ڈسٹریکشن سے بچئے
Al-Risala, February 2011, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں کامیابی کا ایک اصول یہ ہے کہ ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ آدمی ایک ہی وقت میں دو چیزوں پر یکساں فوکس (focus) نہیں وہ ایک چیز پر فوکس کرے گا تو دوسری چیز سے اس کا ذہن ہٹ جائے گا۔ یہی اصول تزکیہ کے لیے بھی درست ہے۔ جو آدمی اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو، اس کو لازمی طور پر یہ بھی کرنا ہوگا کہ وہ تزکیہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) چیزوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔
تزکیہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈسٹریکشن (distraction) ہے۔ تزکیہ کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ کو اپنا واحد نشانہ (supreme goal) بنائے، وہ ڈسٹریکشن کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر اپنے آپ کو دور رکھے۔ تزکیہ کے لیے ذہنی یکسوئی یا ترکیز (concentration) لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر ترکیز کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقینی طور پر تزکیہ کے حصول سے محروم رہے گا۔
ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تزکیہ کی بھی ایک قیمت ہے۔ وہ قیمت ہے— ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو دور رکھنا۔ مثلاً خاندانی رسومات، دوستی کا کلچر، کھانے اور کپڑے کا شوق، دولت اور شہرت (fame) کی رغبت، زندگی کے تکلفات، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کے طالب کے لیے ڈسٹریکشن (distraction) کا درجہ رکھتی ہیں۔ جو آدمی اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر دور رہے۔
تزکیہ کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ تزکیہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت مل جائے۔ تزکیہ کے ذریعہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کے پڑوس میں جینے
تزکیہ کے بغیر آدمی سوکھی لکڑی کے مانند ہے، تزکیہ کے بعد آدمی ایک شاداب درخت بن تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں، وہ وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں ایمانی شعور کی بیداری کہا جا سکتا ہے۔