Islam in the Modern Age
Al-Risala, January 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اس موضوع پر انگریزی زبان میں 45 منٹ کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔
امریکا میں عام طور پر رواج ہے کہ لوگ یہاں مغرب سے پہلے شام کا کھانا (dinner) کھانے کے بعد مغرب کی نماز ہوتی ہے اور اس کے بعد پروگرام شروع ہوتا ہے، جو کہ دیر تک چلتا ہے۔ بالٹیمور کی مسجد میں بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ پروگرام عصر کے بعد شروع ہوا، اور رات کو دس بجے کے بعد عشا کی نماز پر اس کا خاتمہ ہوا۔ پروگرام کے بعد مزگل زیبا نے تمام شرکا کو الرساله اردو اور انگریزی کی کاپیاں برائے مطالعہ پیش کیں۔ اس کے بعد ہم لوگ میری لینڈ واپس آگئے ۔ لوگوں کا قیام مزگل زیبا کے مکان پر تھا۔ صبح کو میری لینڈ سے فلیڈ یلفیا کے لیے واپسی ہوئی۔ 20 جون 2011 کو خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر پر حسب معمول اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک تربیتی نشست ہوئی۔ خواجہ کلیم الدین ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ آج وہ اپنے اسکول چلے گئے، اس لیے آج کوئی خارجی پروگرام نہیں تھا۔ آج کی مجلس میں مجھ سے تربیت اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا۔ میں نے لوگوں کو یہ حدیث سنائی: ما نحل والد ولده من نحل أفضل من أدب حسن (مشکاة المصابيح، رقم الحديث: 4977) یعنی کسی والد کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرے۔ میں نے کہا کہ یہاں تربیت سے مراد یہ ہے کہ اولاد کو صحیح اسلامی زندگی گزارنے کے لیے تیار
اس میں عبادت کے علاوہ تمام اخلاقی اوصاف شامل ہیں۔ مثلاً ڈسپلن ، حکمت (wisdom) اور زندگی کے اصول، وغیرہ۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر کے باہر سڑک کے پاس ایک بڑے قسم کا ڈسٹ بن (dustbin) رکھا ہوا تھا۔ میں نے قریب جا کر دیکھا تو اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : امریکا میں کوڑا (waste) اٹھانے کا طریقہ یہ ہے کہ گھر والے خود اپنے گھر کا کوڑا نکال کر اپنے گھر کے باہر رکھے ہوئے ایک بند ڈسٹ بن (dustbin) میں رکھ دیتے ہیں۔ بعد کو ایک بند گاڑی آتی ہے اور اس کوڑے کو وہاں سے اٹھا کر لے جاتی ہے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان اپنی نادانی کی قیمت ادا کرتے ہیں: Muslims are paying the price of their own unrealistic policies. مثلاً سڑک پر جب ہندوؤں کا جلوس نکلتا ہے تو مسلمان غیر ضروری طور پر اُن لوگوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ جلوس کا راستہ بدلو۔ اس پر دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے اور فرقہ وارانہ فساد کی نوبت آ جاتی ہے۔ ایسی حالت میں عقل کا تقاضا یہ ہے کہ آپ جلوس کو نہ روکیں، وہ خاموشی سے گزر جائے گا اور فرقہ وارانہ فساد نہیں بھڑکے گا۔ مگر مسلمان عام طور پر ہر جگہ عقل کے اس امتحان میں ناکام ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔
ایک صاحب نے بعض منکرینِ حدیث کا تذکرہ کیا۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے، وہ بلاشبہ غلطی میں مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث، حکمتِ اسلام کا عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن میں دینی احکام کا اصولی علم دیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حدیث، ربانی حکمت (divine wisdom) کو جاننے کا واحد مستند ذریعہ ہے۔
امریکہ کے زمانہ قیام میں خواجہ کلیم الدین صاحب کی لڑکی مزائغم (18 سال) سے ملاقات انھوں نے بتایا کہ مئی 2011 میں وہ کالج کے ایک تعلیمی پروگرام میں ساؤتھ افریقہ گئیں ۔ انھیں چند شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے ساؤتھ افریقہ کے بارے میں چند باتیں بتائیں۔ ایک بات انھوں نے یہ بتائی کہ ساؤتھ افریقہ میں حقوق انسانی (Human Rights) کے تحفظ کے لیے بہت سے قانون بنائے گئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو قانونی طور پر ہر قسم کا حق دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں کے قانون کے مطابق ، ایک وہ حق بھی ہے جس کو رائٹ ٹو پریگنینسی (Right to Pregnancy) کہا جاتا ہے۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ یہ موجودہ زمانے کا کمال سمجھا جاتا ہے کہ اس نے ہر ملک میں حقوق انسانی کے قوانین بنائے ۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ باعتبار نتیجہ اس قانون سازی کے بعد کیا ہوا۔ میڈیا کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک میں حقوق انسانی کے قوانین جس طرح کاغذ پر لکھے ہوئے ہیں ، اس طرح وہ حقیقی انسانی زندگی میں واقعہ نہیں بنے۔
اصل یہ ہے کہ حقوق انسانی کا تحفظ قانون سازی کے ذریعہ نہیں ہوتا، بلکہ ذہن سازی کے ذریعہ ہوتا اس معاملے کا تعلق ایجوکیشنل ایکٹوزم سے ہے، نہ کہ لیگل ایکٹوزم سے۔ عجیب بات ہے کہ ساری دنیا میں حقوق انسانی کے نام پر ہیومن رائٹس ایکٹوزم کی دھوم ہے۔ آج کی دنیا کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایجوکیشن کو پروفیشنل سے وابستہ کر دیا گیا ہے، تعمیر شخصیت جدید ایجوکیشن کا موضوع نہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب، حیدر آباد (انڈیا) میں 1952 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے عثمانیہ یونی ورسٹی (حیدرآباد) سے بی ایس سی اور بھوپال یونیورسٹی سے ایم ایس سی (کیمسٹری) کی ڈگری لی۔ اس کے بعد وہ 1982 میں نائجیریا (افریقہ) چلے گئے۔ اس کے بعد وہ 1989 میں نائجیریا سے امریکہ منتقل ہو گئے۔ اپنے پروفیشن کے اعتبار سے وہ اسکول ٹیچر ہیں، اور مشن کے اعتبار سے وہ پوری طرح دعوت الی اللہ کے مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ وہ الرسالہ کے پہلے شمارہ (اکتوبر 1976) سے اس کا برابر مطالعہ کر رہے ہیں۔ جب وہ نائجیریا میں تھے، اُس وقت انھوں نے خود اپنی کوشش سے الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن نکالنا
شروع کیا تھا۔ اب کلیم الدین صاحب مستقل طور پر امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے ساتھیوں کے تعاون سے وہ دعوت کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں کہ حالیہ سفر میں جب میں نے قریب سے اُن کے کام کو دیکھا تو میں نے کہا کہ آپ نے تو امریکا میں دعوہ انڈسٹری قائم کردی۔ خواجہ کلیم الدین صاحب 'الرسالہ فورم انٹرنیشنل' (Al-Risala Forum International) کے تحت یہاں دعوتی کام کر رہے ہیں۔ ادارے کا پتہ حسب ذیل ہے:
Al-Risala Forum International 2665 Byberry Road, Bensalem, PA 1920 (US)
Tel: 6179607156, email: kkaleemuddin@gmail.com امریکا میں ان کے پاس ایک نہایت کشادہ گھر ہے۔ انھوں نے اپنے پورے گھر کو دعوہ سنٹر بنا خواجہ کلیم الدین صاحب مختلف پہلوؤں سے جو دعوتی کام کر رہے ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے الرسالہ مشن کو انٹرنیٹ کے دور میں داخل کیا۔ انھوں نے بطور خود الرسالہ کی ویب سائٹ اس ویب سائٹ پر انھوں نے ماہ نامہ الرسالہ کے شمارے اور مطبوعات الرسالہ کو صوتی (audio) اور بصری (visual) انداز میں اپ لوڈ کر دیا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر اس کے ذریعے دعوتی کام ہو رہا ہے۔ امریکا کا موجودہ سفر خواجہ کلیم الدین صاحب اور ان کے ساتھیوں ہی کی کوشش سے عمل میں آیا۔ اس سفر کی دریافتوں میں سے ایک دریافت مسز تسنیم تھیں۔ وہ خواجہ کلیم الدین کی اہلیہ ہیں اور عجیب و غریب صلاحیتوں کی مالک ہیں۔ وہ گھر کا پورا کام کرتے ہوئے مسلسل طور پر دعوہ ورک کرتی امریکا میں ان کے بہت سے رشتے دار ہیں۔ ان سب کو وہ دعوہ ورک کے لیے ٹیلی فون پر انکریج (encourage) کرتی رہتی ہیں اور ان کو دعوہ لٹریچر بھیجتی رہتی ہیں۔ وہ پورے معنوں میں خواجہ کلیم الدین صاحب کی دعوہ پارٹنر ہیں۔
مجھے اس سلسلے میں کئی تجربے ہوئے ۔ ایک بار میں کار کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے
مقام پر جا رہا تھا۔ راستے میں ہم ایک ریسٹ ایریا (Rest Area) پر رکے۔ یہاں ایک امریکی مسلمان اپنی اہلیہ کے ساتھ مل گئے۔ مسٹر تسنیم نے ان سے باقاعدہ گفتگو کی اور ان کو کتابیں دیں۔ بعد کو ان کا ٹیلی فون آیا اور مسٹر تسنیم کی دعوت پر وہ اپنی اہلیہ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ ان کے گھر پر ملنے آئے۔ 21 جون 2011 کو ہم لوگ بذریعہ کار یارڈ لے (Yardley) پہنچے۔ یہاں ڈاکٹر انیس میمن کے گھر پر ایک پروگرام رکھا گیا تھا۔ حسب معمول مغرب سے پہلے شام کا کھانا کھایا گیا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی گئی، پھر میری تقریر ہوئی۔ اس پروگرام میں مردوں کے علاوہ، عورتیں بھی کافی تعداد میں موجود تھیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ڈاکٹر انیس میمن ہمارے دعوتی مشن میں شامل ہیں۔ وہ اپنے کلینک میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن اور ریلیٹی آف لائف کی کاپیاں وہ اپنے ہر مریض (patient) کو قرآن کا ترجمہ اور ریلیٹی آف لائف بطور اسپرچول گفٹ (spiritual gift) پیش کرتے ہیں۔ یہاں ایک موقع پر کچھ غیر مسلم حضرات کو قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ ایک صاحب نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ وہ (ترجمہ) قرآن آ گیا، جس کا لمبی مدت سے انتظار تھا: