Al-Risala · February 2011

تزکیہ، ذہنی ارتقا

Al-Risala, February 2011, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کے اصل معنی تطهیر (purification) کے ہیں۔ اِسی سے اِس میں ایک اور مفہوم شامل ہوا ہے اور وہ بڑھنا یا نُمُو (growth) ہے۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) یا روحانی ارتقا کہا جاتا ہے۔ ذہن (mind) کوئی جامد چیز نہیں، وہ ایک نُمو پذیر چیز ہے۔ وہ درخت کی طرح مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اِسی عمل کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (4:48) کہا گیا ہے۔ ازدیادِ ایمان سے مراد ازدیادِ شعور ہے، اور ازدیادِ شعور ہی کا دوسرا نام ذہنی ارتقا ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہ ہو، جو یقین اور ایمان باللہ کے اعتبار سے مسلسل بڑھتا رہے۔ یہ تزکیہ یا شعوری اضافہ کس طرح ہوتا ہے۔ اِس کا ذریعہ غور و فکر (contemplation) ہے۔ یہ غور و فکر اپنے آپ میں ایک مسلسل عمل ہے۔ قرآن اور حدیث میں غور و فکر، سیرتِ رسول میں غور و فکر، صحابہ کی زندگی میں غور و فکر، دوسرے موضوعاتِ انسانی پر غور و فکر، کائنات پر غور و فکر، غرض ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز پر غور و فکر۔ اِس کے علاوہ، سنجیدہ مذاکرات کے دوران غور و فکر۔ اِس غور و فکر کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں، معلوم باتوں کی

نئی نئی توجیہات سمجھ میں آتی ہیں، واقعات و حقائق کے نئے نئے رخ علم میں آتے ہیں، وغیرہ۔ جس آدمی کو سچا ایمان حاصل ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ ہر مطالعہ اور مشاہدہ اس کے لیے ربانی دریافت کا سبب بنتا رہے گا، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے قربت کا ذریعہ بن جائے گا۔ اُس کا ایمان ابتداءً اگر ایک بیج تھا تو اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ ایک پورا درخت بن جائے گا۔ اسی فکری اور روحانی عمل کا اسلامی نام تزکیہ ہے۔ ایمان اگر اسلام میں داخلے کا عنوان ہے، تو تزکیہ ایمان کے ارتقا کا عنوان۔ تزکیہ اور علم تزکیہ کے لیے ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی صاحب کمال کی صحبت حاصل کی جائے، کیوں کہ صاحب کمال کی ایک نظر انسان کو بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے، لیکن یہ نقطہ نظر قرآن اور حدیث سے قرآن اور حدیث کے مطابق، تزکیہ کا مقصد آدمی کے خود اپنے غور وفکر سے حاصل ہوتا آدمی کے اندر صحیح مزاج ہو اور وہ کتابوں کا، نیز فطرت کا مطالعہ کرے تو اُس سے وہ ایسے معانی اخذ کرے گا جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرنے والے ہوں۔

قرآن کی سورہ فاطر میں پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت آئی ہے: إنما يخشى الله من عباده العلماء (28: 35)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ پہاڑوں کا علم یا واقعات فطرت کا علم آدمی کے اندر اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے، یعنی خوف کا ماخذ علم (learning) ہے۔ آدمی کے اندر جتنا زیادہ علم ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی تخلیقی حکمتوں کو سمجھے گا اور اس طرح وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے تزکیہ کسی آدمی کو ذاتی علم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ مفروضہ باکمال کی نظر اور توجہ سے۔ مطالعہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ مطالعہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں چیزوں سے معرفت کی غذا لے سکے۔ مثلاً ہر آدمی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے، لیکن جو شخص نظام تنفس (respiratory system) کے بارے میں دریافت کردہ جدید معلومات کو جانتا ہو، اس کا شکر ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جائے گا، اور اسی کے اعتبار سے اس کا تزکیہ بھی بہت زیادہ ترقی کرے گا۔

حقیقت یہ ہے علم آدمی کے تزکیہ کو زیادہ بڑا فریم ورک (framework) دیتا ہے۔ آدمی کو اپنے تزکیہ میں اضافے کے نئے گوشے معلوم ہوتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے علم ایک قسم کے بوسٹر (booster) کا درجہ رکھتا ہے۔

Printed page