کشمیریت کی طرف واپسی
Al-Risala, March 2012, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیریت کیا ہے، کشمیریت دراصل صوفیت کا دوسرا نام ہے۔ کشمیری کلچر کا مطلب ہے، صوفی کلچر۔ کشمیر شاید پوری دنیا میں واحد مقام ہے جہاں اسلام صرف صوفیوں کے ذریعے آیا اور صوفیوں کے اس لیے کشمیر میں کشمیریت کو قائم کرنا، دراصل صوفیت کو قائم کرنا ہے۔ روحانیت دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ صوفیت تمام تر امن اور محبت سے عبارت ہے۔ صوفیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ امن اور محبت کے کلچر کا دوسرا نام ہے۔
صوفی کلچر کیا ہے، خود صوفیوں کی زبان میں، وہ صلحِ کل (peace with all) کا نام ہے۔ صوفی کلچر، مسلم اور مسلم کے درمیان بھی مطلوب ہے، اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔ کشمیر کے لوگ پچھلے سیکڑوں سال سے اسی صوفی کلچر پر قائم تھے۔ وہاں کا پورا ماحول امن اور محبت اور سماجی ہم آہنگی کے اصول پر مبنی تھا۔ کشمیر کے لوگ نفرت اور تشدد سے بالکل نا آشنا تھے۔ کچھ بیرونی عناصر نے کشمیر کے لوگوں کو بہکا کر اُن کو اس کشمیری کلچر سے ہٹا دیا۔ اور تشدد کے کلچر نے کشمیر یوں کو کوئی مثبت چیز نہ دی، البتہ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کشمیر یوں سے اُن کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ چھن گیا، اور وہ یہی صوفیانہ کلچر تھا جو ہمیشہ سے کشمیر کی علامت بنا
ہوا تھا، یعنی امن اور محبت کا کلچر۔
یہ کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے چند سو سالوں میں یہاں باہر سے جو مسلم صوفی آئے، یا مقامی طور پر جو صوفی پیدا ہوئے، وہ سب کے سب امن اور محبت کا پیغام دینے والے تھے۔ اس کے نتیجے میں کشمیر میں زبردست انقلاب آیا۔ کشمیر میں اسلام کو غیر معمولی طور پر فروغ حاصل ہوا۔ مثال کے طور پر شیخ نور الدین نورانی (وفات: 1439ء) کشمیر کے صوفیوں میں سے ایک کشمیر کے لوگوں میں عام طور پر وہ ”عَلَم دار کشمیر“ کے نام سے مشہور تھے۔ ہندو لوگ انھیں پیار سے ’’نند رِشی‘‘ کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیر یت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ، یہی خدا سے ملنے کا راستہ ہے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے رِشی نامہ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نور الدین نورانی کے نزدیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی، وہ یہ کہ انسان انسان سے محبت ان کے نزدیک انسان سے محبت ہی خدا کی پہچان کا راستہ ہے۔
شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ میں نے تلوار توڑ دی اور اُس سے درانتی بنا لی۔ یہ قول شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے کہ آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت کے کام آتی ہے۔ لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ ابھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی درانتی کو توڑ کر اُس سے تلوار انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلا دیا۔
جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں پہلے دن سے نام نہاد کشمیری تحریک کو بے اصل سمجھتا رہا میرا کہنا یہ رہا ہے کہ اس طرح کے واقعات تاریخ کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں، نہ کہ موجودہ قسم کی
تحریک کے ذریعے ۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ انڈیا کی آزادی کے وقت ہی ہو چکا ہے۔ اب نہ اُس کو باقاعدہ جنگ کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے اور نہ گوریلا وار کے ذریعے ۔ اس قسم کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اُس کو مزید دہرانا، صرف اپنے نقصان میں اضافے کے ہم معنی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انڈیا ہر اعتبار سے پاکستان سے بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے لیے بہترین چوائس انڈیا ہے، نہ کہ پاکستان۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ جُڑنا، ایک ترقی یافتہ ملک کے ساتھ جُڑنا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ جُڑنا، ایک ایسے ملک کے ساتھ جُڑنا ہے جو ابھی تک ترقی کی طرف اپنا سفر بھی شروع نہ کر سکا۔
1989 میں ملٹنسی (militancy) شروع ہونے سے پہلے، کشمیر کو وہاں کی زبان میں، ’’پیر وار‘‘ (صوفیوں کی سرزمین) کہا جاتا تھا۔ کشمیر کے ایک مسلمان نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ ــــ پہلے کشمیریوں کا حال یہ تھا کہ وہ مرغی کو بھی ذبح کرنا نہیں جانتے تھے، مگر 1989 کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ انسان کو ذبح کرنے لگے۔ بلبل شاہ اور شاہ ہمدان جیسے صوفیوں نے کشمیر میں جو کلچر رائج کیا، وہ مکمل طور پر امن کلچر تھا۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے تشدد سے بالکل ناواقف تھے۔ کشمیریوں کے اس امن پسندانہ مزاج کو بتانے کے لیے ایک صوفی کا یہ شعر بالکل درست تھا: ما قصۂ سکندر و دارا، نه خوانده ایم از ما بجز حکایت مهر و وفا مپرس!
مگر انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اگر اس کو بھڑکایا جائے تو وہ بھڑک اُٹھتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کشمیر میں یہی بھڑکانے کا کام کیا، مگر یہ وقتی تھا ــــ واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ اب اپنی اصل فطرت کی طرف واپس آ رہے ہیں۔
اب آخری وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے لوگ ماضی کی طرف لوٹیں، وہ اپنے بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، وہ اپنی زندگی کو دوبارہ صوفیانہ روایت پر قائم کریں، وہ کشمیر کو دوبارہ امن اور محبت کا کشمیر بنا دیں، جیسا کہ وہ اپنے ماضی میں تھا۔ یہی کشمیریت ہے۔ اسی کشمیریت کی طرف واپسی میں کشمیر کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔