Al-Risala · February 2011

تزکیہ کی شرط

Al-Risala, February 2011, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کوئی فنی علم نہیں۔ فنی علم کو لفظوں میں پوری طرح بیان کیا جاسکتا ہے، لیکن تزکیہ معرفت کا علم ہے اور معرفت کے علم کو الفاظ میں صرف جزئی طور پر بیان کرنا ممکن ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ تزکیہ کی ہر تقریبا تحریرایک اور اضافہ چاہتی ہے، اور یہ اضافہ صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو تزکیہ کا طالب ہو۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ طالب تزکیہ اس معاملے میں انتہائی حد تک سنجیدہ ہو، وہ ایک تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتا ہو، اُس کے اندر کامل آمادگی پائی جاتی ہو، وہ ہر قسم کے تعصبات (prejudice) سے خالی ہو، وہ ایک کا مپلکس فری (complex free) انسان ہو، وہ چیزوں کو اُسی طرح دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جیسا کہ وہ واقعہ ہیں ۔ رجحانات کو الگ کر کے چیزوں کو دیکھ سکے، وہ اپنے خلاف باتوں کو بھی اُسی طرح سنے، جس طرح وہ اپنے موافق باتوں کو سنتا ہے، وہ کسی شرط کے بغیر حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج رکھتا ہو، وہ درست زاویہ نظر (right angle of vision) سے چیزوں کو دیکھ سکے، وغیرہ۔

تزکیہ کے عمل میں دو افراد شامل ہوتے ہیں __ معلم تزکیہ، اور طالب تزکیہ۔ دونوں میں سے کسی کا رول بھی صد فی صد نہیں، اس معاملے میں دونوں کا رول ففٹی ففٹی ہے۔ معلم تزکیہ کا رول یہ ہے کہ وہ تزکیہ کو حقیقی طور پر جانتا ہو، اس نے قرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے ذریعے تزکیہ کو درست طور پر سمجھا ہو اور پھر وہ اس کو اس کے خالص انداز میں بیان کر سکے۔ اس معاملے میں دوسرا نصف رول طالب تزکیہ کا ہے۔ تزکیہ کے طالب کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ بھر پور طور پر قبولیت کی استعداد رکھتا ہو۔ وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آ کر تزکیہ کے

کلام کو سنے اور اس کو سمجھے۔ وہ پیشگی طور پر قائم کردہ معیار سے آزاد ہو، وہ یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ کلام کی نسبت سے اپنی رائے قائم کرے، نہ کہ متکلم کی نسبت سے۔ جس آدمی کی اندر یہ صفات موجود ہوں، وہی وہ شخص ہے جو تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

Printed page