Al-Risala · March 2012

آئیڈیل اور پریکٹکل

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جب کوئی حقیقت پسندانہ مشورہ دیا جائے تو وہ فوراً ایک آئیڈیل بات کہہ دیں گے۔ مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے ، حقوق انسانی (human rights) کا قانون تو یہ کہتا ہے، انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے تو ایسا ہونا چاہیے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں صرف آئیڈیل ازم (idealism) کی باتیں ہیں ۔ اس دنیا میں کبھی آئیڈیل ازم نہیں چلتا، اس دنیا میں ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو عملی اعتبار سے قابل حصول ہو۔

اس معاملے میں اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اپنے معیار کے مطابق، کیا ہونا اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق کیا ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی نظری معیار کا مسئلہ نہیں ہے، یہ مسئلہ تمام تر یہ ہے کہ اس دنیا میں کیا چیز عملاً قابل حصول ہے اور کیا چیز عملاً قابل حصول نہیں ۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، اس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہم دوسرے کی آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتے۔

ہمارے لیے قابل عمل بات صرف یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں ، ہم دوسروں کو عمل کا موقع دیتے ہوئے اپنے لیے عمل کا موقع نکالیں ۔ یہی زندگی کی اس حکمت (wisdom) کی موافقت سے دنیا میں امن قائم ہوتا ہے۔ اس حکمت کی موافقت نہ کرنا، نفرت اور تشدد کو فروغ دینا ہے ، اور نفرت اور تشدد صرف مسئلے میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ اس کو ختم کرنے والا۔ یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اس معاملے میں کسی کا کوئی استثنا جو لوگ فطرت کے اس نظام کی خلاف ورزی کریں، ان کے لیے اس دنیا میں صرف تباہی مقدر ہے، خواہ انھوں نے اپنے غیر فطری عمل کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت نام دے رکھا ہو۔ پیغمبر کی رہنمائی حضرت علی بن ابی طالب چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ 40 ہجری (661 عیسوی) میں ان کی اس کے بعد لوگوں نے حضرت حسن بن علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر لی۔ مگر اُس وقت

مسلمان دو گروہ میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ حضرت حسن کے ساتھ تھا، اور دوسرا گروہ حضرت معاویہ دونوں گروہوں میں اختلافات اتنے زیادہ بڑھے کہ دونوں گروہوں میں جنگ کی صورت پیدا ہو گئی۔ اُس وقت حضرت حسن کے ساتھ چالیس ہزار مسلح افراد تھے۔ اگر جنگ ہوتی تو دونوں طرف کے ہزاروں آدمی مارے جاتے۔ حضرت حسن نے اس ٹکراؤ کو پسند نہیں کیا۔ چناں چہ وہ یک طرفہ طور پر عہدے سے دست بردار ہو گئے اور خلافت کا عہدہ حضرت حسن نے معاویہ کے حوالے کر دیا۔ حضرت حسن کی یہ روش اُس وقت کے مسلمانوں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے آپ کے خلاف سخت ایک مسلمان نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا عار المسلمین (اے مسلمانوں کے لیے ننگ و عار)۔ حضرت حسن نے اس کے جواب میں کہا: العار خیر من النار (ننگ و عار آگ سے بہتر ہے) (البدایة والنھایة، جلد 8 ، صفحہ 19-18۔

حضرت حسن کی اس مصلحانہ روش کو عام مسلمانوں نے پسند نہیں کیا، کیوں کہ اُن کے نزدیک ، یہ ذلت اور پسپائی کی روش تھی۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر اس روش کی تصدیق روایات میں آتا ہے کہ حضرت حسن جب چھوٹے تھے، تو آپ نے اُن کے بارے میں پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا: إن ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين (صحيح البخاري، رقم الحديث : (2704) یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہ کے درمیان صلح کرا دے۔ اس واقعے سے زندگی کی ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روش جو عام مسلمانوں کی نظر میں ذلت اور پسپائی کی روش ہو، وہی روش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں درست قیادت کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ذلت اور پسپائی کے الفاظ جاہلیت کے الفاظ ہیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو نتیجہ (result) کی روشنی میں دیکھا جائے ۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، نزاعی معاملات میں صرف وہ طریقہ صحیح طریقہ ہے جو ٹکراؤ اور تشدد سے بچانے والا ہو۔ اس کے برعکس ، جو طریقہ ٹکراؤ اور تشدد کی طرف لے جائے،

وہ بلا شبہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے معاملے میں ٹکراؤ سے اعراض والا طریقہ اختیار کریں، خواہ ظاہر ہیں لوگوں کو وہ ذلت اور پسپائی کا طریقہ دکھائی دیتا ہو۔ اس واقعے میں اُن تمام مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، جہاں کشمیر جیسے حالات پیش موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں کے مسلمان مذکورہ قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ ایسے تمام مسلمانوں کے لیے مذکورہ واقعہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر قومی عزت اور قومی وقار کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں تو اُنھیں فوراً اپنی اس سوچ کو چھوڑ دینا چاہئے، اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں اُنھیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر حال میں امن اور مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کا طریقہ۔ حضرت حسن کے الفاظ میں، اس طرح کی صورتِ حال میں تشدد کا طریقہ اختیار کرنا، جہنم کا طریقہ ہے، اور امن کا طریقہ اختیار کرنا جنت کا طریقہ۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، حضرت حسن بن علی مسلمانوں کے درمیان غیر مقبول ہو گئے ۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ لو پروفائل (low-profile) میں عوام کا یہ عجیب مزاج ہے کہ وہ ایسے افراد کو اپنا قائد بنا لیتے ہیں جو ہائی پروفائل (high-profile) میں بولیں، اور جو شخص لو پروفائل میں بولے، وہ اُن کے درمیان صرف ایک غیر اہم شخص بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر عقل اور اسلام دونوں کا یہ فیصلہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں، ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگوں کا انجام تباہی ہو، اور لو پروفائل میں بولنے والوں کا انجام کامیابی ۔ صراطِ مستقیم پر صرف وہ لوگ ہیں جو لو پروفائل میں بولنے والے رہنما کا ساتھ دیں۔ اللہ کی نصرتیں صرف ایسے لوگوں کے لیے ہی مقدر ہیں۔

Printed page