Al-Risala · March 2012

دو بہتر میں سے ایک

Al-Risala, March 2012, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن (divine mission) ہے۔ ایسے ایک مشن کے لیے قرآن میں، إحدى الحسنيين (9:52) کی خوش خبری دی گئی ہے، یعنی اس کے لیے یہ مقدر ہے کہ دو میں سے ایک بہتر (one of the two best things) اُس کو ضرور حاصل ہو۔ پہلا بہتر نظریاتی ہے، اور دوسرا بہتر عملی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچے خدائی مشن کے لیے دو میں سے ایک کامیابی مقدر ہے— یا تو کامیابی بہ معنی تبلیغ، یا کامیابی بہ معنی انقلاب۔

موجودہ زمانے میں جن مقامات پر جہاد کے نام سے تشدد کا کلچر چلایا گیا، وہاں فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ایسے لوگ اُٹھیں جو اِس کی اصلاح کی کوشش کریں، جو ان مسلمانوں کو اُن کی

غلطی سے آگاہ کریں، جو اُن کو تشدد سے امن کی طرف بلائیں، جو اُن کو بتائیں کہ تمھارا کام لوگوں کو حق کی دعوت دینا ہے، نہ کہ اُن سے ٹکراؤ کرنا۔ تمھارا ایمانی فریضہ ہے کہ تم، لوگوں کے ساتھ مدعو کا سلوک کرو، نہ کہ دشمن کا سلوک۔ تم کو چاہیے کہ تم اپنے ماحول میں خیر خواہی کا کلچر چلاؤ، نہ کہ نفرت اور رقابت کا اس قسم کی مہم دوسرے مسلم علاقوں میں بھی ضروری ہے اور کشمیر میں بھی ضروری۔ اس قسم کی مہم اس یقین کے ساتھ شروع کی جاسکتی ہے کہ اس کے لیے ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ اس مہم کے کارکنوں کے لیے یقینی طور پر دو میں سے ایک انجام مقدر ہے— یا تو وہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوں گے اور اللہ کے یہاں اُس کا عظیم انعام حاصل کریں گے، یا ایسا ہوگا کہ لوگ ان کی بات کو مان لیں اور وہ عملی اعتبار سے اپنی زندگی کو بدلنے پر راضی ہو جائیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’إحدى الحسنيين‘ کہا گیا ہے، یعنی یا تو نظریاتی اعتبار سے، دعوت حق کی کامیابی، یا عملی اعتبار سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کامیابی۔ غیر نہیں، مدعو عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ’اپنے‘ اور ’غیر‘ میں تقسیم کرتے ہیں، مگر اسلام کا طریقہ یہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کو مدعو کی نظر سے دیکھا جائے ۔ اپنے اور غیر کی تقسیم میں ، اپنا قابل محبت نظر آتا ہے، اور دوسرا قابل نفرت دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے، وہ داعی ہیں اور دوسرے تمام انسان ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کی تقسیم میں کوئی غیر نہیں رہتا، بلکہ سارے انسان اپنے نظر آنے لگتے ہیں۔

آج کل عام طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا حریف (rival) بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو تمام انسان ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی شخص کے جنازے کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہود بھی ہماری طرح انسان ہیں (صحیح البخاري، رقم الحديث : 1312)۔

مسلمان اس اسوۂ رسول کو اختیار کر لیں تو تمام قوموں کے لوگ ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ کشمیر یوں کو ہندواپنا نظر آئے گا، عربوں کو اسرائیلی اپنا دکھائی دے گا، مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان وہاں کے عیسائیوں کو اپنا سمجھنے لگیں گے، وغیرہ۔

دوسروں کو اپنا سمجھنے کا مطلب دوسروں کا خیر خواہ بننا ہے۔ ایک تاجر ہر انسان کو اپنا کسٹمر سمجھتا اس مزاج کے نتیجے میں تاجر کے اندر ہر ایک کے لیے دوستانہ سلوک (friendly behaviour) پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اگر اپنے کو داعی اور دوسروں کو مدعو سمجھیں تو ان کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواہی (well-wishing) کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اُن کے اندر تمام انسانوں کے لیے دوستانہ کلچر (friendly culture) پرورش پائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان کی دنیا کے معاملات بھی درست ہو جائیں گے اور آخرت میں بھی وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نظریے کی طاقت روس میں اشتراکی انقلاب 1917 میں پیش آیا۔ اس سے پہلے روس میں بادشاہ کی حکومت تھی جس کو زار (Czar) کہا جاتا تھا۔ اُس وقت کمیونسٹ پارٹی نے زار کے خلاف ایک نظریاتی جنگ یہ نظریاتی جنگ بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیلنے لگی۔

برطانیہ نے اس کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ چناں چہ کرنل بیلی (Colonel F M Bailey) کی قیادت میں ایک وفد روس بھیجا گیا۔ یہ وفد وہاں تاجر کے روپ میں گیا تھا۔ اس وفد نے روس کے حالات کا جائزہ لے کر جور پورٹ حکومت برطانیہ کو پیش کی، اُس کا ایک جملہ یہ تھا—اشتراکی نظریات جو یہاں پھیلائے جا رہے ہیں، وہ زار کی پوری فوج سے زیادہ خطر ناک ہیں: Communist ideas are far more dangerous than the entire army of king Czar. تاریخ میں اس طرح کے متعدد واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تاریخ اِس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔

قدیم تاریخ میں اسلام کی کامیابی ہمیشہ نظریہ یا آئیڈیالوجی (ideology) کی بنیاد پر ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔

مثال کے طور پر تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ وقت اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن گئے۔

اسلام کی اس نظریاتی طاقت کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی، جہاں اُن کی تلوار نا کام ہو چکی تھی:

The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed. شہادتِ حق، دعوتِ حق کلمہ شہادت، اسلام میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایک شخص جب اسلام کی سچائی کو دریافت کرتا ہے اور اس کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ وہ حشر کے دن اللہ کے سامنے ایک مسلم کی حیثیت سے حاضر ہو تو وہ اپنی زبان سے یہ کلمہ ادا کرتا ہے : أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں)۔

اس کلمہ کے دو پہلو ہیں— شہادت، اور انطباقی شہادت (applied shahadah) ۔ شہادت کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ذات کے اعتبار سے، اس بات کا اعلان کرے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے، وہ اس حقیقت اعلیٰ کا گواہ (witness) بن جائے۔ اس شہادت کا دوسرا پہلو انطباقی شہادت ہے، یعنی دوسرے انسانوں کو اس حقیقت سے باخبر کرنا۔ بات کی کوشش کرنا کہ جس حقیقت اعلیٰ کو اُس نے دریافت کیا ہے، اُس حقیقت اعلیٰ سے کوئی بھی شخص

بے خبر نہ رہے۔ یہ وہی کام ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ دعوت کا عمل جب اپنی انتہائی صورت میں انجام پائے، تو اسی کا دوسرا نام شہادت یا گواہی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام ایمان سے الگ کوئی کام نہیں۔ جب کسی شخص کو حقیقی طور پر ایمان حاصل ہوتا ہے، تو فطری طور پر وہ اس کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے کہ جس سچائی کو اُس نے جانا ہے، اُس سچائی کو دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ زندگی کا جو مقصد اُس نے دریافت کیا ہے، وہ مقصد دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کی دریافت بن جائے۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کا جو راز اُس پر کھلا ہے، اس سے دنیا کے دوسرے لوگ محروم نہ رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت اگر ذاتی دریافت کا معاملہ ہے، تو انطباقی شہادت دوسروں کو اس دریافت میں شریک کرنے کا معاملہ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو گواہ بناتے ہوئے اُن کے سامنے ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب اصحاب رسول کے واسطے سے پوری امت محمدی کے لیے ہے۔ اس خطاب میں آپ نے فرمایا تھا: إن الله بعثني رحمةً للناس كافةً، فأدّوا عنّي (معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم الحديث : 3438) یعنی اللہ نے مجھ کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام رحمت پہنچادو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز تاریخ میں گونجتی ہوئی تمام مسلمانوں تک پہنچ رہی ہے۔ اسی طرح وہ اہلِ کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ اے کشمیر کے مسلمانو، تم میرے مشن کو پورا کرو اور تمام انسانوں تک میرا پیغام پہنچانے میں میرے مددگار بن جاؤ۔ کیا کشمیر کے مسلمان پیغمبر اسلام کی اس آواز پر لبیک کہیں گے۔

Printed page