Al-Risala · March 2012

تاریخ کے فیصلے کو بدلنا

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

کعبہ کو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ میں بنایا تھا۔ اُس وقت کعبہ مستطیل (rectangle) صورت میں تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریشِ مکہ نے کعبہ کی نئی تعمیر کی۔ اُس وقت انھوں نے کعبہ کی لمبائی کو کم کرکے اس کو مربع (square) صورت میں تعمیر کعبہ اس مربع صورت میں آج تک موجود ہے۔

روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ عائشہ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کی عمارت کو دوبارہ میں ابراہیمی بنیاد پر بناؤں، مگر آپ اس سے باز رہے، کیوں کہ عملی اسباب کے تحت اب ایسا کرنا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا سبب بنتا ہے۔ (صحيح البخاري، رقم الحديث : 1583)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کے پہیے کو دوبارہ الٹی طرف نہیں چلایا جا سکتا:

The wheel of history cannot be put in the reverse gear. یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس پیغمبرانہ واقعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کا سفر ہمیشہ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف ہوتا ہے۔

تاریخ میں یوٹرن (U turn) لینا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو مستقبل سے حال کی طرف اور حال سے ماضی کی طرف جاری کر دے۔ تاریخ کے معاملے میں موجودہ صورتِ حال (statusquo) کو مان کر منصوبہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ اس کا انکار کر کے۔ کعبہ کی تاریخ اس معاملے کی ایک مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کے اس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے سابق ابراہیمی بنیاد پر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو عبداللہ بن زبیر (وفات: 692ء) کا زمانہ آیا تو انھوں نے کعبہ کی عمارت کو توڑ کر اس کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر بنایا، لیکن عبداللہ بن زبیر کی وفات کے فوراً بعد حجاج بن یوسف الثقفی (وفات: 714ء) نے اس کو توڑ دیا اور دوبارہ کعبہ کو اس کی سابق بنیاد پر تعمیر کر دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سنتِ رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اس لیے وہ بار بار اس سنت رسول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔

بیسویں صدی کے ربع اول میں خلافت تحریک، بیسویں صدی کے نصف ثانی میں فلسطینی تحریک، بیسویں صدی کے نصف آخر میں کشمیری تحریک اور اس قسم کی دوسری تحریکیں اسی کا ثبوت ہیں۔ تحریکوں کے لیڈروں نے تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا فیصلہ نہیں بدلا، البتہ نادانی کی اس سیاست نے مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ لمحہ جب کہ تاریخ کا فیصلہ ہو رہا ہو، اُس وقت آپ اپنی دانش مندانہ پالیسی کے ذریعے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو اُس کے بعد فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرنا عملاً خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page