Al-Risala · March 2012

پتھر سے قرآن تک

Al-Risala, March 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کشمیری مسلمان نے کہا کہ - اکتوبر 1989 سے اکتوبر 2011 تک، ہم نے ایک لمبا راستہ طے کیا ہے۔ پہلے ہم آرمی کے اوپر پتھر مارتے تھے، اب ہم آرمی کے سامنے قرآن پیش کرتے ایک کشمیری مسلمان کے یہ الفاظ کشمیر میں آنے والے نئے دور انقلاب کو بتا رہے ہیں، وہ کشمیر میں ایک نئے آغاز کی علامت ہیں۔ ایک بار جب تاریخ میں ایک صحت مند عمل (healthy process) شروع ہو جائے تو وہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ مذکورہ کشمیری مسلمان کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ - کشمیری مسلمان پہلے بے شعوری میں جی رہے تھے، اب انھوں نے شعور میں جینا سیکھ لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے نفرت میں جی رہے تھے، اب انھوں نے محبت میں جینا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے انسان کو اپنا حریف سمجھتے تھے، اب انھوں نے انسان کو اپنا مددگو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے تشدد میں جی رہے تھے، اب انھوں نے امن میں جینے کا راز دریافت کر لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے شیطان کے کلچر کو اختیار کئے ہوئے تھے،

اب انھوں نے فرشتوں کے کلچر پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

شیطان کا کلچر کیا ہے، اللہ نے آدم (انسان) کو پیدا کیا اور ابلیس سے کہا کہ انسان کا اعتراف ابلیس نے ایک خود ساختہ عذر لے کر انسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس، فرشتوں نے اللہ کے حکم کے مطابق، فوراً آدم کا اعتراف کر لیا۔ گویا شیطان نے آدم کی طرف پتھر پھینکے اور فرشتوں نے اس معاملے میں اپنے لیے خدا کے کلام کا انتخاب کیا۔

اس دنیا میں یہی انسان کا امتحان ہے۔ جو لوگ دوسرے کی طرف پتھر پھینکیں، وہ امتحان میں اس کے برعکس، جو لوگ دوسروں کا استقبال خدا کے کلام سے کریں، وہ کامیاب ٹھہرے، کیوں کہ انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جو فرشتوں کا طریقہ ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا یہ نیا فیصلہ، کشمیر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تاریک رات کے بعد روشن صبح کے طلوع کا اعلان ہے۔ قرآن کی طاقت قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں جب کہ قرآن نے کسی فرد یا گروہ کے اندر اپنی نظریاتی طاقت سے، انقلاب پیدا کر دیا۔ قرآن، خدا کی کتاب ہے اور انسان، خدا کی مخلوق۔ قرآن کی یہی وہ صفت ہے جس نے قرآن کے اندر انسانوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔

اس معاملے کی ایک تاریخی مثال مصر ہے۔ دورِ اول کے مسلمان جب مصر میں داخل ہوئے، اُس وقت مصر کے لوگ قبطی زبان بولتے تھے، اور وہ شرک کے مذہب پر قائم تھے۔ قرآن کے اثر سے انھوں نے نہ صرف اپنے مذہب کو تبدیل کیا، بلکہ انھوں نے قرآن کی زبان (عربی) کو بھی اپنی زبان بنا لیا۔ مصریات کے ایک برٹش مورخ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith) نے اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے— مصر کے لوگ تلوار سے مفتوح نہیں ہوئے، بلکہ وہ قرآن سے مفتوح ہوئے: The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Quran.

قرآن دوبارہ اپنے اس فاتحانہ کردار کو ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ قرآن کو ماننے والے غیر قرآنی سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور وہ قرآن کے پر امن پیغام کو دنیا کے لوگوں تک پہنچادیں۔ اسلام کی بہار جون 1989 میں ، میں نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ ایک کشمیری مسلمان نے بتایا کہ اس سفر کے دوران میں نے سری نگر کی ایک مجلس میں کہا تھا کہ کشمیر میں مجھ کو اسلام کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں یہ بات میں نے کشمیر کے بالفعل (actual) کو لے کر نہیں کہی تھی، یہ بات میں نے کشمیر کے بالقوہ (potential) کو لے کر کہی تھی۔

کچھ نادان لیڈروں نے کشمیریوں کے جذبات کو بھڑکا کر یہاں سیاست کی گرم ہوائیں چلا دیں، لیکن یہ بات کشمیریوں کے اصل مزاج کے مطابق نہیں۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے، امن پسند لوگ ہیں۔ اگر اُن کو صحیح رہنمائی مل جائے تو یقینی طور پر یہاں ایسا ہوگا کہ خزاں کے موسم کی جگہ بہار کا موسم آجائے۔ تشدد کی گرم ہواؤں کے بجائے یہاں امن کی ٹھنڈی اور خوش گوار ہوائیں چلنے لگیں۔ یہاں دوبارہ سیاسی اسلام کے بجائے، ربانی اسلام کا دور دورہ ہو جائے۔ کشمیر میں اسلام کی بہار آنے کا پورا امکان ہے، لیکن یہ امکان اپنے آپ واقعہ نہیں بن اس کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کی پرامن تعلیمات کو یہاں کے لوگوں میں عام کیا لوگوں کے درمیان شعوری تعمیر نو (intellectual re-engineering) کی تحریک چلائی جائے ۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ نفرت اور تشدد اُن کے لیے کوئی انتخاب نہیں۔ اُن کے لیے انتخاب صرف ایک ہے، اور وہ امن اور محبت ہے۔ اسی میں ان کی دنیا کی کامیابی چھپی ہوئی ہے اور اسی میں اُن کی آخرت کی کامیابی بھی۔

Printed page