Al-Risala · March 2012

Rebellion to a tyrant, obedience to God.

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہرگز اسلامی سیاست نہیں۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اس سیاست کا بانیٔ اول خود شیطان آج جو لوگ اس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلاشبہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں،

نہ کہ اسلام کی پیروی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیق انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی ــــ فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔

یہ انسانی تاریخ میں، اتھارٹی (authority) کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلا شبہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکرا کر کے پالکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔ عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہی ہے، اہل ایمان کے درمیان بھی اور غیر اہل ایمان کے درمیان بھی۔ اسی منفی سیاست کا یہ نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔

Printed page