اس کا یہ فیصلہ اتنا زیادہ محکم ہو کہ وہ ہر حال میں اس پر قائم رہے، اس معاملے میں کسی بھی عذر (excuse) کو وہ اپنے لیے عذر نہ بنائے۔

تزکیہ کے معاملے میں اصل چیز تزکیہ کا ارادہ ہے۔ یہ ارادہ اتنا زیادہ قوی ہونا چاہیے کہ کوئی بھی چیز آدمی کو اس سے ہٹا نہ سکے۔ کوئی بھی اندیشہ اس کے ارادے کو کمزور نہ کر سکے۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے پر راضی نہ ہو۔ اس کا یہ قول ہو کہ مجھے لازمی طور پر اپنا تزکیہ کرنا ہے، خواہ مجھے اس کی کوئی بھی عملی یا نفسیاتی قیمت دیناپڑے۔

Printed page