Al-Risala · April 2012

شاتمِ رسول کی سزا

Al-Risala, April 2012, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

امام ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) اسلامی تاریخ کے انتہائی مشہور عالم ہیں۔ اُن کو ’’شیخ الاسلام‘‘ کہا جاتا ہے۔ شتمِ رسول کے موضوع پر اُن کی ایک ضخیم کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے: الصــــــــارم المسلول علی شاتم الرسول۔ کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی شتمِ رسول کا مرتکب ہو، اُس کو حد کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ شتمِ رسول کی اس سزا کو جائز ثابت کرنے کے لیے انھوں نے لمبی بحثیں ہیں، لیکن حقیقی طور پر اُن کے اس موقف کے لیے نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور نہ حدیث میں۔ کتاب کے مطابق، بہ ظاہر صرف ایک ’’روایت‘‘ ہے جس سے صراحت کے ساتھ شاتمِ رسول کے لیے قتل کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود ابن تیمیہ اس روایت کو منکر اور ضعیف بتاتے ہیں۔ اعتراف کرتے ہیں کہ اس روایت کے راوی غیر ثقہ ہیں۔ اس اعتراف کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ: فإن كان محفوظاً فهو دليل على وجوب قتل من سب نبياً من الأنبياء (صفحہ 93) یعنی اگر یہ روایت درست ہو، تو وہ اس کی ایک دلیل ہے کہ جو شخص نبیوں میں سے کسی نبی کا سب و شتم کرے، اُس کو قتل کر دیا جائے۔ امام ابن تیمیہ حدیث کے بہت بڑے عالم مانے جاتے ہیں۔ اُن کے بارے میں امام الذہبی کا یہ قول ہے کہ— ہر وہ حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث نہیں (كل حديث لا يعرفه ابن تيمية، فهو ليس بحديث)۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب خود حافظ حدیث ابن تیمیہ اس روایت کو غیر ثقہ مانتے ہوں تو پھر ایسی غیر ثابت شدہ روایت سے قتلِ شاتم کا استدلال کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اس قسم کا استدلال بلاشبہ غیر دینی بھی ہے اور غیر علمی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ شاتم کو قتل کرنے کے بارے میں نہ قرآن میں کوئی حکم ہے اور نہ حدیث میں۔ اس معاملے میں مسلمانوں نے اپنے قومی جذبات کو شرعی حکم کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ بلاشبہ سرکشی کا فعل ہے۔ یہ خود ایک اہانتِ رسول ہے کہ رسول کے نام پر کسی انسان کو ناحق قتل کیا جائے۔ شتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک اختلافِ رائے ہے، اور اختلافِ رائے کے مقابلے میں جو چیز مطلوب ہے، وہ علمی استدلال ہے، نہ کہ بندوق اور تلوار۔

پیغمبر کے نام پر پیغمبرانہ روش جنوری 2012 کے دوران راجستھان میں جے پور لٹریچر فیسٹول (Jaipur Literature Festival) ہوا۔ یہ ایک انٹرنیشنل فیسٹول تھا۔ اس میں مختلف ملکوں کے آرٹسٹ اور اہل علم بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس فیسٹول میں سلمان رشدی (مقیم لندن) کو بھی بلایا گیا تھا، مگر انڈیا کی مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور یہ مانگ کی کہ رشدی انڈیا میں نہ آنے پائیں، کیوں کہ انھوں نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے۔ حکومتِ ہند نے سیاسی مصالح کے تحت، مسلمانوں کے اس مطالبے کو مان لیا اور سلمان رشدی کے دورہ ہند کو منسوخ کر دیا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ مطالبہ بہ ظاہر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ پیغمبر اسلام کے اُسوہ (model) کی نفی تھا۔ یہ بہ ظاہر فتح، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، صرف بدترین شکست کے ہم معنی تھی۔ اس طرح کے معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ یہ ہے کہ اس کو غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے، مسئلہ (problem) کو نظر انداز کرتے ہوئے موقع (opportunity) کو استعمال (avail) کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ بلاشبہ ایک مسئلہ تھا، لیکن اسی کے ساتھ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اُنھیں بتوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں وہاں مشرک زائرین آتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا اور مشرک زائرین کے سامنے قرآن کا پیغام پیش کیا۔ جے پور لٹریچر فیسٹول کے موقع پر مسلمانوں کو یہی کام اس فیسٹول میں ہندوستانی اور غیر ہندوستانی لوگ بڑی تعداد میں شریک ہو رہے تھے۔ کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ فیسٹول کے ناخوش گوار پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک موقع دعوت (Dawah opportunity) کے طور پر استعمال کریں۔ وہ وہاں اپنا اسٹال لگائیں اور لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ یہی اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا نمونہ ہے۔

Printed page