Al-Risala · March 2012

کشمیر کا مستقبل

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

1947 کے بعد ریاست جموں وکشمیر ایک پرابلم اسٹیٹ (problem state) بن گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانکا (1984) نے اس واقعے کو تاریخ کا اتفاق (accident of history) بتایا ہے (9/32 EB)۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ 1947 کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ سادہ معنوں میں صرف’’ تاریخ کا اتفاق‘‘ نہ تھا، بلکہ وہ خدا کا ایک فیصلہ (verdict of God) تھا۔ بظاہر اس اتفاقی واقعے کے پیچھے خدا کی ایک عظیم مصلحت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ اکیسویں صدی میں، ریاست جموں وکشمیر اس حقیقت کا عنوان بنے کہ اسلام تشدد کا مذہب (religion of violence) نہیں،

اسلام پورے معنوں میں، امن کا مذہب (religion of peace) ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ مسائل (problems) انسانی زندگی میں ہمیشہ مثبت رول ادا کرتے ہیں۔ مسائل کے بغیر انسانی زندگی جمود (stagnation) کا شکار ہو جاتی ہے۔ مسائل کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بناتے ہیں۔ مسائل، انسانوں کے اندر نئی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ مسائل ہمیشہ بہتر مستقبل کی تمہید ہوتے ہیں۔ مسائل کی حیثیت زندگی میں، زحمت میں رحمت (blessing in disguise) حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ جو مسائل پیش آئے، وہ اس کی بہتری کے لیے تھے، اور یہ بہتری ریاست میں اب واقعہ بنتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے حالات نے وہاں کے لوگوں کے اندر اپنے بارے میں نظر ثانی کا ذہن پیدا کیا ہے۔ اب ریاست کے لوگ پہلے کے مقابلے میں، زیادہ حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ انھوں نے تشدد کے بجائے امن کی طرف اپنا نیا سفر شروع کر دیا ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے باہر آگئے ہیں، اور وہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ تجربے کی روشنی میں، انھوں نے روماوی سیاست کو چھوڑ دیا ہے، اور حقیقت پسندانہ تعمیر کے راستے پر اپنا نیا سفر شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بے فائدہ ہنگاموں کے بجائے، نتیجہ خیز عمل کا راز دریافت کر لیا یہ اعلیٰ اوصاف بلاشبہ کشمیر کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

Printed page