Al-Risala · January 2012

Islam and Modern Age

Al-Risala, January 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں موضوع کی مناسبت سے میں نے کچھ باتیں کہیں ۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ توضیحی سوالات تھے۔ کسی نے کوئی تنقیدی سوال نہیں کیا۔ ایک سوال اسوۂ رسول پر تھا۔ میں نے کہا کہ اسوۂ رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم رسول اللہ کی سیرت کا مطالعہ کریں اور آپ کے طریقے کو اپنی زندگی میں ڈھالیں ۔ مثلاً رسول اللہ نے نماز کے بارے میں فرمایا: صلوا كما اس اصول کا تعلق صرف نماز سے نہیں ہے، بلکہ زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات سے ہے۔ اس حدیث کا تو وسیعی مطلب یہ ہوگا: اعملوا كما رأيتموني أعمل (جس طرح تم مجھ کو عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہو، اسی طرح تم بھی عمل کرو)۔

میری لینڈ کی ایک مجلس میں ایک مسلمان تاجر سے ملاقات ہوئی۔ وہ امریکا میں کتابوں کی نشر واشاعت کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ شائع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا ترجمہ دیکھنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب میں آپ ہی کے ترجمے کو پھیلاؤں گا، کیوں کہ مختلف پہلوؤں سے یہ ترجمہ زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک سروے کے مطابق، اس ترجمہ قرآن کو پڑھ کر ہر سال تقریباً 300 امریکن اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں ایک بڑے عہدے پر فائز امریکن بھی اس ترجمہ قرآن کو پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

بالٹیمور میں ایک اسلامی ادارہ قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے:

Islamic Society of Baltimore (ISB)

اس سوسائٹی کے تحت بالٹیمور کی جامع مسجد میں 19 جون 2011 کی شام کو ایک پروگرام رکھا یہ ایک جدید طرز کی کافی بڑی مسجد تھی۔ اس میں نمازیوں کے لیے ہر طرح کی سہولت موجود تھی۔ اس پروگرام کا اشتہار چھاپ کر لوگوں کو پیشگی طور پر اس کی اطلاع کر دی گئی تھی۔ اس پروگرام کے لیے تقریر کا عنوان یہ تھا:

Printed page