جنت کا دروازہ
Al-Risala, March 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
شہنشاہ جہاں گیر (وفات: 1627) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ کشمیر گیا۔ کے خوب صورت مناظر کو دیکھ کر جہاں گیر نے کہا— دنیا میں اگر کوئی جنت ہے تو وہ صرف کشمیر ہے: اگر فردوس بر روئے زمین است همین است و همین است و همین است یہ شعر اس مفہوم میں درست نہیں کہ کشمیر خود جنت الفردوس کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ ایک اور معنی میں یہ شعر درست ہے، وہ یہ کہ کشمیر قدرت کی طرف سے مہیا کردہ ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) ہے۔ اس پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے کوئی شخص جنت کی پہچان حاصل کر سکتا ہے اور اس کے حوالے سے کوئی شخص اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق بنا سکتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جب جنت کی نعمتیں ملیں گی تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میں ملا تھا، اور جنت کا رزق دنیا کے رزق کے مشابہ ہوگا:
Whenever, they are given fruit to eat, they will say, 'This is what we were provided with before', they were given similar
موجودہ دنیا اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے (6: 47)۔ جنت کی دنیا ایک مکمل دنیا (perfect world) ہے، اور موجودہ دنیا جنت کی مانند ایک غیر مکمل دنیا (imperfect world)۔ یہ بات پورے سیارہ ارض کے لیے درست ہے۔ تاہم زمین کے بعض مقامات ایسے ہیں جہاں زمین کی یہ حیثیت بہت زیادہ نمایاں ہے۔ یہ زیادہ ممتاز طور پر جنت کی یاد دلانے والی ہے۔ انھیں مقامات میں سے ایک مقام بلاشبہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کشمیر کو درست طور پر ’’کشمیر، جنت نظیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک آدمی جس کے اندر جنت کا شعور زندہ ہو، وہ جب کشمیر کے خوب صورت مناظر کو دیکھے گا تو وہ پکار اٹھے گا کہ— خدایا، تو نے مجھے عارضی جنت کا منظر دکھا دیا، اب تو مجھے ابدی جنت میں داخل کر دے۔ اس اعتبار سے، کشمیر بلاشبہ ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ کشمیر کو دیکھ کر ایک باشعور انسان وہ دعا کر سکتا ہے جس کو حدیث میں، اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا کہا گیا ہے۔
مگر اس دعا کے لیے موافق ماحول ضروری ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں کسی کے اندر یہ ربانی دعا بل نہیں سکتی۔ کشمیر میں نفرت اور تشدد کا کلچر چلانے کا مطلب یہ ہے کہ اہل کشمیر کو ایک عظیم نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں لوگوں کی زبان سے صرف بد دعا نکلے گی، نہ کہ کوئی ربانی دعا۔ ایسے ماحول میں لوگوں کا دماغ منفی افکار کا جنگل بن جائے گا، جب کہ مذکورہ قسم کی اعلیٰ ربانی دعا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا دماغ مثبت افکار کا باغ بنا ہوا ہو۔ قرآن کے مطابق، جنت کامل معنوں میں ایک امن کی جگہ ہے (25 : 10)۔ امن کلچر کا چمنستان ہے۔ ایسی جنت میں تشدد پسند لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تشدد اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی آگ ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں آگ والی نفسیات کے ساتھ جئیں، اُن کے لیے شدید اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں بھی آگ کی دنیا میں ڈال دئے جائیں۔ قرآن کے مطابق، جنت کے باشندے کامل طور پر امن پسند ہوں گے (66 : 36)۔ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے صرف امن اور محبت کے جذبات ہوں گے۔ میں جنت میں بسانے کے لیے صرف اُنھیں لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جنھوں نے موت سے پہلے کی دنیا میں اس امن پسندانہ مزاج کا ثبوت دیا ہو۔ موجودہ دنیا ایک انتخاب گاہ (selection ground) موجودہ دنیا میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے جو کامل طور پر امن پسند ہوں اور جنت کے پرامن سماج میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو اہل کشمیر کو بھی سوچنے کی دعوت دیتی ہے، اور اسی طرح دوسرے مقام کے لوگوں کو بھی۔