Al-Risala · March 2012

نقصان برائے آزمائش

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ البقرہ میں، انسانوں کے بارے میں اللہ کی ایک سنت کو بتایا گیا ہے۔ آیات کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے، کچھ ڈر اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ــ ہم اللہ کے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اُن کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو صحیح راہ پر ہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات کا تجربہ یہ نقصانات بظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتے ہیں، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُسی انسان کو نقصان کا ذمے دار سمجھ کر اس کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بڑھتے بڑھتے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ سنتِ الہی کے خلاف ہے۔ اسی لیے نفرت اور تشدد کا کوئی مثبت انجام ایسے لوگوں کو نہیں ملتا۔

صحیح یہ ہے کہ جب کوئی نقصان پیش آئے تو اس کا الزام دوسروں کو نہ دیا جائے، بلکہ خود اپنا محاسبہ (introspection) کیا جائے۔ دنیا کے ان نقصانات کے حوالے سے آخرت کو یاد کیا جائے۔ نقصانات کو خدائی یاد دہانی (divine warning) سمجھا جائے اور اپنی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کے نقصانات کو اگر خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے خانے میں ڈالا جائے تو اُس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن بنے گا۔ ایسا کرنے سے لوگ کھوئے ہوئے غم کو لے کر مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور اُس سے سبق لے کر از سرِ نو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔ جس طرح ہر پیدا ہونے والے پر موت آتی ہے، اور زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس موت کو بھلا دیں، اُسی طرح، ہر پائی ہوئی چیز کو کبھی نہ کبھی کھونا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو اُسی طرح بھلا دے، جس طرح وہ مرنے والے کو بھلا دیتا ہے۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک چیز کھوئی جاتی ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، دوسری ہزاروں چیزیں موجود رہتی ہیں جو اب بھی انسان کو حاصل ہیں۔ ایسی حالت میں، کھوئے ہوئے کونے بھلانے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ملی ہوئی چیزوں کا شکر ادا کرنے سے محروم ہو رہا ہے۔ یہ گویا دنیا کے حقیر نقصان پر آخرت کے عظیم نقصان کا خطرہ مول لینا ہے۔ یہ عارضی محرومی کی خاطر اپنے آپ کو ابدی محرومی کا مستحق بنانا ہے، اور بلاشبہ وہ کوئی مومن اس تباہ کن روش کا تحمل نہیں کر سکتا۔ کوئی نقصان، نقصان نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال کے بعد آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ مدینے سے باہر جبل احد کے پاس ہوا تھا۔ اس غزوہ میں 70 صحابہ شہید ہو گئے۔ غزوہ احد کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ بنودینار کی ایک مسلم خاتون السُمیر ابنت قیس کے گھر کے تین افراد اس غزوہ میں مارے گئے تھے۔ ان کے باپ، ان کے شوہر، ان کے بھائی۔ جب اس خاتون کو خبر دی گئی کہ تمھارے گھر کے تین افراد اس جنگ میں شہید ہو گئے تو اس نے ہیچھا: فما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا)۔ اس کو بتایا گیا کہ آپ محفوظ اور سلامت ہیں۔ اس کے بعد وہ چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔ اس نے آپ کو دیکھا تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: کل مصيبة بعدك جلل (آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے، اے خدا کے رسول) السیرة النبوية لابن هشام، جلد 3، صفحه 51 یہ صرف ایک صحابی خاتون کا ایک قول نہیں۔ یہ ایک صحابیہ کے اسوہ کی روشنی میں، امت محمدی کے ہر فرد کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک صاحب ایمان کو، ایمان کے بعد اتنی بڑی دولت مل جاتی ہے کہ اس کے بعد ہر نقصان اس کو پوچ نظر آنے لگتا ہے۔ جب ایک شخص کو سچائی کی دریافت ہوتی ہے اور وہ ایک مومن انسان بن جاتا ہے تو یہ اس کے لیے

کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس کو حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت حاصل ہوگئی۔ نے اللہ رب العالمین کو پالیا۔ اس کو خاتم النبیین کی دریافت ہوگئی۔ اس کو قرآن کی شکل میں، اپنی زندگی کا ربانی ہدایت نامہ مل گیا۔ وہ فرشتوں کی صحبت کا مستحق بن گیا۔ اُس نے اُس صراطِ مستقیم کو جان لیا جس کو اختیار کر کے آدمی خدا کی رحمتوں کے سائے میں آجائے اور آخر کار وہ ابدی جنت میں پہنچ جائے۔ اس قسم کے آدمی کے لیے کوئی نقصان نقصان نہیں، کیوں کہ ہر نقصان کے با وجود اُس کو اتنا بڑا خزانہ ملا ہوا ہوتا ہے جو ہر نقصان کو اس کے لیے بے حقیقت بنا دیتا ہے۔ ایک سچا صاحب ایمان ہمیشہ یافت (finding) میں جیتا ہے۔ اس احساس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ محرومی یا مایوسی کا لفظ سچے اہل ایمان کی ڈکشنری سے اس طرح گم ہو جاتا ہے، گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ اسی حقیقت کی بنا پر اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مایوسی کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس دنیا میں مایوسی کے اسباب نہیں تو کسی شخص کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ مایوسی کے احساس میں زندگی گزارے۔ خدا میں جینا موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ ؀ وہ خدا میں جینے والے نہیں بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد سبب ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثنا نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔

منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ دراصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے— فلاں نے زمین پر قبضہ کر لیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کر دی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ آج کل ہر مسلمان اِس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ اُنھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل

یہ ہے کہ ــــ انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اسے خدا کو دینا چاہیے: Making one's concern something else other than God. خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت (discovery) ہوجائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہو جاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہو جاتے ہیں۔ وہ اس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ ــــ تم جو چیز چاہو، مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے:

You can take away from me whatever you want, but you cannot take God away from me!

یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ (positive thinking) والا انسان بنا دیتی کسی کے خلاف نفرت یا مایوسی کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ وقت ضائع نہ کیجئے انسان دنیا میں کس لیے آیا ہے ــــ وہ اس لیے نہیں آیا ہے کہ یہاں وہ اپنی پسند کی حکومت قائم وہ یہاں صرف اس لیے آیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنائے۔ کو موجودہ دنیا میں صرف چند سال کی عمر ملی ہے۔ چند سال کی اس مدت میں کوئی دوسرا کام کرنا، اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ضائع کر لینا ہے۔ صحیح استعمال صرف وہ ہے جو موت کے بعد کام آئے۔ کے بعد صرف وہ انسان کامیاب قرار دیا جائے گا جس نے موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنایا ہو۔

خالق کی پسند کیا ہے، کشمیر جیسا علاقہ اس کا ایک زندہ نمونہ ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں جاری چشمے خالق کی پسند کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہاں کے ہرے بھرے درخت اپنی خاموش زبان میں خالق کی پسند کو بتا رہے ہیں، یہاں کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندے خالق کی پسند کا چرچا کر رہے ہیں، یہاں کے خوب صورت پہاڑوں میں خالق کی پسند کا نغمہ گونج رہا ہے۔ یہاں کی مسحور کن فضاؤں میں ہر طرف خالق کی پسند کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر گویا فطرت کی زبان میں خالق کا کلام ہے۔

ماحول میں انسان خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے۔

کشمیر کی سرزمین میں پیدا ہونے والے ہر انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ خالق کی اس زندہ کتاب کو پڑھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ یہ کام نہ کریں، اُن کے لیے موت کے بعد صرف یہ انجام سامنے آئے گا کہ وہ ابدتک حسرت میں جیتے رہیں۔ اُن کے حصے میں صرف یہ مایوسانہ سوچ آئے کہ اُن کا کیس صرف مواقع کے استعمال سے محرومی کا کیس تھا: Mine was a case of missed opportunities. دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آدمی یہاں اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت بنائے، تاکہ آخرت میں اس کو اللہ کی ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ موجودہ دنیا جنت کی تعمیر کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ جنتی شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں جنتی شخصیت کی تعمیر ہی وہ کام ہے جس کے لیے انسان کو عمل کرنا چاہیے: لمثل هذا، فليعمل العاملون (61: 37)۔

Printed page