Al-Risala · January 2012

The official language of CPS is English.

Al-Risala, January 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ امریکا کے لوگ بہت زیادہ پریکٹیکل ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ اختلاف کو فوراً ختم کردو اور آگے بڑھو۔ ایسے موقع پر ایک امریکی فوراً یہ کہہ دے گا: Let's move on, everything is ok!

آج کل دنیا میں ایمپاورمینٹ (empowerment) کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ ویمن ایمپاورمینٹ، کمیونٹی ایمپاورمینٹ، مسلم ایمپاورمینٹ، وغیرہ۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ـــــ سب سے زیادہ ضروری اسپرپچول ایمپاورمینٹ ہے:

The most important empowerment is spiritual empowerment. ایک صاحب نے پوچھا کہ اسپرپچول ایمپاورمینٹ کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ فارمولا بہت سادہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ـــــ منفی باتوں کو نظر انداز کیجئے اور ہر معاملے میں مثبت پہلو کو دریافت کرنے کی کوشش کیجئے:

Ignore negative experiences, and try to find positive items in everything. امریکا میں جو تارکین وطن (immigrants) ہیں، وہ عام طور پر فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ امریکا کو تارکین وطن نے ترقی دی ہے۔ ایک موقع پر کچھ اس قسم کے لوگوں نے یہ بات کہی۔ کہا کہ یہ صرف آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے۔ اگر آپ لوگ ایسے ہی تھے تو آپ لوگوں نے خود اپنے ملکوں کو ترقی کیوں نہیں دی۔ پھر میں نے کہا کہ امریکا کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ صرف میرٹ (merit) کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ یہاں کے ہر فرد کو یقین ہوتا ہے کہ اگر اس نے محنت کر کے اپنا جوہر دکھایا تو اس کو ضرور ترقی ملے گی۔ میں نے کہا کہ:

It was Mr. Incentive who developed America and not Mr. Immigrant. ایک موقع پر کچھ لوگوں سے جنت کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (46:6) ۔ جنت کی یہ پہچان کہاں ہوتی ہے۔ یہ پہچان اسی دنیا میں

میں نے کہا امریکہ میں ڈیولپمنٹ کاجوکام ہوا ہے، وہ گویا اسی قسم کا ایک کام ہے۔ امریکہ کے خوب صورت شہروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ: America is an introductory version of paradise. 17 جون 2011 کو جمعہ کا دن تھا۔ ہم لوگوں نے فلیڈیلفیا کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ امام صاحب نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ اس خطبے میں انھوں نے غیرمسلموں کے لیے بددعا کی اور عربی زبان میں اس طرح کے الفاظ کہے: اللهم أهلك الكفرة واليهود والمشركين ۔ میں نے سوچا کہ بات یہ ہے کہ مفروضہ دشمنوں کے لیے بددعا میں مسٹر اور مولوی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مشرق سے مغرب تک تقریباً ہر مسلمان اس میں مشغول ہے۔ اگر وہ منہ سے بددعا نہیں کرتا تو وہ اپنے دل میں منفی خیال لئے ہوئے ہے۔

ایک مجلس میں کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان مغربی قوموں کے لیے نیگیٹیو (negative) ہو گئے ہیں، اس لیے وہ ان قوموں کو اپنا مدعونہ بنا سکے۔ مغرب میں دعوت الی اللہ کے غیرمعمولی امکانات موجود ہیں، مگر مذکورہ منفی نفسیات کی بنا پر یہ امکانات واقعہ نہ کچھ لوگ بطور خود قرآن کو پڑھ کر اسلام قبول کر لیتے ہیں، لیکن خود مسلمانوں کے اندر حقیقی معنوں میں غیرمسلموں کے لیے کوئی دعوتی عمل موجود نہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کی فلاح کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن غیرمسلموں میں دعوت کے لیے حقیقی معنوں میں کوئی تحریک موجود نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں بہت زیادہ تکرار (repetition) ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تکرار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک پہلو کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہے۔ مثلاً قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ کئی بار بیان ہوا ہے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بار اس کا ذکر کسی نئے پہلو سے کیا گیا ہے۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو مائنڈ دیا گیا ہے۔ یہ مائنڈ حکمت (wisdom) کو دریافت کرنے کا لامتناہی خزانہ ہے۔

اس حکمت کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ میں نے کہا کہ :

Animal plus wisdom is man. Man plus wisdom is super animal. 18 جون 2011 کی صبح کو ہم لوگوں نے خواجہ کلیم الدین صاحب کی رہائش گاہ پر فجر کی نماز ادا نماز سے فراغت کے بعد لوگ بیٹھ گئے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے : من صلّی الصبح فھو فی ذمۃ اللہ (جس نے صبح کی نماز ادا کی، وہ اللہ کے ذمے میں آ گیا)۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں، بلکہ یہ ایک معلوم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ نماز آدمی کے اندر جو صفات پیدا کرتی ہے، وہ اس کے لیے ایک طرف شیطان سے اور دوسری طرف سماج سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر نماز کے شروع میں یہ کلمہ ادا کیا جاتا ہے : اللہ اکبر۔ یہ دراصل تواضع (modesty) کا اسی طرح نماز کے خاتمہ پر کہا جاتا ہے : السّلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اہل ایمان کے اندر دوسروں کے لیے سلامتی (peace) کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ دونوں صفات اخلاقی اعتبار سے بے حد اہم ہیں۔ جس آدمی کے اندر تواضع ہو، اور دوسروں کے لیے اُس کے دل میں سلامتی کا جذبہ ہو، ایسا آدمی اپنے آپ سماج کا سب سے زیادہ مطلوب انسان بن جائے گا۔ اس کا یہ کردار اس بات کا ضامن بن جائے گا کہ وہ کسی بھی سماج میں ایک باعزت شہری بن کر رہ سکے۔ ایک بار میں نے انڈیا کے ایک مسلم پروفیسر کا سفر نامہ پڑھا۔ یہ بیرونی ملک کا سفر نامہ تھا۔ میں انھوں نے اپنا ایک تجربہ اس طرح بیان کیا تھا کہ وہاں ٹرین کے ایک سفر میں ایک مسافر نے میوہ جات اور چائے کافی سے ہماری ضیافت کی۔ ہم نے بھی ان کو تحفے میں ہندوستانی چائے اور قلم پیش یہ ہماری عادت ہے کہ میں جب بھی غیر ممالک میں جاتا ہوں تو کچھ یہاں کی چیزیں ساتھ لے کر جاتا ہوں، تاکہ نئے احباب کو کچھ تحفہ پیش کر سکوں۔

لیکن میرے ساتھ جو لوگ سفر میں آئے تھے، ان کے اندر دعوتی مزاج تھا۔ چناں چہ پورے سفر میں اُن کا یہ حال تھا کہ جب بھی وہ کسی کو دیکھتے تو وہ یہ کوشش کرتے کہ اس کو قرآن کا ترجمہ یا کوئی اور اسلامی پمفلٹ بطور تحفہ پیش کریں۔ یہ سلسلہ دہلی ایئر پورٹ سے شروع ہوا، اس کے بعد برابر پورے

سفر میں جاری رہا۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعوتی مزاج ہو تو یقیناً وہ جان لیں گے کہ ان کے پاس دوسروں کو پیش کرنے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے، وہ قرآن ہے۔

18 جون 2011 کی صبح کو خواجہ کلیم الدین صاحب کی رہائش گاہ پر فجر کی نماز کے بعد مجلس میں کئی لوگ جمع ہوگئے۔ یہاں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ قرآن (64: 3) میں کلمۂ سواء (religious common ground) کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ ایک عمومی اصول ہے۔ اس کو جنرلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ زمانے میں داعی اور مدعو کے درمیان امن (peace) کی حیثیت اسی کلمہ سواء کی ہے۔ حالات میں ہم کو چاہیے کہ امن کو کامن گراؤنڈ بنا کر لوگوں کے درمیان دعوہ ورک کریں۔ امریکا میں یہ رواج ہے کہ لوگ کار کے ذریعے لمبی لمبی دوری کا سفر کرتے ہیں۔ مطابق، امریکا کے زمانہ قیام میں مختلف مقامات پر بہت سے پروگرام بنائے گئے۔ ان تمام مقامات پر مجھ کو کار کے ذریعے جانا تھا۔ یہ پروگرام زیادہ تر لوگوں کے گھروں پر تھے۔ اس میں زیادہ تر یہ ہوتا تھا کہ صاحب خانہ کے یہاں پروگرام کے ساتھ کھانے کا بھی انتظام ہوتا تھا۔ لوگ وہاں جمع ہو کر کھانا کھاتے اور پھر پروگرام میں شریک ہوتے۔

فلِیڈ یلفیا کے سینٹ پال چرچ کی دعوت پر 18 جون 2011 کو وہاں مجھے ایک تقریر کرنے کا موقع حاضرین میں چند یہودی سامعین تھے اور زیادہ تر مسیحی۔ مجھے تقریر کا جو موضوع دیا گیا تھا، وہ یہ تھا: Peaceful Activism in Islam. میں نے قرآن اور حدیث کے حوالے سے انگریزی زبان میں اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ آخر میں سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک کرسچن فادر نے سوال کیا کہ عیسیٰ مسیح نے کہا ہے کہ ــــ اپنے دشمن سے محبت کرو: Love your enemies (Luke 6:35)

انھوں نے کہا کہ کیا قرآن میں بھی اس طرح کی کوئی تعلیم پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے قرآن کی سورہ حم السجدہ کی وہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ یہ ہے:

Good and evil deeds are not equal. Repel evil with what is better; then you will see that one who was once your enemy has become your dearest friend. (41:34)

اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی اس آیت کے مطابق، کوئی دشمن ابدی دشمن نہیں ہے۔ ہر دشمن ایک امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ہم اپنے مثبت رویے سے اپنے دشمن کو اپنا دوست بنا لیں۔ سینٹ پال چرچ میں حاضرین کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔ یہ نہایت سادہ ویجیٹیرین کھانا تھا۔ کھانا زیادہ تھا اس لیے وہ کافی بچ گیا۔ آخر میں منتظمین نے حاضرین کو چھوٹے چھوٹے بیگ دئے اور کہا کہ آپ لوگ اس کھانے کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ امریکی کلچر میں ایک خاص بات یہ ہے کہ امریکی لوگ کسی معاملے میں تکلف نہیں کرتے۔ معاملے میں امریکی کلچر، برٹش کلچر کے برعکس ہے۔ امریکی کلچر میں بے تکلفی کی ایک عجیب مثال یہ ہے کہ یہاں جب کوئی شخص لنچ (lunch) یا ڈنر (dinner) دیتا ہے تو بچے ہوئے کھانے کو پیک کر کے آنے والوں کے حوالے کر دیتا ہے، تا کہ وہ گھر جا کر اس کو استعمال کر سکیں۔ یہ یہاں کا عام رواج ہے۔ مسلم گھروں میں بھی میں نے یہی کلچر دیکھا کہ وہ آنے والوں کو کھانا پیک کر کے دے دیتے ہیں۔ طرح یہاں کھانا ضائع نہیں ہوتا۔

19 جون 2011 کو میری لینڈ (Maryland State) میں میرے دو پروگرام ہوئے۔

فلیڈیلفیا سے میری لینڈ کا سفر بذریعہ کار دو گھنٹے میں طے ہوا۔ ان سفروں کے لیے خواجہ کلیم الدین صاحب نے ایک بڑی گاڑی کا انتظام کیا تھا جس میں ہمارے تمام ساتھی بیٹھ جاتے تھے۔ ایک لمبی سیٹ پر میںلیٹ کر سفر کرتا تھا۔ سفر کے دوران میں سو گیا تھا۔ میرے ایک ساتھی نے مجھ کو جگا دیا۔ کہا کہ کراچی سے مولانا عبد اللطیف صاحب کا ٹیلی فون آیا ہے، وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ سوتے ہوئے آدمی کو جگانا نہیں چاہیے ۔ میرے ساتھی نے کہا — ساری (sorry)۔ کہا کہ یہ "ساری" کی بات نہیں۔ یہ ایک اصول کو جاننے کی بات ہے، وہ یہ کہ جب کوئی شخص سورہا ہو تو اس وقت

اس کو نہ جگائیے۔ بعد کو جب وہ اٹھے تو اُس وقت آپ کو اس سے جو کہنا ہے، وہ کہئے ۔ میری لینڈ میں میرے دو پروگرام تھے۔ ایک مز گل زیبا کی رہائش گاہ پر، اور دوسرا میری لینڈ کی مز گل زیبا کے مکان پر سینئر افراد کے علاوہ نوجوان افراد بھی اکھٹا تھے۔ مز گل زیبا کے بیٹے ہارون (12 سال) کو میں نے کچھ نصیحت کے کلمات کہے۔ پھر ان کی ڈائری پر میں نے یہ الفاظ لکھ دئے: Make Islam your mission, and make learning your profession. میری لینڈ اسٹیٹ کی مسجد میں جو پروگرام تھا، اس کا عنوان یہ تھا:

Printed page