شاہ ہمدان مشن
Al-Risala, March 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
میر سید شہاب الدین علی ہمدانی (وفات : 1384ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں "معمار کشمیر" کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طور پر اُن کو "امیر کبیر" کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوں نے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔ موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی
کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پر قائم تھے۔ 1947 میں برصغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردِّعمل کے طور پر کشمیر میں سیاسی تحریک اُٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ثابت ہوا۔ اب کشمیری مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں ۔ وہ دوبارہ شاہِ ہمدان کی طرح پُر امن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہِ ہمدان کے مشن کا احیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ ایرانی بادشاہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور اُن سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اُن کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379ء میں کشمیر پہنچا۔ امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردِّعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں ۔ امیر کبیر نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اِس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم اُنھوں نے اِس کو اقتدار سے ہٹانے اور اِس کی جگہ صالح حکمراں کو لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خوداپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ امیر کبیر اور ان کے ساتھی ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پر امن طور پر یہاں کے باشندوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ اُنھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اِس طرح صبر و برداشت کی زندگی گزارتے ہوئے
انھوں نے اپنے پر امن دعوتی مشن کو جاری رکھا۔
کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشمیر میں آپ لوگ شاہ ہمدان کے پر امن دعوتی مشن کو زندہ کریں۔ شاہ ہمدان کو کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے دعوت کو اپنا واحد مشن بنایا۔ شاہ ہمدان کے زمانے میں مختلف قسم کے مسائل کشمیر میں موجود تھے، سیاسی بھی اور غیر سیاسی بھی۔ انھوں نے ان تمام مسائل کو نظر انداز کیا اور دعوت الی اللہ کو اپنا واحد نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں اُنھیں کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔
مذکورہ کشمیری مسلمان نے کہا کہ شاہ ہمدان کے زمانے میں، کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر مسلم پائے جاتے تھے۔ آج تو یہاں سب کے سب مسلمان ہیں، پھر ہم کن لوگوں کے اوپر دعوتی کام کریں۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں انٹر نیشنل دعوہ ورک کے اعلیٰ مواقع پائے جاتے ہیں۔ انڈیا کی آرمی جو بڑی تعداد میں کشمیر میں موجود ہے، اس کا ہر فرد آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے، اس لیے ساری دنیا کے سیاح (tourists) کشمیر میں مسلسل آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کشمیر میں اب بھی ہندوؤں کی ایک تعداد موجود ہے، جن کو کشمیر میں پنڈت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں کے قدیم مندروں میں ہر سال بڑی تعداد میں یاتری آتے ہیں۔ یہ سارے لوگ آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے اندر اگر دعوتی شعور پیدا ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ کشمیر میں ہر طرف بہت بڑی تعداد میں مدعو پائے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ کشمیر میں دعوت کا ایک اور میدان کھلا ہوا ہے ۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو جدید افکار کی بنا پر اسلام کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہو گئے ۔ یہ لوگ بھی آپ کے لیے قیمتی مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اسلام کو آپ اُن کی دریافت (discovery) بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اسلام کو آپ اُن کی دریافت نو (re-discovery) بنائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ڈبل خوش قسمتی کے مواقع حاصل ہیں۔ کشمیر کو جنت نظیر
کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشمیریوں کو دنیا کی جنت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے کشمیر میں دنیا بھر کے مدعو بھیج دئے، تاکہ کشمیر کے مسلمان دعوتی کام کر کے آخرت کی جنت بھی حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کام انتہائی حد تک آسان ہو چکا ہے۔ قرآن کا ترجمہ، اور اسلام پر چھوٹی اور بڑی کتابیں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ کتابوں کو اپنے ساتھ رکھیں اور ہر موقع پر اُنھیں لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیجیے۔ اسی طرح دوسرے تمام مواقع کو اسلام کی پُر امن اشاعت کے لیے استعمال کیجیے، خاص طور پر قرآن کا ترجمہ لوگوں کو دیجیے اور اللہ کے یہاں دعوت کا انعام حاصل کیجیے شاہ ہمدان نے دعوت کے ذریعے کشمیر میں کامیابی حاصل کی تھی، آپ دوبارہ کشمیر میں دعوت کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اہل کشمیر میدان حشر میں جموں و کشمیر کے ایک سفر میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ماہ نامہ الرسالہ (جولائی، 1978) میں اس طرح چھپا ہے: ”مرزا محمد اعظم (پیدائش 1940) راجوری میں فارسٹر (forester) ہیں۔ باہر سے جب کبھی گھر آتے تو اپنے بچوں کے لیے مٹھائی وغیرہ لاتے ۔ ستمبر 1975 کا واقعہ ہے۔ دن وہ گھر میں داخل ہوئے تو کسی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ لا سکے۔ حسب معمول بچے ان کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کے 6 سالہ بچے ارشد محمود طارق نے اپنی پہاڑی زبان میں کہا۔ اساں وسطے کجھ نی آندہ، پھرت س گٹھانے وسٹے آئے (اگر آپ ہمارے لیے کچھ نہیں لائے تو پھر آپ کس لیے یہاں آئے)۔ بچے کا یہ جملہ مرزا محمد اعظم کو تیر کی طرح لگا۔ انھوں نے سوچا کہ بہت جلد میں اسی طرح خدا کے یہاں جانے والا ہوں۔ اگر خدا یہ کہہ دے کہ میرے لیے تم کچھ نہیں لائے تو پھر تم یہاں کس لئے آئے ہو، اُس وقت میرے پاس کیا جواب ہوگا“۔
اس واقعے میں اہل کشمیر کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ باہر سے آتے ہیں۔ مغربی سیاح، ہندو یاتری اور انڈین آرمی، وغیرہ۔ ان لوگوں کی مجموعی تعداد سالانہ تقریباً 30 لاکھ ہوتی ہے۔ یہ لوگ گویا کہ خدا کے بھیجے ہوئے مدعو ہیں۔ وہ اہل کشمیر کے پاس
اس لیے آتے ہیں ، تاکہ اہلِ کشمیر اُن کو خدا کا پیغام پہنچائیں ، وہ اُن کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کریں۔
یہ بے حد نازک صورتِ حال ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ قیامت برپا ہو اور اہلِ کشمیر سب کے سب ، میدانِ حشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں۔ اُس وقت اگر اللہ، اہلِ کشمیر سے پوچھے کہ تمھارے پاس میں نے اتنی بڑی تعداد میں ایسے انسان بھیجے جو سچائی سے بے خبر تھے۔ تمھارے پاس میرا بھیجا ہوا قرآن تھا، تم نے اُن کو سچائی سے باخبر کرنے کے لیے کیا کیا۔ اگر اہلِ کشمیر کے پاس خدا کے اِس سوال کا مثبت جواب نہ ہو اور خدا، اہلِ کشمیر سے کہہ دے کہ ــــ جب تم نے میرا کام نہیں کیا تو تم یہاں کس لیے آئے میدانِ حشر میں اگر اِس طرح کا واقعہ پیش آئے تو اُس وقت اہلِ کشمیر کا کیا حال ہوگا۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ اہلِ کشمیر سب سے زیادہ اِس سوال پر سوچیں اور ایک دن ضائع کئے بغیر وہ دعوتِ الی اللہ کے کام کو ے نہیں ہیں۔ یہ بات ہے کہ اس اس پر عمل میں لایا جائے، اس انجام دینے میں لگ جائیں، تا کہ موت سے پہلے تمام لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچ جائے ۔ سنگور میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کی کتابیں بنگلور میں مولا نا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: اِس پیرے کے دونوں حِصّوں میں فرق ہے:
2012 _ مارچ اردو