Al-Risala · March 2012

تخریب کے بعد تعمیر

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ آپ کے مشن کو سخت مزاحمت کا سامنا پیش آیا۔ حالات کے تقاضے کے تحت 622 عیسوی میں آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مکہ کے برعکس، مدینہ میں آپ کو نہایت موافق حالات ملے۔ مدینہ میں کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ مدینہ میں ایسا کیوں ہوا، اس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: کان یوم بُعاث یوماً قدّمہ اللہ لرسولہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3777) یعنی جنگ بُعاث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک خدائی رحمت کی حیثیت رکھتی تھی:

The battle of Bu'ath was a blessing in disguise for the Prophet of Islam. مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے — اَوس اور خزرج۔ قبائلی مزاج کے مطابق، ان دونوں کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا رہتا تھا۔ ہجرت کے پانچ سال پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان ایک خوں ریز جنگ ہوئی۔ اس جنگ کو’’جنگ بُعاث‘‘کہا جاتا ہے۔

اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے افراد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اس کے بعد اہل یثرب کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) پیدا ہوا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھنے لگے کہ اُنہیں با عزت زندگی حاصل کرنے کے لیے تشدد پر مبنی آئیڈیالوجی کے بجائے، امن پر مبنی آئیڈیالوجی درکار ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کہ اسلام کی دعوت مدینہ پہنچی اور وہ تیزی سے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوگئی۔

تقریباً یہی صورتِ حال ریاست جموں وکشمیر میں پیش آئی ہے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد اس ریاست میں جلسوں اور مظاہروں کی صورت میں’’جہادِ کشمیر‘‘شروع ہوا۔ ایک عرصے کے بعد اس تحریک نے تشدد کی صورت اختیار کر لی۔ ایک طرف، کشمیری مجاہدین تھے اور دوسری طرف،

یہ ایک نامساوی تصادم تھا۔ چناں چہ فطری طور پر ایسا ہوا کہ کشمیر کے لوگ بڑی تعداد میں مسلح تصادم کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے، اُس نے کشمیر کو ہر پہلو سے شدید نقصان تعلیم اور سیاحت اور اقتصادیات اور دوسرے سماجی ادارے نا قابل تلافی حد تک تباہ ہوگئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اہل کشمیر کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اُن کے اندر بڑے پیمانے پر نظرثانی (rethinking) کا عمل جاری ہوگیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب اہل کشمیر نے مسلح ٹکراؤ کو چھوڑ دیا، اور انھوں نے پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کر لیا۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں قدیم طرز کی ملٹنسی (militancy) تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ اب اہل کشمیر، ون مین ٹو مشن (one man, two mission) کا کلچر اختیار کر رہے ایک طرف، وہ تعلیم اور تجارت جیسے شعبوں میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف، وہ پر امن دعوت کو اپنا دینی فرض سمجھ کر دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں۔ حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ کنعان (فلسطین) میں پیدا ہوئے، پھر مخصوص حالات کے تحت وہ مصر پہنچے۔ یہاں اُس وقت ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ حضرت یوسف کے اس قصے کو قرآن میں احسن القصص (best story) کہا گیا ہے۔ اسی طرح، حضرت محمد ایک اسماعیلی پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ کے زمانے میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس واقعہ کو فتح مبین (1 : 48) کہا گیا ہے۔

یہ دونوں واقعات دو پیغمبروں کے نمونے ہیں۔ ان دونوں واقعات سے مشترک طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی جدوجہد کا کامیاب فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے ــــــ سیاسی معاملے میں ایک طرف صلح، اور دعوت کے میدان میں پر امن جدوجہد :

Printed page