Al-Risala · February 2011

تزکیہ کا متحرک

Al-Risala, February 2011, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کا نشانہ (goal) صالح نظام قائم کرنا ہے۔ اس صالح نظام کے لیے صالح افراد درکار ہیں۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے صالح افراد تیار کئے جائیں جو صالح نظام بنا سکیں۔ بات کہنے میں بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ تزکیہ کے پراسس کے لیے بلاشبہ قاتل کی حیثیت اس قسم کے تصورِ اسلام کے تحت کبھی تزکیہ کا عمل موثر طور پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اس امتحان کی دنیا میں انسان کو ایسے حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف تزکیہ کے خلاف اسباب موجود ہیں۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا عمل جاری کرنے کے لیے نہایت طاقت

و محرک(strong incentive) درکار ہے۔ اور طاقت و محرک وہی ہو سکتا ہے جس میں سارا فوکس اپنی ذات پر ہو، نہ کہ کسی خارجی نظام پر۔

حقیقی تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ تزکیہ کے بغیر وہ ہرگز کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ تزکیہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے طاقت و محرک کے بغیر کبھی کوئی شخص تزکیہ پر کار بند نہیں ہو سکتا۔ حقیقی تزکیہ کے لیے شدید محاسبہ درکار ہوتا ہے اور شدید محاسبہ کبھی کسی خارجی نظام کی نسبت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا— اس قسم کا گہرا محرک کسی شخص کے اندر صرف اُسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ تزکیہ اس کے لیے ایک انتہائی ذاتی مسئلہ ہو، نہ کہ کوئی خارجی مصلحت یا دُور کی کوئی ضرورت۔ نظام ایک خارجی چیز ہے جس کا تعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا حوالہ کسی آدمی کے اندر طاقت و محرک بن کر داخل نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہمیشہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی کی زندگی میں شامل ہوتا ہے، نہ کہ کسی خارجی نظام کے حوالے سے۔ تزکیہ تیاری کا عمل موجودہ مادی دنیا میں ہر آدمی کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے جس کو جاب(job) کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو ایک اچھا جاب ملے ۔ اس کے لیے ہر آدمی اپنے آپ کو جاب مارکیٹ کے تقاضے کے مطابق، ایک تیار انسان(professionally prepared person) بناتا ہے۔ اس اعتبار سے اپنے آپ کو تیار نہ کر سکے، وہ ساری عمر کے لیے ایک نا کام انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی معاملہ شدید تر انداز میں آخرت کی دنیا کا ہے۔ آخرت کی دنیا نہایت اعلیٰ قسم کی ربانی سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوگا جو موجودہ دنیا میں اس کے مطابق تیاری کرے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے ایک تیار انسان(spiritually prepared person) جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس پہلو سے تیار نہ کر سکے، وہ آخرت میں ایک نا کام انسان بن کر رہ جائے گا۔

یہ سارا معاملہ لیاقت (competence) کا معاملہ ہے۔ ایک قسم کی لیاقت دنیا میں کام آتی ہے اور دوسری قسم کی لیاقت آخرت میں کام آئے گی ۔ دنیا میں بظاہر شرک کام آتا ہے، آخرت میں توحید کام آئے گی ۔ دنیا میں اپنے آپ کو کنسرن (concern) بنانا کام آتا ہے، آخرت میں خدا کو کنسرن بنانا کام آئے گا۔ دنیا میں چیزوں کو مادی اینگل (material angle) سے دیکھنا کام آتا ہے، آخرت میں چیزوں کو اسپرچول اینگل سے دیکھنا کام آئے گا۔ دنیا میں مفاد پرستی کام آتی ہے، آخرت میں وہ شخص کامیاب ہوگا جو اپنے آپ کو ایک اصول پسند انسان ثابت کرے۔ دنیا میں بظاہر بد دیانتی (dishonesty) کام آتی ہے، آخرت میں دیانت داری (honesty) کام آئے گی ۔ دنیا میں حُبِ عاجلہ (immediate interest) کا مزاج کام آتا ہے، آخرت میں وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے حب آخرت کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کی ہو۔

تزکیہ کا مطلب اپنے آپ کو آخرت کے اعتبار سے تیار کرنا ہے، یعنی اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنا جو موت کے بعد آنے والی دنیا میں آدمی کے کام آئیں۔

Printed page