Al-Risala · March 2012

ملکہ سبا کا قصہ

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ النمل میں ملکہ سبا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ملکہ سبا (Queen of Sheba) کا زمانہ حضرت سلیمان کا زمانہ (932 ق م) ہے۔ اس کی حکومت قدیم یمن کے ساحلی علاقے میں قائم تھی۔ حضرت سلیمان، شام و فلسطین کے حکمراں تھے۔ حضرت سلیمان نے ایک مکتوب ملکہ سبا کو لکھا کہ تم یا تو سرینڈر کرو، یا ہماری فوج کشی کا سامنا کرو۔ اس کے جواب میں ملکہ سبا نے سرینڈر کا طریقہ اختیار کیا۔ کا سبب بتاتے ہوئے اُس نے کہا: ”بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو تباہ کر دیتے ہیں

اور وہ اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں، اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ ملکہ سبا کے اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہو جس میں ممکن انتخاب صرف دو چیزوں کے درمیان ہو—تباہی اور مصالحت، تو ایسی صورت حال میں، تباہی کے بجائے، مصالحت (adjustment) کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اُس وقت یہی اسلام کا طریقہ ہوگا۔ ملکہ سبا نے معاملے کو خالص حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم، مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کر لیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ اس طرح ہمارے تمام مفادات محفوظ رہیں گے۔

اس واقعے میں ایسے تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے جو کشمیر جیسی صورت حال سے دوچار یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایسے مقامات کے مسلمانوں کی سیاسی پالیسی کیا ہونا چاہیے، وہ پالیسی یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچائیں، تاکہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کر سکیں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ جو ملنے والا نہیں ہے، اُس کو پانے کی کوشش میں وہ ملے ہوئے کو بھی برباد کر دیں۔ دور تشدد کا خاتمہ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے زمانے میں کئی ملکوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً برطانیہ، جرمنی، جاپان، وغیرہ۔ مگر جنگ کے خاتمے پر ان سب ملکوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر لیا۔ یہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ اب انسانی تاریخ اُس مرحلے میں پہنچی ہے، جب کہ تشدد کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ کے لیے صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ پرامن طریقِ کار کا آپشن ہے۔ کوئی بھی عمل نتیجہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جو عمل مثبت نتیجہ نہ پیدا کرے، وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ عظیم میں یہی واقعہ پیش آیا۔ جو قومیں اس جنگ میں شریک تھیں، انھوں نے اس جنگ میں جان و مال کی بے شمار قربانیاں دیں، مگر نتیجے کے اعتبار سے، یہ قربانیاں ہر ایک کے لیے لاحاصل ثابت ہوئیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دورِ جدید میں جو ہتھیار ایجاد کئے گئے، وہ جنگ کے لیے مانع (deterrent) بن گئے ہیں، وہ جنگ کے لیے محرک (incentive) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ کے طور پر جرمنی اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں، جنگ کا طریقہ اختیار کر کے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے اپنی قومی جدوجہد کے لیے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور اس کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی اس کے باوجود ہوئی کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک حصہ مشرقی جرمنی (East Germany) کھو دیا تھا، اور جاپان اپنے ایک بڑے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) سے محروم ہو گیا تھا۔ کشمیر اور دوسرے علاقے، جہاں مسلمان تشدد کی تحریک چلا رہے ہیں، اُنھیں ان واقعات سے سبق لینا چاہیے۔ یہ واقعات محض کسی ملک کے واقعات نہیں ہیں، وہ فطرت کے قانون کو بتاتے ہیں۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ نفرت اور تشدد کے راستے پر چلیں، اُن کے حصے میں آخر کار صرف محرومی آئے، اور جو لوگ امن اور محبت کے راستے پر چلیں، اُن کو ہر قسم کی کامیابی ہو۔ مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمراں کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:

Printed page