Al-Risala · March 2012

امن کی اہمیت

Al-Risala, March 2012, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: الصلح خیر (128: 4) یعنی صلح زیادہ بہتر ہے۔ صلح کیا ہے، صلح دراصل امن کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔ جہاں صلح ہے، وہاں امن ہے اور جہاں صلح نہیں، وہاں امن بھی نہیں۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کو خیر اعلیٰ کا درجہ حاصل ہے۔ عام طور پر لوگ انصاف (justice) کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی حیثیت صرف ایک تصوراتی معیار کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تصوراتی معیار عملاً کس طرح اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ امن کے ذریعے ۔ امن کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے مواقع کھلتے ہیں۔ انصاف کسی کو خود بخود نہیں ملتا۔ انصاف کسی گروہ کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ مواقع کو پہچانے اور اس کو دانش مندانہ طور پر استعمال (avail) کرے ۔ موجودہ زمانے میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک اپنا مطلوب انصاف پانے میں نا کام ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے طریق کار (method) کی غلطی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ساری اہمیت طریق کار کی ہے۔ کوئی صحیح مقصد بھی غلط طریق کار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں اہل کشمیر یا کسی غیر اہل کشمیر کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

کوئی گروہ جو انصاف کا طالب ہو، اُس کو سب سے پہلے اپنے یہاں امن قائم کرنا چاہیے۔

امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کو ہر حال میں قائم کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ امن کبھی دوطرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، امن ہمیشہ یک طرفہ صبر کی بنیاد پر قائم اس کے سوا، امن کے قیام کا کوئی اور طریقہ نہیں۔

فطرت کا نظام، مواقع (opportunities) پر مبنی ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مواقع وافر مقدار میں موجود رہتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کا ماحول ان فطری مواقع کے لیے ٹریپ ڈُور (trap door) کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے پہلے نفرت اور تشدد کے ٹریپ ڈُور کو ہٹائے۔ اس ٹریپ ڈُور کے ہٹتے ہی مواقع ایک سیلاب کی طرح اُمڈ پڑتے ہیں۔ یہ مواقع اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیکولر بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔

مواقع کا سیکولر استعمال یہ ہے کہ لوگ تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو جائیں اور کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے وہ ہرقسم کی ترقیاں حاصل کریں۔ مواقع کا دینی استعمال یہ ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں، وہ دعوت کے مشن میں سرگرم ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ خدائی انعامات کا مستحق بنائیں—اس معاملے میں اہل کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کے لیے یہ عظیم موقع ہے کہ وہ اپنی ریاست میں امن قائم کریں اور لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا کر، خدا کے عظیم انعامات کے مستحق بنیں۔

Printed page