ٹکراؤ سے اعترافِ حقیقت تک
Al-Risala, April 2012, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
میڈیا میں دو خبریں ایک ساتھ آئی ہیں ایک، یہ کہ پاکستانی لیڈر شپ نے کشمیر کے ایشو کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (27 فروری 2012) میں اس عنوان کے تحت چھپی ہے پاکستان، کشمیر کے ایشو کو وقتی طور پر رُدی اشیا کے خانے میں ڈال سکتا ہے: Pakistan may junk Kashmir issue temporarily دوسری خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا خفیہ رہائشی کمپاؤنڈ 3 مئی 2011 کو امریکا نے ایک ٹارگیٹڈ اٹیک (targeted attack) کے ذریعے وہاں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔ اب خبر ہے کہ خود پاکستانی حکومت نے اسامہ بن لادن کے اس رہائشی کمپاؤنڈ کو 25 فروری 2012 کو رات کے اندھیرے میں ڈھا دیا۔ اُس کا ملبہ وہاں سے دور پھینک اس واقعے کی تصویر ٹائمز آف انڈیا (27 فروری 2012) کے صفحہ 18 پر شائع ہوئی ہے۔ ان دونوں خبروں کا خلاصہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کشمیر میں جہاد کے نام سے جو متشددانہ جد و جہد شروع کی گئی تھی، وہ اب اپنے فطری انجام کو پہنچ کر ختم ہوگئی ہے، مذکورہ خبر میں ’’وقتی طور پر‘‘ (for the time being) کا لفظ محض ڈپلومیٹک ہے۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے، اٗس کا مطلب
صرف یہ ہے کہ پاکستان نے اب ہمیشہ کے لیے اس بے نتیجہ اَشوکوتَرک کر دیا ہے، یہاں تک کہ اب اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں متشددانہ جدوجہد کی علامتوں تک کو مٹا دیا جائے۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی مسماری ہے۔
کشمیر کی نام نہاد جنگ، کشمیریوں کی اپنی آواز نہ تھی، وہ مکمل طور پر پاکستان کی برآمد کردہ جنگ (exported war) تھی۔ پاکستان نے اب حالات کی مجبوری کے تحت اُس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ حالت میں اب کشمیر کی نام نہاد جنگ کو جاری رکھنے کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ کوئی امکان۔ اب اہل کشمیر کے لیے متعدد انتخابات (options) نہیں رہے۔ اب اُن کے لیے ایک ہی ممکن انتخاب ہے، یہ کہ وہ، ہتھیار اور ہتھیار کی سیاست دونوں کا مکمل خاتمہ کر دیں، اور پرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ اجتماعی زندگی میں اقدام کی دو صورتیں ہوتی ہیں—ایک، یہ صورت کہ وہ اپنے مطلوب انجام تک دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے انجام کے اعتبار سے، کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو، یعنی الٹا نتیجہ برآمد کرنے والا۔ پاکستان کی طرف سے چھیڑی ہوئی کشمیری جنگ کا یہی دوسرا انجام ہوا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے بہت زیادہ کھویا، لیکن وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے کہ وہ اس تباہ کُن جنگ سے اپنے آپ کو الگ کر رہا ہے، مگر اہل پاکستان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ صحیح فکر کا ہے، یعنی منفی سوچ کو چھوڑ کر مثبت سوچ کو اختیار کرنا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کھلے طور پر یہ اعلان کرے کہ کشمیر کی جنگ چھیڑنا ہماری ایک مہلک غلطی تھی۔ غلطی کے کھلے اعلان کے بغیر پاکستان کو اس کا کوئی حقیقی فائدہ ملنے والا نہیں۔ غلطی کے اعلان کا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں ایک نئی مثبت سوچ (positive thinking) کا آغاز ہو جائے گا۔ پاکستان کے لوگ اِس معاملے میں اپنی منفی نفسیات کی بنا پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے ۔ اِس طرح کا اعلان اُن کو ایک نئی رہنمائی دے گا۔ وہ مثبت سوچ میں جینے لگیں گے۔ اُن کی قومی پالیسی جواب تک غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر پر کھڑی ہوئی تھی، وہ حقیقت پسندانہ طرزِ فکر پر قائم ہو جائے گی۔ یہ واقعہ پاکستان اور اس کے حلیفوں کے لیے بلاشبہ ایک انقلابی واقعہ ہوگا۔