Al-Risala · February 2011

تزکیہ کی اصل محاسبہ

Al-Risala, February 2011, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا (مسند الفاروق 2/618) یعنی اپنا محاسبہ کر لو، اس سے پہلے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے۔ یہی محاسبہ تزکیہ کی اصل ہے۔ تزکیہ کسی تربیتی

کیمپ کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ درس و تدریس کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ کسی قسم کے اعمال و اشغال کے ذریعے بھی نہیں ہوتا۔ تزکیہ کا واحد ذریعہ محاسبہ ہے، یعنی اپنا احتساب (introspection) کرنا، خود اپنا نگراں بن جانا، اپنے بارے میں سوچ سوچ کر خود اپنی اصلاح کرنا۔ انسان واحد مخلوق ہے جو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسان کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ انسان تصوراتی فکر (conceptual thought) رکھنے والا حیوان ہے۔ آپ ایک لکڑی کو گڑھ سکتے ہیں، آپ لوہے کو مولڈ کر سکتے ہیں، لیکن انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا مالک آپ ہے۔ وہ اپنی تشکیل آپ کرتا ہے۔ انسان اگر خود نہ چاہے تو کوئی دوسرا شخص اس کی شخصیت سازی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے تزکیہ یا اس کی شخصیت سازی میں تمام تر دخل ذاتی محاسبہ کا ہے۔ یا مُربی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ذاتی محاسبہ کا طاقت ور محرک (incentive) کر دے، وہ انسان کے اندر یہ طرز فکر پیدا کر دے کہ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا، اگر میں نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ میں ہمیشہ کے لیے برباد ہو کر رہ جاؤں گا۔ مجھے اپنا تزکیہ خود کرنا ہے اور مجھے جو کچھ کرنا ہے وہ آج کرنا ہے، کیوں کہ کل کبھی آنے والا نہیں۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کر لیتا ہے، اس کو ہمیشہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اس مزاج کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ مگر اس مزاج کا خاتمہ انسان کے خود اپنے اختیار میں ہے، وہ کسی بھی دوسرے شخص کے اختیار میں نہیں۔

Printed page