مسلمانوں کے لیے انتباہ
Al-Risala, April 2012, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الانعام میں اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ لوگوں کو دو گروہوں میں بانٹ دے اور یہ دونوں گروہ باہم ایک دوسرے کے خلاف خونیں لڑائی اور خونیں جنگ شروع کر دیں۔ چناں چہ فرمایا کہ: أويلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض (6: 65) یہ بلاشبہ عذاب کی نہایت بری صورت ہے، کیوں کہ یہ عذاب بھی ہے اور اسی کے ساتھ ذلت بھی۔ قرآن کی اس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے، اُس کا تعلق صرف غیر مسلموں سے نہیں، بلکہ اُس کا تعلق خود مسلمانوں سے بھی ہے۔ یہ بات مختلف احادیث سے ثابت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: لا ترجعوا بعدى كفاراً، يضرب بعضكم رقابَ بعض (صحیح البخاری، رقم الحديث: 1739) یعنی میرے بعد تم لوگ دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ: من حمل علينا السلاح، فليس منا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6874) یعنی جو شخص ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نیز فرمایا کہ: سباب المسلم فسوق وقتاله كفر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6044) یعنی مسلمان پر سب وشتم کرنا فسق ہے اور اُس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ قرآن میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اُس پر اللہ کا غضب اور اللہ کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اُس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے (4:93)۔ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں جو باہمی لڑائیاں ہو رہی ہیں، وہ بلاشبہ ان آیتوں اور حدیثوں کا مصداق ہیں۔ ان لڑائیوں میں مسلمان دو طبقے میں بٹ گئے ہیں— ایک، حکمراں طبقہ اور دوسرا، غیر حکمراں طبقہ۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف خونیں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ باہمی لڑائیاں بلاشبہ فعل حرام کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ واقعہ ان مسلمانوں کے لیے دنیا میں ذلت کا سبب ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب۔