Al-Risala · April 2012

امت مسلمہ کا المیہ

Al-Risala, April 2012, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إنما أخاف على أمتي الأئمة المضلّين، وإذا وضع السيف في أمتي، لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة (سنن أبي داؤد، رقم الحديث : 5427) یعنی میں اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ گم راہ کن لیڈروں سے ڈرتا ہوں ، اور جب میری امت کے اندر تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہ جائے گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ امت محمدی کے اندر یہ تلوار حضرت عثمان کی خلافت کے زمانے میں داخل یہ معاملہ گمراہ کن لیڈروں کے ذریعہ پیش آیا اور عملاً وہ آج تک مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کا اصل ماڈل دعوتی ماڈل ہے ۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں یہی ماڈل امت کے درمیان جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد اس میں تبدیلی آئی ۔ کے اندر غیر دعوتی ماڈل رائج ہوگیا۔

دعوتی ماڈل پر امن مشن کا ماڈل ہے۔ اس ماڈل میں مثبت سوچ ہوتی ہے، تعمیری سرگرمیاں ہوتی ہیں، تمام سرگرمیاں دعوت کے مرکزی تصور کے تحت تشکیل پاتی ہیں، ٹکراؤ کے بجائے مصالحت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ دشمن کو دوست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اختلاف کو گفت و شنید (negotiation) کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، وغیرہ۔

غیر دعوتی ماڈل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس میں نفرت اور تشدد اور ٹکراؤ جیسی چیزیں فروغ پاتی تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد امت میں غیر دعوتی ماڈل رائج ہوگیا۔ اس کے بعد امت کے اندر کوئی ایسی طاقت ور شخصیت نہیں ابھری جو غیر دعوتی ماڈل کو ختم کرے اور امت کے اندر دوبارہ دعوتی ماڈل کو رائج کرے۔ یہی امت مسلمہ کا اصل المیہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس المیہ کو دور کرکے امت کو دوبارہ دعوتی ماڈل پر لایا جائے۔ اس کے بغیر امت کا کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔

امت مسلمہ کے اندر تلوار کا داخل ہونا کیا ہے۔ یہ دراصل تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک اسلام کے ابتدائی تیرہ سالہ دور کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اسلام کا جو ماڈل بنا، وہ پوزیشن آف ماڈسٹی (position of modesty) پر مبنی ایک ماڈل تھا۔

مدنی دور کے بعد، اسلامی تاریخ کا جو دور آیا، وہ تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ اسی بعد کے دور میں، اسلام کا کتب خانہ وجود میں آیا۔ وہ چیز جس کو مسلم فکر کہا جاتا ہے، وہ تمام تر اس بعد کے دور میں بنا جو کہ پوزیشن آف اسٹرینتھ (position of strength) کا دور تھا۔

مکی دور میں جو حالات تھے، اس کے مطابق، اُس زمانے کا مسلم فکر تمام تر صبر پر مبنی تھا۔ کے مسلمان، اپنے حالات کے مطابق، امن کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، نہ کہ جنگ کی اصطلاحوں میں۔ اُس زمانے میں، مسلمانوں کے اندر دعوت کا چرچا تھا، نہ کہ جہاد کا چرچا۔ اُس زمانے کے مسلمان ترغیب (persuasion) میں یقین رکھتے تھے، نہ کہ نفاذ (implementation) میں۔ اُس زمانے کے مسلمان دوسروں کو عدو کی نظر سے دیکھتے تھے، نہ کہ حریف (rival) کی نظر سے۔

اس قسم کی صفات کے نتیجے میں اُس زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ تمام تر داعیانہ سیکولر اصطلاح میں، اس ذہن کو ایک غیر سیاسی ذہن (non-political mind) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، پوزیشن آف اسٹرینتھ کے دور میں جو ذہن بنا، وہ ہر اعتبار سے، مذکورہ ذہن سے مختلف تھا۔ کے دور میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، اس میں صبر کو منسوخ سمجھ لیا گیا۔ تالیف قلب ایک غیر ضروری روش قرار اب غیر مسلموں کے لیے” کفار‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ مسلم علاقہ دار الاسلام ہے اور غیر مسلم علاقہ دار الكفر یا دار الحرب۔ اب یہ ذہن بن گیا کہ ہم کو پر امن دعوت دینے کی ضرورت نہیں، حاکمانہ طاقت کے زور پر ہم، لوگوں سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ اب یہ سمجھا جانے لگا کہ مسلمان خیر امت ہیں اور دوسرے لوگ کافرانہ امت۔ اسی دور میں ایک عرب شاعر نے مسلم دبدبے کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ جہاں دوسرے لوگ ایک فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں: إذا ما أرسل الأمراء جيشاً إلی الأعداء، أرسلنا الكتابا

ہزار سالہ اقتدار کے دور میں یہی چیزیں مسلمانوں کے ذہن مکی تشکیل کرتی رہیں۔ یہ فکر نسل در نسل چلتا رہا، یہاں تک کہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کے تصور کے تحت پوری امت مسلمہ کی کنڈیشننگ ہوگئی۔ تمام دنیا کے مسلمان اسی انداز پر سوچنے لگے۔ کسی اور انداز پر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ اٹھارھویں صدی کے خاتمے کے ساتھ مسلم امت کے لیے پوزیشن آف اسٹرنتھ کا دور ختم ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں مسلم ایمپائر کے بجائے، مغربی ایمپائر قائم ہو گیا۔ مسلم تہذیب کی جگہ مغربی تہذیب کو ساری مسلم دنیا میں غلبہ حاصل ہو گیا۔ مسلمانوں کی شوکت ختم ہوگئی اور غیر مسلموں کی شوکت ہر جگہ قائم یہ وقت مسلم رہنماؤں کے لیے سخت امتحان کا وقت تھا۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ تاریخ کے فیصلے کو سمجھیں اور مسلمانوں کو مشورہ دیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم کی ماڈل کی طرف لوٹو، یعنی پوزیشن آف ماڈسٹی کے ماڈل کی طرف۔ لیکن مسلم رہنماؤں نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے "تحفظ ملت" کے نام پر مسلمانوں کو ابھارا کہ وہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کی حالت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے مفروضہ ظالموں کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ مسلمانوں کے اندر یہ غیر دانش مندانہ جنگ تقریباً دو سو سال سے جاری ہے— اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی اس تباہ کن روش کو بدلیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اس کے سوا، کوئی بھی دوسرا راستہ اُن کو کامیابی تک پہنچانے والا نہیں۔ مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: C/O Alia Hardware Opp. City Post Office, Main Road, Motihari East Champaran-845401, Bihar بنگلور میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194

Printed page