امن کی طاقت زیادہ
Al-Risala, March 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
2 دسمبر 2009 کی شام کو دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹر بٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ آج کل افغانستان میں رہتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام اور امن کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پشتو اور فارسی زبان اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے وہ کامیابی کے ساتھ وہاں پر امن دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خودکش بم باری کیوں کرتے ہیں ۔
افغانی انتہا پیسندوں نے کہا کہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اس لیے ہم مجبور ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کے پاس جو ہتھیار ہے، اس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اس طرح تھی: افغانی : جواب اسلحہٰ آنہا پیش ما نیست، مسٹر بٹ : جواب اسلحہ شما پیش آ نہا نیست انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کر رہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنّ اللہ يعطى على الرفق، مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی خدا پر امن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد 6 ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتح مبین (48:1) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔ چشمے کا سبق کشمیر کے ایک سفر میں، میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ میں کچھ کشمیری ساتھیوں کے ہم راہ شہر سے باہر گیا۔ وہاں کھلی ہوئی وادی تھی۔ سامنے کے پہاڑ سے چشمے بہہ کر آ رہے تھے اور وادی میں بہتے ہوئے وہ آگے کی طرف چلے جا رہے تھے۔ ان چشموں کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آ رہے تھے، لیکن چشمہ ان پتھروں سے ٹکرائے بغیر اپنا راستہ بدل کر آگے کی طرف بڑھ میں وہاں بیٹھ گیا اور خاموشی کے ساتھ بہتے ہوئے چشمے کے اس منظر کو دیکھتا رہا۔ میں نے اپنے کشمیری ساتھیوں سے کہا کہ دیکھئے، پانی کے یہ چشمے ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنا سفر جاری کئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ اس کے برعکس، آپ ٹکراؤ کے ذریعے اپنا مقصد
حاصل کریں تو آپ کبھی اس میں کامیاب نہ ہوسکیں گے، یہ خدا کا قانون ہے اور خدا کے قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی (43: 35)۔
پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں خدا کا قانون عدم ٹکراؤ کے اصول پر قائم ہے۔ خلا کے تمام ستارے اور سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی تعمیری مقصد صرف پرامن طریقہ کار کے ذریعے حاصل ہو، اس دنیا میں پرتشدد طریقہ کار کے ذریعے کوئی بھی مفید نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے کہا کہ اہل کشمیر نے 1947 کے بعد اپنے مقصد کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ ایسا طریقہ خدا کی اس دنیا میں مکمل طور پر ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ ایسے کسی طریقے کے لیے پیشگی طور پر فطرت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہ ہو۔ جمعہ کا دن، فساد کا دن ایک کشمیری مسلمان سے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے قرآن کو پڑھا ہے۔ سورہ الجمعہ میں بتایا گیا ہے کہ : اے مسلمانو، جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تم اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تا کہ تم کامیاب ہو: When the prayer is ended, then disperse in the land and seek of God's grace, and remember God much, that you may be successful. (62: 10)
قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ ہندو نے کہا کہ آپ کے قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلیں تو آپ، لوگوں کو خدا کی رحمت بانٹیں، اور آپ لوگوں کا حال یہ ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلتے ہیں تو آپ نعرہ اور جلوس کی سیاست چلاتے ہیں، نفرت کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کے اوپر پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا کر کے آپ لوگ خود اپنے دین کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
یہ تبصرہ صرف کشمیر کے مسلمانوں پر نہیں، بلکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔
آج کل ہر ملک کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ انھوں نے جمعہ کے دن کو نفرت اور تشدد کی باتوں کا دن اُن کا تقریباً ہر رہنما جمعہ کے اجتماع کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ بہت خطرناک علامت ہے۔ یہ خدا کے دین کو اپنے قومی اور سیاسی مقصد کے لیے استعمال یہ عین وہی چیز ہے جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے۔ قرآن کے مطابق، یہ روش یہود کے لیے خدا کے غضب کا سبب بنی۔ اگر مسلمان اِس روش کو اختیار کریں تو وہ یقینی طور پر اِس کے شدید انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اِس معاملے میں کسی بھی قوم کا کوئی استثنا نہیں۔ عمر ضائع ہوگئی کشمیر کے ایک مشہور عالم کا واقعہ ہے۔ ان کو’’مفکر کشمیر‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ کشمیر کی سیاسی تحریک میں ایک رہنما کی حیثیت سے شامل تھے۔ 13 دسمبر 1990 کو کشمیر میں ان کو کچھ مسلم نوجوانوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 87 سال تھی۔
28 نومبر 2011 کی ایک ملاقات میں کشمیر کے ایک مسلمان نے مجھ کو بتایا کہ مذکورہ عالم کی وفات سے کچھ پہلے انھوں نے راقم الحروف کی کتاب ’’الاسلام‘‘ اُن کو پڑھنے کے لیے دی تھی۔ ایک ملاقات میں مذکورہ عالم نے کہا کہ مجھے اِس کتاب سے پورا اتفاق ہے۔ اِس کتاب کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنی ساری عمر ضائع کردی۔ کاش، یہ کتاب مجھے پہلے مل گئی ہوتی۔ مذکورہ عالم کا یہ قول اہل کشمیر کے لیے اُن کی طرف ’’کلمٔہ باقیہ‘‘ (آخری نصیحت) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ عالم کی زندگی میں اہل کشمیر نے اُن کے سیاسی مشورے کو اختیار کیا تھا۔ اب اہل کشمیر کو چاہیے کہ وہ اِسی طرح ان کے اسلامی مشورے کو اختیار کرلیں، یعنی اہل کشمیر تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کر لیں ۔ وہ سیاست کے طریقے کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کر لیں ۔ ایک فارسی شاعر کی زبان سے مذکورہ عالم کی روح اہل کشمیر سے کہہ رہی ہے میں سیاست سے پر ہیز نہ کر سکا، تم لوگ سیاست سے پر ہیز کرو :
من نہ کردم، شما حذر به کنید!