Al-Risala · March 2012

فطرت کے خلاف

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے جو سرگرمیاں کی جاتی ہیں، ان کو تحریک (movement) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں تحریک کی دو صورتیں ہیں ــــ مبنی بر ذہن تحریک، مبنی بر نظام تحریک (mind-based activism, system-based activism)

تحریک کا وہ انداز جو فطرت کے مطابق ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے ــــ مبنی بر ذہن اس کے برعکس، مبنی بر نظام تحریک، فطرت کے یا خالق کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ فرق کی بنا پر ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مبنی بر نظام تحریک ہمیشہ ناکام ہوگی اور مبنی بر ذہن تحریک ہمیشہ کامیاب۔ کی دنیا میں جو نفرت اور تشدد پایا جاتا ہے، وہ صرف اس قانون فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں، کشمیر اور دوسرے مقامات پر جو تحریکیں چلائی گئیں، اُن میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں ہے جو ذہن (mind) کو نشانہ بنا کر چلائی گئی ہو۔ وہ سب کی سب نظام (system) کو نشانہ بنا کر چلائی گئیں۔ اس لیے اُن کا یہ منفی انجام ہوا کہ اس طرح کی ہر تحریک کا نتیجہ صرف تباہی کی

صورت میں برآمد ہوا۔ سیکڑوں سال کی روایات ٹوٹ گئیں ، لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں جو آخر کار تشدد تک جا پہنچیں۔ باہمی خیر خواہی کا ماحول ختم ہو گیا، وغیرہ۔

مبنی بر نظام تحریک غیر فطری تحریک ہے۔ صحیح تحریک وہ ہے جو اصلاح ذہن کی بنیاد پر چلائی حقیقت یہ ہے کہ نظام کا الگ سے کوئی وجود نہیں۔ انسان کے مجموعے ہی کا دوسرا نام نظام ہے۔ انسان اگر فرداً فرداً اصلاح یافتہ ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے جو نظام بنے گا، وہ فطری طور پر ایک اصلاحی نظام ہوگا۔ قانون فطرت کے مطابق، اصلاح کی تحریک فرد سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ نظام سے۔ جو تحریک نظام کی اصلاح کے نام پر شروع کی جائے، وہ اپنے آغاز ہی سے دو طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرے گی، اور جہاں نفرت اور ٹکراؤ پایا جائے وہاں عملاً اصلاح کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ صالح تحریک، غیر صالح تحریک ہر آدمی کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ہے ۔ یہ شیطان ، نفرت کا بم (hate bomb) ہے۔ ہر آدمی امکانی طور پر نفرت کا بم اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نفرت کا یہ بم عام حالات میں، انسان کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح اُس کو جگا دیا جائے، تو اچانک وہ بے پناہ ہو کر بھڑک اٹھتا واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس صورتِ حال کا مطلب دوسرے لفظوں میں ، یہ ہے کہ ہر انسان ایک انتہائی آتش گیر (highly inflammable) مادہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی سماج میں اگر دس ہزار آدمی ہیں ، تو وہ گویا کہ دس ہزار چلتے پھرتے آتش گیر مادّے کا مجموعہ ہیں۔ یہ دراصل ذاتی مفاد (personal interest) ہے جو لوگوں کو مزا اجاً تشدد ہونے کے باوجود، مجبورانہ طور پر امن پسند بنائے رہتا ہے۔ ایسی صورت میں قیادت (leadership) کا کام ایک بے حد مشکل کام ہے۔ جس قائد کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کا نعرہ ہو، اْس کو ہرگز میدان میں نہیں آنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا منفی نعرہ لوگوں کو بھڑکائے گا اور آخر کار، سماج کا وہ حال ہو جائے گا، جیسے ایک مقام پر بہت سے آتش گیر مادے ہوں اور وہ اچانک بھڑک اُٹھیں۔ قائد پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس محبت کا نعرہ ہے، تب تو وہ اپنی تحریک لے کر سماج میں آئے۔

اور اگر اُس کے پاس صرف نفرت اور شکایت کی باتیں ہوں، تو اس کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اجتماعی تحریک ہرگز نہ شروع کرے ۔ اس کے بجائے، وہ اپنے آپ کو اپنے گھر کے اندر محصور کرلے۔ یہی اس کے لیے نجات کی واحد صورت ہے۔

اجتماعی تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں—مثبت تحریک ، اور منفی تحریک ۔ مثبت تحریک وہ ہے جو ذاتی ذمے داری (duty) کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک صالح تحریک ہے۔ منفی تحریک وہ ہے جو حقوق طلبی اور احتجاج کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک غیر صالح تحریک ہے۔ صالح تحریک کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے، اور غیر صالح تحریک ہمیشہ برے انجام پر ختم ہوتی ہے۔ اصلاحی عمل کا نقطہ آغاز قدیم زمانے میں جب یہود پر سیاسی زوال آیا تو اُن کے اندر یہ مزاج پیدا ہوا کہ وہ لڑ کر دوبارہ فلسطین میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔ اُس وقت، بائبل کے بیان کے مطابق، یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے اُن سے کہا بادشاہ اور اس کی والدہ سے کہو کہ عاجزی کرو اور نیچے بیٹھو، کیوں کہ تمھاری بزرگی کا تاج تمھارے سر پر سے اتار لیا گیا ہے:

یہاں یہود کی مثال کی صورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قوموں پر عروج کے بعد زوال آتا ہے، سیاسی بالا دستی کے بعد انھیں سیاسی زیر دستی کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ قانونِ فطرت کے تحت پیش آتا اُس وقت قوم کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اُس وقت اس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا اپنے آپ کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار (political power) کسی گروہ کی قومی اجارہ داری (monopoly) نہیں ۔ سیاسی اقتدار کا حصول اس کی ضروری اہلیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اندر جب تک صلاحیت پائی جائے، سیاسی اقتدار بھی اُس کو حاصل رہے گا۔ صلاحیت کے فقدان کے

بعد سیاسی اقتدار بھی اس سے چھن جائے گا۔ جب ایسا ہو تو قوم کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر ضروری صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ وہ فریق ثانی کے خلاف بے فائدہ جنگ چھیڑ دے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ما بقوم میں تغیر ہمیشہ مابأنفس میں تغیر کا نتیجہ ہوتا ہے (13:11)۔ ما بقوم سے مراد اجتماعی حالت ہے، اور ما بأنفس سے مراد انفرادی حالت۔ جب بھی کسی قوم کی اجتماعی سطح پر زوال آئے تو اس کو اپنے افراد کی سطح پر اس کا سبب ڈھونڈنا چاہیے۔ کیوں کہ قوم کے افراد کی حالت کو بدلنے کے بعد ہی قوم کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، اس کے بغیر ہرگز نہیں۔ عمل کا آغاز افراد کی سطح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح سے۔ اجتماع کی سطح پر جو آغاز ہوتا ہے، وہ صرف لیڈری ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔

Printed page