ناشکری کا کلچر
Al-Risala, March 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
تشدد (violence) کیا ہے، تشدد ناشکری کا کلچر ہے۔ شکایت سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور تشدد آدمی کے اندر سے شکر کی نفسیات کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیتا ہے۔ ابلیس نے آغاز حیات میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو شکر کے راستے سے ہٹا دوں گا اور بیش تر انسانوں کو میں شکر نہ کرنے والا بنا دوں گا: ولا تجد أكثرهم شاكرين (17: 7)۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو تشدد کوئی سادہ بات نہیں۔ جس سماج میں تشدد کا کلچر ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہاں کے لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے۔ شیطان نے اُن کو بہکا کر، پہلے شکایت اور پھر تشدد کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تشدد ایک شیطانی کلچر ہے، اور تشدد جہنم کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے جھک جائے، مگر ابلیس، انسان کے آگے نہیں جھکا۔ ابلیس، جنات کا سردار تھا۔ ابلیس کو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہت سی چیزیں حاصل تھیں، مگر ایک چیز کے نہ ملنے پر وہ شکر کے راستے سے ہٹ گیا۔ یہی ناشکری ہے، اور ناشکری بلاشبہ ابلیس کی پیروی ہے۔
جب بھی کوئی فرد یا گروہ شکر کے راستے سے ہٹتا ہے اور نفرت اور تشدد کے راستے پر چلتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ کوئی ایک شکایت ہوتی ہے۔ اُس وقت بھی عملاً ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو 99 چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہے، لیکن ایک چیز کے نہ ملنے کو وہ اتنا بڑا مسئلہ بنا لیتا ہے کہ وہی ایک چیز اس کے دماغ پر چھا جاتی اسباب شکر کے ہجوم میں وہ شکایت کا جنگل بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ شیطان کا طریقہ ہے، خواہ اس کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔
کشمیر یا اس طرح کے دوسرے مقامات پر جہاں مسلمان سیاسی شکایت کو لے کر بے فائدہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ سب اس کی مثالیں ہیں۔ ان مقامات پر ایسا نہیں ہے کہ مسلمان کلی محرومی کا شکار ہوگئے ہوں۔ یہ لوگ کسی جزئی شکایت پر غیر ضروری طور پر حساس ہوگئے ہیں۔ یہی غیر ضروری حساسیت ان کا اصل مسئلہ ہے۔ اگر وہ اس غیر ضروری حساسیت کو ختم کردیں تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ ان کو اتنا زیادہ ملا ہوا ہے کہ انھیں شکر کی تحریک چلانا چاہیے، نہ کہ ناشکری اور شکایت کی تحریک۔ تشدد کی تزئین تشدد (violence) کامل معنوں میں ایک تخریبی عمل ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو کوئی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو اس کے حصے میں صرف تباہی آئی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی تعمیر۔ اس کے باوجود کیوں
ایسا ہے کہ لوگ بار بار تشدد کا فعل کرتے ہیں، لوگ بار بار متشددانہ کارروائی کرتے ہیں۔ اس کا سبب شیطانی تزئین (Satanic beautification) ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کا خاص طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں پیش کرتا ہے، وہ فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے (15:39)۔ شیطان لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس فرضی یقین میں مبتلا کرتا ہے کہ جو کچھ تم کرنے جارہے ہو، وہ تشدد نہیں ہے، بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو بتاتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔
اس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جو متشددانہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر تو بہ واستغفار کر کے اُس سے دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک مطلوب تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتا ہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتا ہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کر دیجیے۔ اس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پا سکے گا۔ جیسے فعل سے آپ کامل طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔