تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ
Al-Risala, February 2011, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مجرد (abstract) طور پر اس کے کچھ اصول مقرر کر دئے جائیں اور اس کو لکھ کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے۔ یہ بھی تزکیہ کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی پیش آمدہ صورت حال سے وابستہ (relate) کر کے بتایا جائے۔ اس دوسرے طریقے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کے لیے ایک زندہ مربی یا مزکی موجود ہو۔ طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خود ہی ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ میں تزکیہ کا پہلو دریافت کرے اور اس کو اپنے ذہن کا جزو بنا لے
حضرت ابوذر ایک صحابی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اگر ایک چڑیا کو ہوا میں اپنے پروں سے اڑتے ہوئے دیکھتے تو اس سے آپ ہمیں کوئی معرفت کی یاد دہانی کراتے ۔ ( وما يقلب طائر جناحه في السماء إلا ذكر لنا منه علماً . الطبقات لابن سعد ، رقم الحديث : 2354)۔ یہ پیش آمدہ صورت حال کے حوالے سے تزکیہ کی تعلیم دینے کی ایک مثال ہے۔
تزکیہ کا کوئی مجرد طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجرد طریقہ تزکیہ کا مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تزکیہ کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا زیادہ باشعور بنائے کہ اس کے اندر توسم (75: (15: کی صفت پیدا ہوجائے۔ وہ پیش آمدہ واقعات کو تزکیہ سے وابستہ (relate) کر کے اُس سے ربانی سبق لے سکے۔ تزکیہ کا مواد روز مرہ کے تجربات میں ہوتا ہے۔ روز مرہ کے تجربات کو تزکیہ کی نظر سے دیکھنا سیکھ لیجئے ، اس کے بعد ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ آپ کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بن جائے گا۔ تزکیہ کا وسیلہ تزکیہ کا وسیلہ کیا ہے۔ روایتی طور پر کچھ چیزوں کو تزکیہ کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے ـــــــــ نوافل، تلاوت، مسنون اذکار، مراقبہ، صحبت، بزرگوں کے واقعات، وغیرہ۔ اس سوچ کا مطلب تزکیہ کو ایک مقرر کورس یا مینول(manual) جیسا معاملہ سمجھنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا کوئی متعین کورس نہیں۔ زندہ واقعہ ہے، اور زندہ عمل ہی کے ذریعے اس کو حقیقی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خدائی باتوں میں تدبر کرے ، وہ اپنی سوچ کو متحرک کرے ، وہ مسلسل غور وفکر کے ذریعے ہر ظاہر میں اس کے باطن کو دریافت کرے۔ دریافت تزکیہ پسند آدمی کی غذا ہے۔ مثلاً آپ نے ایک چڑیا کو دیکھا۔ چڑیا کو دیکھ کر آپ کو یہ حدیث رسول یاد آئی کہ اہل جنت کے دل چڑیا کے مانند ہوں گے (أفئدتهم مثل أفئدة الطير)۔ اس کے بعد آپ اپنے بارے میں غور کرنے لگے کہ کیا میرا دل بھی چڑیا کے مانند ہے، کیا میں بھی اِسی طرح منفی سوچ سے خالی ہوں جس طرح چڑیا کا دل منفی سوچ سے خالی ہوتا ہے، کیا میں بھی اُسی طرح حرص سے پاک ہوں جس طرح چڑیا حرص سے پاک ہوتی، کیا میں بھی اُسی طرح بے ضرر
(harmless) ہوں جس طرح چڑیا بے ضرر ہوتی ہے، کیا میں بھی اُسی طرح قانونِ فطرت کی پیروی کرتا ہوں جس طرح چڑیا قانونِ فطرت کی پیروی کرتی ہے۔ یہی سوچ، تزکیہ کی اصل روح ہے۔ اِس قِسم کی احتسابی سوچ کے بغیر کسی شخص کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔
تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اپنی تعمیرِ آپ کا ایک عمل ہے۔ تزکیہ میں آدمی کو خود اپنا مزکیٰ اور معلم بننا پڑتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی صحبت یا کسی دوسرے شخص کی تبلیغ بذاتِ خود کسی کے لیے مؤثر نہیں بن سکتی۔ دوسرا کوئی شخص آپ کو ابتدائی رہنمائی دے سکتا ہے، لیکن اِس رہنمائی کو تکمیل تک پہنچانا، آپ کا اپنا کام ہے۔ تزکیہ کے عمل میں کسی دوسرے شخص کا حصہ اگر ایک فی صد ہے تو آپ کا اپنا حصہ ننانوے فی صد۔