Al-Risala · March 2012

Political statusquoism, Dawah activism

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ بادشاہ نے حضرت یوسف کو یہ پیش کش کی کہ وہ بادشاہ کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کے انتظام (administration) کا عہدہ قبول کرلیں ۔ قرآن میں اس کے لیے دِیْنِ مَلِک کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوں گا:

You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis, 41:40)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میں ہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبر اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں ، معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ، پیغمبر اسلام نے قریش کی قائدانہ حیثیت کو تسلیم کرلیا، اور قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے آپ نے اُن سے 10 سال کا جنگ معاہدہ (no-war pact) کرلیا۔ اس معاہدے کے مطابق ،قریش کی قائدانہ حیثیت برقرار رہی، اور آپ کو پر امن دعوت کے لیے کھلے مواقع مل گئے۔

یہی اجتماعی کام کا پیغمبرانہ ماڈل ہے۔ اہلِ کشمیر اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اسی پیغمبرانہ ماڈل کی پیروی کرنی ہے۔ یہی واحد ماڈل ہے جس کی پیروی کر کے مسلمان دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل اس کے سوا کوئی دوسرا ماڈل اس دنیا میں قابلِ عمل نہیں۔

اس کے مطابق، اہل کشمیر اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ وہ مسلح جدوجہد (armed struggle) کے لفظ کو اپنی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لیے نکال دیں۔ وہ نفرت پر مبنی لٹریچر کو جلا دیں، وہ ٹکراؤ کی سیاست کو کامل طور پر چھوڑ دیں، وہ اپنے تمام ہتھیاروں کو ہمیشہ کے لیے دریا میں پھینک دیں، وہ دوسرے انسانوں کے حریف (rival) بننے کے بجائے، دوسرے انسانوں کے خیر خواہ (well-wisher) بن جائیں، وہ دل سے انسان دوست کلچر

(human-friendly culture) کو اختیار کرلیں، ایسا کرنا اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے، خدا کی صراط مستقیم پر چلنا ہوگا، اور جولوگ اپنی خواہش کا اتباع چھوڑ دیں اور وہ خدا کی صراط مستقیم کے پیرو بن جائیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے اور آخرت کی سعادت بھی۔ سنت رسول کے خلاف 1947 کے بعد کشمیر میں پرشور کشمیری جدوجہد شروع ہوئی۔ ابتداً وہ جلسہ جلوس اور پرامن مظاہرہ کی شکل میں تھی، مگر ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد کشمیریوں میں تشدد کا مزاج پیدا اکتوبر 1989 میں کشمیریوں نے پرامن طریق کار کو چھوڑ کر مسلح طریق کار کا راستہ اختیار کر لیا۔ اب ہر طرف گن کلچر اور بم کلچر نظر آنے لگا۔

کشمیری تحریک کے اس نئے موڑ سے صرف چند ماہ پہلے میں سری نگر گیا تھا۔ 29 جون 1989 کوسری نگر کے ٹیگور ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا آڈیو کیسٹ اب بھی اس تقریر میں، میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک عرب بدو مدینہ آیا۔ وہاں اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ صحابہ نے اس کو پکڑ کر اس کی سرزنش کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس سے منع کر دیا۔ آپ نے کہا کہ جہاں اس نے گندا کیا ہے، وہاں تم پانی بہا کر اس کو صاف کر دو (صحیح البخاري، رقم الحديث: 5679)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلوک کا عرب بدو پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنے قبیلے میں جا کر لوگوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو اس کا قبیلہ اتنا متاثر ہوا کہ جلد ہی پورا قبیلہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد میں نے کہا کہ یہ پیغمبر اسلام کا پیغمبر اسلام نے اپنا مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا، آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد خون بہا کر حاصل کریں ۔ ایسا ہونا خدا کی اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔

بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ 29 جون 1989 کو اللہ کی توفیق سے جو الفاظ میں نے کہے تھے، وہ کشمیر میں ایک واقعہ بن گئے۔ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد سے صرف اُن کے نقصان میں اضافہ ہوا،

اس سے ان کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکو۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان یوٹرن (U-turn) لیں، وہ پرتشدد قومی جدوجہد کے بجائے پرامن دعوتی جدوجہد کو اپنا نشانہ بنائیں۔ تاریخ کو انتظار ہے قرآن کی سورہ یونس میں یہ آیت آئی ہے: والله يدعوا إلى دار السلام (10:25) یعنی اللہ بلاتا ہے امن کے گھر کی طرف (And God calls to the home of peace.) اسی طرح، قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: أفغير دين الله يبغون، وله أسلم من في السماوات والأرض طوعاً وكرهاً، وإليه يُرجعون (3:83) یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ کے دین کے تابع ہے، وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے، اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مطلوب دین امن کا دین ہے۔ ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں کامل امن قائم ہے۔ اسی طرح، نباتات اور حیوانات کی دنیا میں بھی امن کا کلچر موجود ہے۔ یہی امن کا کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اسلام کا مدعا یہ ہے کہ لوگ اس امن کلچر پر قائم ہوں، کیوں کہ تمام مثبت سرگرمیاں اُسی سماج میں کامیابی کے ساتھ جاری ہوتی ہیں جہاں امن کا ماحول قائم ہو۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف، عالمی میڈیا کا دور آیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ عین اِسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد (armed struggle) میں مشغول ہوگئے ۔ اِن سرگرمیوں کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ ساری دنیا میں اسلام، تشدد کا مذہب (violent religion) سمجھا جانے لگا۔

یہ بے حد سنگین صورتِ حال ہے۔ اِس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کی اِس منفی تصویر (negative image) کو بدلا جائے۔ عالمی میڈیا کا امیج بلڈنگ (image building) کا ذریعہ بنایا جائے، یعنی اسلام کو اِس حیثیت سے نمایاں کیا جائے کہ وہ لوگوں کو مذہب تشدد (religion of violence) کے بجائے، مذہب امن (religion of peace) نظر آنے لگے۔

اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں میں کم از کم کوئی ایک گروہ ایسا اٹھے جو اسلام کی متشددانہ تصویر کو بدلے، جو اس بات کا ذریعہ بنے کہ خدا کا دین لوگوں کو امن اور رحمت کا دین دکھائی دینے لگے، جو اب تک لوگوں کو صرف نفرت اور تشدد کا دین نظر آ رہا ہے۔ یہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم ترین جو مسلم گروہ اس سعادت کا حق دار بنے گا، وہ بلاشبہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عظیم انعامات کا مستحق قرار پائے گا۔ اس مقصد کو کوئی ایسا مسلم علاقہ انجام دے سکتا ہے جو بروقت عالمی میڈیا میں آ چکا ہو۔ موجودہ زمانے میں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جو عملاً عالمی میڈیا میں آ چکے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ غالباً صرف ایک مسلم علاقہ ہے جو اس واقعے کو ظہور میں لاسکتا ہے۔ راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ مختلف اسباب سے یہ علاقہ بالفعل عالمی میڈیا میں آ چکا ہے۔ مگر ابھی وہ متشددانہ اسلام (violent Islam) کے اعتبار سے، عالمی میڈیا میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف یہ کہ اہل کشمیر اپنی اس حیثیت کو دریافت کریں اور اس کو مثبت معنوں میں وہ اسلام کی امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کریں۔

یہ عظیم سعادت اہل کشمیر کو اُس وقت حاصل ہوگی، جب کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو دریا میں پھینک دیں، اور اعلان کے ساتھ دنیا کو یہ بتا دیں کہ اب انھوں نے متشددانہ کلچر کو چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے سوچ سمجھ کر پر امن طریقہ اختیار کر لیا ہے، جو کہ اصل اسلام کا طریقہ ہے۔ اہل کشمیر کا یہ فیصلہ فی الفور عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) بن جائے گا۔ یہ ایک عظیم کریڈٹ ہے جو کسی مستحق گروہ کا انتظار کر رہا ہے، اور اہل کشمیر بلاشبہ یہی گروہ بن کر اس کریڈٹ کا استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد وہ حالات پیدا ہو گئے۔ جب کہ عرب میں اسلام کی امیج (image) اُس سے مختلف نظر آنے لگی جو کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق اُٹھے۔ انھوں نے کہا: أينقص الدين، وأنا حي (هداية الرواة لابن حجر العسقلاني، رقم الحديث : 3031) کیا دین میں نقص آئے گا، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔

اس کے بعد اللہ تعالی کی مدد آئی اور حالات بہت جلد درست ہوگئے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اہل کشمیر کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ ــ ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا ہم دوبارہ دنیا کو بتائیں گے اسلام رحمت اور امن کا مذہب ہے ۔ جس دن اہل کشمیر متحد ہو کر یہ کہیں گے ، اُسی دن اللہ کی مدد ٹوٹ پڑے گی اور اسلام دوبارہ مذہب امن کی حیثیت سے عالمی سطح پر اپنی جگہ حاصل کر لے گا۔

کشمیر دھماکہ (Kashmir explosion)

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 622 عیسوی میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحيح البخاري، رقم الحديث: 1748) یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوت توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے ۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا ۔

موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر (image) ایک متشددانہ مذہب کی بن گئی ہے۔ اور بیسویں صدی میں، اسلام کی یہی منفی تصویر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے جب کہ اسلام کی پرامن تصویر دنیا کے سامنے آئے۔ میڈیا کے دور میں اس مقصد کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) درکار ہے۔ سپر بریکنگ نیوز ہی اکیسویں صدی میں، اسلام کو دوبارہ ایک پرامن مذہب کی صورت میں دنیا کے سامنے نمایاں کر سکتی ہے۔ غور کیا جائے تو آج کی دنیا میں کشمیر وہ واحد مقام ہے جہاں سے اس بریکنگ نیوز کا آغاز پچھلے برسوں میں کشمیر میں اسلام کے نام پر متشددانہ تحریک چلی، تاہم اس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ میڈیا کے دور میں کشمیر عالمی نیوز میں آگیا۔ اب اگر کشمیر میں پر امن اسلام کی

دعوت ابھرے تو اچانک یہ ہوگا کہ کشمیر عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز بن جائے گا۔ کشمیر وہ مقام تعارف بن جائے گا جہاں سے دنیا کو اس واقعہ کی خبر ملے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، وہ تشدد کا مذہب نہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لیے اس کریڈٹ کا ملنا مقدر ہو چکا ہے۔ آج اسلام کو ایک پر امن دھما کہ (peaceful explosion) کی ضرورت ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ غالباً کشمیر وہ مقام ہے جس کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں اسلام کے اس پر امن دھما کے کا مقام بنے۔ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تاریخ کو آج سب سے زیادہ انتظار ہے۔

Printed page