تزکیہ ذریعہ قربت
Al-Risala, February 2011, pp. 41–43
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان مخلوق ہے اور خدا اس کا خالق ہے۔ اس لحاظ سے انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو، مگر مختلف چیزیں انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہیں۔ منفی سوچ، وغیرہ۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر پاک کیا آدمی جیسے ہی اپنے آپ کو اس قسم کے غیر ربانی جذبات سے پاک کرتا ہے، اچانک وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو گیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔
خدا سے گہری قربت صرف اُس وقت ہو سکتی ہے جب کہ انسان خدا کو اس کے اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ دریافت کرے۔ مثلاً ہر انسان دنیا میں رہنے کے لیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ یہ چیزیں اس نے خود نہیں پیدا کی ہیں، اس کا ایک دینے والا ہے اور وہ دینے والا بلا شبہ خدا ہے۔ ہی وہ ہستی ہے جو اس کا واحد منعم اور معطی (giver) ہے۔ یہ بلا شبہ خدا کے ایک طرفہ انعامات ہیں جن
کی بنا پر وہ اس دنیا میں زندہ اور قائم ہے۔ ایک لمحہ کے لیے اگر اس یک طرفہ عطیہ کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔
جب ایک انسان اس طرح خدا کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے فطری نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روح کے اندر خدا سے محبت کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ وہ اُس حقیقت کی تصویر بن جاتا ہے جس کو قرآن میں: والذین آمنوا أشد حبًّا لله (165: 2) کے الفاظ میں بیان کیا گیا قرآن میں سجدہ قربت (96: 19) کا ذکر ہے۔ یہ سجدہ قربت کیا ہے۔ یہ سجدہ قربت دراصل اُس انسان کا سجدہ ہے جو اپنے رب کے لیے محبت اور خشیت سے سرشار ہو اور اس سرشاری کے تحت وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑے۔ اس قسم کا سجدہ ایک مومن کے لیے گویا کہ تزکیہ کی معراج ہے۔ تزکیہ اور موت کی یاد تزکیہ کے عمل کے لیے موت کی یاد بہت طاقت ور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد تزکیہ کو فی الفور کرنے کے ایک کام کی حیثیت دے دیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر اس پہلو سے ایک سینس آف ارجنسی (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ تزکیہ کے عمل میں تاخیر کا تم تحمل نہیں کر سکتے، تزکیہ کا کام آج کر ڈالو، کیوں کہ کل کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ تمھارے لیے موت کا دن ہوگا یا زندگی کا دن۔
موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم پر کسی بھی لمحہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تم مر جاؤ گے۔ اس کے بعد تم کو اُس سنگین صورت حال کا سامنا پیش آنے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یوم يقوم الناس لرب العالمين (6: 83) یعنی مالک کائنات کے سامنے انسان کا کھڑا کیا جانا۔ یہ وہ دن ہوگا جب کہ فرشتے انسان کو لے جا کر خدا کے سامنے پیش کر دیں گے۔ ہر کھلے اور چھپے کو جانتا ہے، وہ انسان سے اُس کے قول و عمل کا حساب لے گا۔ ایک حدیث کے مطابق، انسان کے قدم اُس وقت تک اللہ کے سامنے سے نہیں ہٹیں گے جب تک وہ اللہ کے سوالات کا جواب نہ دے (لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يُسأل عن أربع)۔
موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس نازک ترین لمحہ کو یاد کرے۔ اُس آنے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہے جو بہرحال اُس پر آئے گا۔ اُس دن اُس کے ابدی مستقبل (eternal future) کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ سوچ بلاشبہ ایک ایسی سوچ ہے جو آدمی کے اندر زلزلہ پیدا کردے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص اس طرح موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے تزکیہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہوجائے گا۔ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ وہ ہر پہلو سے اپنا تزکیہ کر ڈالے، اس سے پہلے کہ اُس پر موت آئے اور اس کے لیے اپنی اصلاح کا وقت باقی نہ رہے۔