Al-Risala · March 2012

یک طرفہ رپورٹنگ

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ المطفّیف میں ، ناپ تول میں کمی کو ایک مجرمانہ فعل بتایا گیا ہے۔ آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو وہ پورا لیں۔ اور جب وہ اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں:

Woe to those who give short measure, who demand of other people full measure for themselves, but when they give by measurment or weight to others, they give them less. (83: 1-3)

قرآن کی اِس آیت میں جس اخلاقی برائی کا ذکر ہے، اُس سے مراد محدود طور پر صرف ناپ تول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام اجتماعی معاملات سے ہے۔ موجودہ زمانے میں اس تطفیف کی ایک تباہ کن صورت وہ ہے جس کو یک طرفہ رپورٹنگ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ برائی مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے یہ کرتے ہیں کہ جب بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو تو وہ صرف غیر مسلموں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا تھا، اُس کو وہ حذف وہ غیر مسلموں کی جوابی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کی طرف سے کئے جانے والے اقدام کو بیان نہیں کرتے۔

اس طرح کے معاملات میں کہنے والے اکثر یہ کہتے ہیں کہ کوئی آپ کے گھر میں گھس آئے تو آپ کیا کریں گے۔ اسی کا نام یک طرفہ رپورٹنگ ہے، کیوں کہ کوئی گھسنے والا اچانک نہیں گھستا، بلکہ پہلے گھر والے اپنی کسی کارروائی سے اس کو مشتعل کرتے ہیں، اس کے بعد کوئی گھسنے والا اُن کے گھر میں اس کا حل اپنے حصے کی اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، نہ کہ گھسنے والے کے خلاف بے فائدہ چیخ و پکار کرنا۔ اسی طرح کی صورتِ حال کے بارے میں، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: الفتنة نائمة، لعن الله من أيقظها (الجامع الصغير للسيوطي، رقم الحديث: 5975) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے۔ اللہ اُس شخص پر لعنت کرے جو اس سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ (one-sided reporting) کا یہ بھیانک انجام ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ صرف مظلوم ہیں، اور دوسرے لوگ صرف ظالم۔ رپورٹنگ کا مزید نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھ کر اُن سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ انسانوں کے بارے میں وہ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ محبت کی نفسیات میں۔

اس یک طرفہ رپورٹنگ کی برائی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے، خلافِ واقعہ اس کا شدید تر نقصان یہ ہے کہ اُس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو منافقت میں مبتلا کر دیا مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں سے الگ ہو کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ مادی مفاد کے تحت اُن کو بار بار دوسری قوموں سے مصالحانہ تعلق قائم کرنا پڑتا ہے۔ چناں چہ اُن کا حال یہ ہے کہ وہ نفرت کی اس سوچ کو باقی رکھتے ہوئے دوسری قوموں سے سماجی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دل میں نفرت رکھتے ہوئے وہ لوگوں کے ساتھ دوستانہ انداز اختیار کرتے یہ بلا شبہہ دو عملی ہے، اور دو عملی ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔

یک طرفہ رپورٹنگ، یعنی کسی واقعے کے ایک پہلو کو بیان کرنا اور دوسرے پہلو کو بیان نہ کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اس طرح کی رپورٹنگ سے آدمی کے اندر

غیرسنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت اس کے اندر سے ختم ہو جاتی ہے۔ وہ قومی عصبیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ معاملات میں حقیقت پسندانہ مزاج اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ اس کے اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر پہلے شکایتی مزاج پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ لوگوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ وہ متشددانہ کارروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتا ہے—شراب اگر جسمانی اعتبار سے، اُم الخبائث ہے، تو یک طرفہ رپورٹنگ سوچ کے اعتبار سے، اُم الخبائث کی حیثیت رکھتی ہے۔

Printed page