Al-Risala · February 2011

تزکیہ ایک نفسیاتی عمل

Al-Risala, February 2011, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کا حصول کسی قسم کی لسانی تکرار یا کسی قسم کی جسمانی ورزش کے ذریعہ ممکن نہیں۔ تزکیہ تمام تر ایک نفسیاتی عمل ہے اور نفسیات کی سطح پر ہی اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

نفسیاتی عمل سے مراد ذہنی عمل ہے۔ انسان کا ذہن ہر قسم کی سوچ کا مرکز ہے۔ ذہن ہے جو کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتا ہے۔ غیر مزکی شخصیت کو بھی اس کا ذہن بناتا ہے اور مزکی شخصیت کو جو چیز بناتی ہے، وہ بھی اس کا ذہن ہے۔

تزکیہ کے لیے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ ذہنی ارتقا (intellectual development) ہے، یعنی شعور کو اس طرح ترقی دینا کہ وہ چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sortout) کر سکے، وہ منفی احساس کو مثبت احساس میں کنورٹ کر سکے، وہ چیزوں میں خالق کے جلوے کا مشاہدہ کر سکے، وہ مادی واقعات میں روحانی پہلو کو دریافت کر سکے، وہ خارجی اثرات سے محفوظ رہ کر سوچ سکے، وہ شیطان کی تزئین کو پہچان کر اسے رد کر سکے، وہ نفس کی ترغیبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، اس کو مستقبل بینی کی نظر حاصل ہو جائے، وہ بے نتیجہ کام سے اپنے آپ کو دور رکھے، وہ اپنے حقیقی خیر خواہ کو پہچاننے والا ہو، وہ نصیحت کو قبول کرے، خواہ وہ اس کے مزاج کے خلاف ہو، وہ اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ مادیات سے گزر کر روحانیات کو اپنا نشانہ بنائے، اس کی سوچ آخرت رُخی سوچ بن جائے، وغیرہ۔ یہ تمام کام نفسیات کی سطح پر انجام پاتے ہیں، وہ انسان کی گہری سوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ نہ ہو، وہ کبھی تزکیہ کے اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ ہو، اُسی کے اندر تزکیہ کا عمل جاری ہوگا۔ تزکیہ دراصل نفسیاتی تزکیہ کا دوسرا نام ہے۔ تزکیہ اولاً نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے پورے وجود کی سطح پر تزکیہ کا اظہار ہو۔ مثبت نفسیات کی اہمیت چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا اور خود شام واپس چلے گئے۔ بعد کو اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک

خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ وہاں آئے۔ اُس وقت ان کی ملاقات اسماعیل کی بیوی سے ہوئی ۔ انھوں نے سخت حالات کی شکایات کی۔ حضرت ابراہیم اُن سے یہ کہہ کر چلے گئے کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دینا: غير عتبة بابك (اپنے گھر کی چوکھٹ کو بدل دو)۔ اس کے بعد اسماعیل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا اور ایک دوسری خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ پھر وہاں آئے۔ دوسری خاتون سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کوئی شکایت نہیں کی، بلکہ حالات پر شکر کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ اسماعیل آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دے دینا: ثبت عتبة بابك (یعنی اپنے گھر کی چوکھٹ کو باقی رکھو)۔ صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو صحرا میں بسادیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے سادہ ماحول میں ایک نئی نسل پیدا ہو جو توحید کے مشن کو لے کر اٹھے اور اس کو دنیا میں پھیلائے۔ ابراہیم کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ کام کے لیے جو افراد مطلوب ہیں، اُن کے اندر سب سے زیادہ یہ صفت ہونا چاہیے کہ وہ مثبت نفسیات میں جینے والے ہوں، وہ شکایت کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کس بات کی ہے، وہ یہ کہ آدمی مکمل طور پر اپنے آپ کو بے شکایت بنالے، شکایت کے اسباب ہوتے ہوئے وہ پوری طرح مثبت سوچ والا انسان بن جائے۔ منفی سوچ تزکیہ کی قاتل ہے، جب کہ مثبت سوچ تزکیہ کے لیے سب سے ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ منفی سوچ والا آدمی شیطان کا معمول (subject) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت میں جینے لگتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تزکیہ کا حصول فرشتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

Printed page