تزکیہ کا مقصد
Al-Risala, February 2011, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الزمر میں اہل جنت کے معاملہ کو اس طرح بتایا گیا ہے: ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور جنت کے محافظ اُن سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، خوش حال رہو، پس تم جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے۔ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اُس نے ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند‘‘۔ الحمد للہ رب العالمین کی آیت سورہ الفاتحہ میں موجود دنیا کی نسبت سے آئی ہے۔ کے مذکورہ اقتباس میں یہ آیت دوبارہ آخرت کی دنیا کے لیے آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد خداوندی ہے۔ یہی چیز موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے اور آخرت میں بھی یہی چیز مطلوب ہوگی۔ تزکیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایسی پاک روحیں (purified souls) وجود میں آئیں جو آخرت میں مبنی بر حمد نظام حیات کا حصہ بن سکیں۔
موجودہ دنیا میں انسان کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ایک تہذیب (civilization) کو وجود میں انسان نے بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا، حجری دور (stone age) سے آغاز کر کے اُس نے اس کو الیکٹرانک دور (electronic age) تک پہنچا دیا۔ یہ کام فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے کے ذریعہ انجام پایا، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انسان نے ایک صحیح کام میں غلط کام کو ملا دیا۔ فطرت کی طاقتوں پر قابو پانے کے بعد وہ سرکش بن گیا، اس نے استبدادی نظام (despotic system) قائم کیا، اس نے آزادی کے نام پر انارکی (anarchy) پھیلائی، اس نے فیشن کے نام پر عریانیت (nudity) کو رواج اس لیے قیامت میں یہ ہوگا کہ صالح لوگوں کو منتخب کر کے ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ربانی تہذیب کو زیادہ بہتر طور پر قائم کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105: 22)
حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی معرفت کا ایک سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے لے کر آخرت تک چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں معرفت کا سفر محدود طور پر انجام پاتا ہے، آخرت میں معرفت کا سفر لامحدود طور پر جاری رہے گا۔ اس سفر کو کامیابی کے ساتھ وہی شخص طے کر سکتا ہے جو اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندروں کو اور ان کے برابر مزید سمندروں کو سیاہی (ink) بنا دیا جائے اور دنیا کے تمام درختوں کو قلم بنا دیا جائے اور پھر اللہ کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے (27:31)۔
یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ان کلمات کو دریافت کریں اور اس طرح وہ اپنی معرفت کو مسلسل قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمين (1:1) یہ آیت بھی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ انشاء ہے۔ یہ آیت دریافتِ معرفت کے دنیوی آغاز کو بتاتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں آخرت کے حوالے سے یہی آیت اس طرح آئی ہے: وقيل الحمد لله رب العالمين
(39: 75) ۔ یہ دوسری آیت دریافت معرفت کے اگلے مرحلے کو بتاتی ہے جو آخرت کے زیادہ بہتر ماحول میں ابد تک جاری رہے گا۔
ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) اس حدیث میں جس دینی تائید کا ذکر ہے، اس کا سب سے بڑا مصداق غالباً انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے سائنس دانوں کا عمل ہے۔ انھوں نے معرفت کے حصول کے لیے ایک سائنٹفک فریم ورک دیا۔ آخرت میں اس سفر معرفت کو جاری رکھنے کے لیے اہل ایمان کو زیادہ اعلیٰ درجے کے مؤدین حاصل ہوں گے۔ یہ ملائکہ ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: نحن أولياؤكم في الحياة الدنيا وفي الآخرة (31: 41)۔