Al-Risala · February 2011

پرچہ آؤٹ

Al-Risala, February 2011, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کے سچے طالب کے لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی طرف سے خواب دکھایا جاتا ہے۔ اس خواب میں اس کو واضح رہنمائی دی جاتی ہے کہ اس کو آگے مزید کیا کرنا چاہیے۔ اس طرح طالب کو یقین کے ساتھ اپنا چوائس (choice) لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ تزکیہ کے ایک طالب کے لیے اس طرح کا خواب آنا اُسی طرح کی ایک خصوصی مہربانی ہے جیسے کسی اسٹوڈنٹ کے لیے اس کے امتحان کا پرچہ پیشگی طور پر آؤٹ کر دیا جائے۔ جو شخص تزکیہ کا طالب ہو، اس کے سامنے کئی بار مختلف قسم کے سوالات آتے

اس کو دو میں سے ایک کا فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ طالب اگر اس طرح کے مواقع پر خدا سے دعا کرے تو عین ممکن ہے کہ خدا اس کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اُس کو ایک ایسا خواب دکھادے جس میں اس کے لیے رہنمائی موجود ہو، جو اس کو شبہہ اور تردد سے نکال کر یقین کی طرف لے جانے والا ہو۔ اس قسم کا خواب بلاشبہ خدا کی ایک خصوصی رحمت ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خواب دیکھنے کے باوجود اس سے رہنمائی حاصل نہ کرے تو اس کا معاملہ اُس طالب علم جیسا ہو جائے گا جس کا پر چہ آؤٹ کر دیا جائے، اس کے باوجود وہ امتحان میں ناکام رہے۔

تزکیہ پچاس فی صد بندے کا معاملہ ہے اور پچاس فی صد خدا کا معاملہ۔ تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ مسلسل خدا سے دعا کرے۔ یہ دعا اس کے لیے خدا سے جوڑنے کا ذریعہ بنے گی۔ معاملات میں خدا سے استخارہ کرے۔ استخارہ گویا کہ اپنے معاملات میں خدا کے ساتھ کا ونسلنگ (counselling) کرنا ہے، اور خدا کے ساتھ کا ونسلنگ کرنے والا کبھی بے راہ نہیں ہوتا۔ خدا اگر اس کو اس کے معاملے میں کوئی خواب دکھادے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کے پرچے کو اس کے لیے آؤٹ کر دیا ہے، اب اس کے لیے کوئی دوسرا چوائس باقی نہیں رہا ہے۔ جس شخص کو خدا اس حد تک رہنمائی دے دے، اور پھر بھی وہ اس رہنمائی کو قبول نہ کرے تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا جرم ہوگا جو کسی بھی حال میں قابل معافی نہیں۔ خدا ایسے انسان سے کوئی عذر (excuse) قبول نہیں کرے گا، وہ اس کو ہمیشہ کے لیے اپنی قربت سے محروم کر دے گا۔

Printed page