Al-Risala · February 2011

محاسبہ کیسے

Al-Risala, February 2011, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کا اصل ذریعہ ذاتی محاسبہ (self introspection) ہے، یعنی اپنے بارے میں سوچنا، اپنے قول و عمل کا تجزیہ (analysis) کرنا، دوسرے لفظوں میں، محاسبہ یہ ہے کہ آدمی اپنا چج آپ بن جائے، وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے بارے میں انتہائی بے لاگ انداز میں رائے قائم کرے۔ نام احتساب یا محاسبہ ہے، اور اس قسم کے محاسبہ کے بغیر کسی کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔

انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ انا (ego) کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید ہے کہ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر أنا ولا غیرى (میں، میرے سوا کوئی نہیں) کی نفسیات میں جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر بہت جلد خود فکری (self-thinking) کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے، یعنی خود پسندی کی نفسیات۔ اس قسم کی نفسیات تزکیہ کی قاتل ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے اندر اینٹی سیلف سوچ (anti-self thinking) پیدا ہو۔ وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے خلاف سن سکے۔ عمر بن الخطاب کے اندر یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید تھا کہ انھوں نے کہا— خدا اُس انسان پر رحم کرے جو مجھے میرے عیب کا تحفہ بھیجے (رحم اللہ امرءاً أهدى إلى عيوبي) محاسبہ کا یہ مزاج ایک دریافت سے پیدا ہوتا ہے، اور وہ ہے اپنے عجز (helplessness) کی تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ دریافت کے درجے میں اس حقیقت کو جانے کہ اس کا احساس میں (sense of I) صرف احساس کی حد تک محدود ہے۔ اپنے احساس کے باہر کسی بھی چیز پر اس کو کوئی اپنے وجود کو باقی رکھنے پر اس کو کوئی اختیار نہیں، موت کے معاملے میں اس کو کوئی اختیار نہیں، لائف سپورٹ سسٹم (life support system) پر اس کو کوئی اختیار نہیں، آخرت کی عدالت میں اس کو کوئی اختیار نہیں، وغیرہ۔ جب کوئی آدمی اپنی اس کامل بے اختیاری کو دریافت کرتا ہے تو اس کے اندر لازمی طور پر عجز کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہی عجز کا احساس آدمی کو اپنا محاسبہ آپ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اسی دریافت میں تزکیہ کا اصل راز چھپا ہوا ہے۔

Printed page