Al-Risala · March 2012

ردِ عمل اسلام میں نہیں

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سے لوگ جنگ اور تشدد میں مبتلا ہیں ، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ اُن سے کہا جائے کہ تم یہ تباہ کُن کام کیوں کر رہے ہو ، تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ـــ یہ تو ایک فطری ردِ عمل ہے۔ جب کسی گروہ کے خلاف ظلم اور نا انصافی کا واقعہ پیش آئے گا ، تو اس کے اندر ضرور جوابی ردِ عمل (reaction) پیدا ہوگا ۔ وہ گُن اور بم استعمال کرے گا ، یہاں تک کہ آخر کار وہ خودکُش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے متشددانہ ردِ عمل کو ختم کرنا ہے ، تو فریق ثانی کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہوگا ، ورنہ ہماری طرف سے متشددانہ کارروائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ ردِ عمل (reaction) کو ختم کرنا ہے تو پہلے عمل (action) کو ختم کیجیے۔ اس معاملے میں یک طرفہ نصیحت سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ ردِ عمل کا یہ فلسفہ سرتا سر غیر فطری ہے۔ ایسے لوگوں کی اصل غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنوں میں عمل کا غلط معیار قائم کر لیا ہے۔ عمل کا صحیح معیار یہ ہے کہ عمل کے بعد پیش آنے والے نتیجہ (result) کو دیکھا جائے۔ صحیح عمل کی پہچان یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والوں کے لیے مفید نتیجہ پیدا جو عمل مفید نتیجہ پیدا کرے ، وہ سرے سے قابلِ ترک ہے۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عمل یا تو مفید نتیجہ پیدا کرتا ہے ، یا وہ عمل کرنے والوں کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ اس معاملے میں تیسری کوئی صورت

عملی اقدام وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو عملی اقدام نتیجہ خیز نہ ہو، وہ صرف اپنی تباہی میں اضافے کے ہم معنی ہے، اور اپنی تباہی میں اضافہ کبھی کسی دانش مند کا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی عمل کے مقابلے میں جذباتی رَدِ عمل، اُس عمل کا جواب نہیں۔ عمل کا حقیقی جواب یہ ہے کہ پہلے صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، مثبت ذہن کے ساتھ نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی جائے، پھر ٹکراؤ کے بجائے تعمیر کے اصول پر اپنے عمل کا آغاز کیا جائے۔ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ دوسرا شجر ممنوعہ آدم پہلے انسان تھے۔ پیدائش کے بعد اُن کو جنت میں رکھا گیا۔ وہاں اُن کو ہر قسم کی آزادی لیکن جنت میں ایک شجر ممنوعہ (forbidden tree) تھا۔ آدم سے کہا گیا کہ جنت میں تم آزادانہ طور پر رہ سکتے ہو، لیکن اس شجر ممنوعہ کے قریب مت جانا، ورنہ تم کو جنت سے نکال دیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں بھی ایک شجر ممنوعہ ہے، اور وہ تشدد ہے:

There was a forbidden tree in Paradise. There is also a forbidden tree in this world, and that is violence. جو لوگ تشدد میں ملوث ہوں، اُن کو اپنے اس جرم کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ جنت میں داخلے سے محروم کر دئے جائیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا جب کُرۂ ارض پر بسائے گئے تو یہاں آغاز ہی میں ایک حادثہ پیش آیا۔ آدم کے دو بیٹوں، قابیل اور ہابیل کے درمیان نزاع ہوئی، یہاں تک کہ قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا کہ: ”جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔

قرآن میں اس قسم کے سخت الفاظ کسی بھی دوسرے جرم کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف جارحانہ تشدد کرے۔ اس معاملے میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ ایک منظم حکومت یا ایک باقاعده

عدالت کے لیے ہے۔ عام انسان کے لیے اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔

تشدد کی یہ سخت ممانعت اس لیے ہے کہ تشدد فطری نظام کے خلاف ہے۔ خالق کا قائم کردہ فطری نظام یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملے، لیکن تشدد اور جارحیت سے یہ فطری نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تشدد خالق کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ اور اس قسم کی مداخلت بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔

موجودہ دنیا میں تشدد اور جارحیت سے پاک ماحول کس طرح بنایا جائے، اس کا جواب صرف ایک ہے— اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنے اوپر یہ ذمے داری لینا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر کریں، وہ تشدد کے تجربے کے باوجود عملاً بے تشدد بن جائیں۔ صرف اسی طرح تشدد سے پاک ماحول دنیا میں بن سکتا ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں بتایا گیا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو مارنا چاہا تو ہابیل نے کہا: لئِن بسطتَ إليَّ يدك لتقتلني، ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلك، إني أخاف الله رب العالمين (28: یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ تشدد پر یک طرفہ صبر کی یہ آخری مثال ہے جو آدم کے بیٹے ہابیل نے قائم کی۔ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں سیاسی بگاڑ پیدا ہوگا، مگر تم اپنے حکم رانوں سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرنا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر وہ خود ہمارے گھر میں ہم کو مارنے کے لیے آ جائیں تو ہم کیا کریں۔ آپ نے جواب دیا: فليكن كخير ابني آدم (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 4259) یعنی تم آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے بن جاؤ، یعنی خواہ تم دوسروں کے ہاتھ سے قتل ہو جاؤ، مگر تم خود دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ تشدد کی دو قسم ہے— ایک، غیر فعال تشدد (passive violence)۔ اور دوسرا، فعّال تشدد غیر فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر ان سے نفرت کریں۔ فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر اُن کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کر دیں۔

یہ دونوں صورتیں اسلام میں یکساں طور پر گناہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آپ دونوں میں سے جس تشدد کا ارتکاب کریں، آپ شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ دونوں قسم کے تشدد کے درمیان صرف ظاہر کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

Printed page