Al-Risala · April 2012

'انا' کی دیوار

Al-Risala, April 2012, pp. 34–38

By Maulana Wahiduddin Khan

یوپی (انڈیا) کے ایک شہر کا واقعہ ہے۔ یہاں ایک مسلم عالم نے ایک مدرسہ بنایا۔ اس کے بعد وہاں حکومت کی طرف سے ایک سڑک کی تعمیر کی گئی۔ یہ سڑک مدرسے کی عمارت کے پاس سے گزر رہی یہاں مدرسے کی ایک دیوار تھی جو سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ مدرسے کے لوگ اس دیوار کو ہٹانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ پختہ دیوار ہے، ہم اس کو کیسے ہٹا سکتے ہیں۔ آخر کار یہ معاملہ بڑھ کر نزاع تک پہنچ گیا۔

ایک دوسرے مدرسے کے ذمے دار جو الرسالہ مشن سے وابستہ ہیں، اُن کو معلوم ہوا تو وہ اُس متنازعہ مقام پر گئے۔ انھوں نے مدرسے کے ذمے داروں سے کہا کہ یہ نہ پختہ دیوار ہے اور نہ غیر پختہ دیوار۔ یہ صرف انا کی دیوار ہے۔ اس کے بعد مدرسے والے اس دیوار کو ہٹانے پر راضی ہو گئے اور سڑک اپنے نقشے کے مطابق ، تعمیر کر دی گئی ۔ اس واقعے کے بعد اہل مدرسہ اور حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہو گئے ۔ اس کا مزید فائدہ یہ ہوا کہ وہاں اسلامی دعوت کی راہ ہموار ہوگئی۔

اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کو لوگ رکاوٹ کہتے ہیں، وہ حقیقی رکاوٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف ضد اور انا کی رکاوٹ ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ کے مسائل کے موقع پر اگر دانش مندی سے کام لیا جائے تو مسئلہ اس طرح ختم ہو جائے گا جیسے کہ وہ تھا ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک ذہنی مسئلہ ہوتا ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ہر مسئلہ ابتداء ایک چھوٹا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ صرف لوگوں کا غیر دانش مندانہ رویہ ہے جو ایک چھوٹے مسئلے کو بڑا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے اور نئے زیادہ پیچیدہ مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ دانش مندی یہ ہے کہ مسئلے کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کر دیا جائے۔ مسئلے کا بڑھنا کسی بھی حال میں مفید نہیں، خواہ وہ فرد کا معاملہ ہو یا جماعت کا معاملہ۔

سوال و جواب ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے اس سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو دعوت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ، کیوں کہ قرآن میں صاف طور پر آیا ہے کہ: إنّ الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذر هم لا يؤمنون (2:6) یعنی جن لوگوں نے کفر کیا ، اُن کے لیے یکساں ہے، تم اُن کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے والے نہیں براہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی)

قرآن کی اس آیت کا تعلق عمومی معنوں میں دعوت الی اللہ سے نہیں۔ اُس کا تعلق اصلاً صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر (contemporary) ایک گروہ سے ہے جس کے اوپر پیغمبر اسلام نے لمبی مدت تک دعوتی جدوجہد کی ، اس کے باوجود وہ لوگ انکار کی روش پر قائم رہے۔ آیت کا تعلق منصوبۂ دعوت سے نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تہدیدی اعلان ہے۔ آیت سے برعکس طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر گر وہ پر لازماً دعوت کا عمل کیا جائے گا ۔ اس کو کسی بھی حال میں بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ اس گروہ کو ایمان کی توفیق دے یا نہ دے۔ اہلِ ایمان کی ذمے داری ہے اور مدعو کو قبول حق کی توفیق دینا اللہ کا کام۔ قرآن کی اس آیت کے نزول کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ گروہ کے درمیان دعوت کا کام بند نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کو بدستور جاری رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، حتیٰ کہ ایسے گروہ پر بھی جو علمِ الہی کے مطابق ، اُس کو قبول کرنے والا نہ ہو۔ داعی کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ داعی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مخاطب اس کی بات کو قبول کرے گا یا وہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جگہ قرآن میں یہ آیت آئی ہے: فذكر إنما أنت مذكر، لست عليهم بمصيطر إلا من تولّى وكفر، فيعذبه الله العذاب الأكبر (24-21: 88)۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ داعی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ آخر وقت تک اپنا پیغام لوگوں تک جہاں تک نتیجہ (result) کا تعلق ہے، وہ اس کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دے۔ اہلِ کتاب خصوصاً نصاریٰ سے متعلق یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ موجودہ دور کے عیسائی بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے نجات اُخروی کے مستحق ہیں یا نہیں۔ کیا ان کے لیے اللہ کی نازل کردہ کتاب انجیل مقدس کافی نہیں ہے۔ اُخروی نجات کا معاملہ تو خدا اور بندہ کا پرسنل معاملہ ہے، اور اس کے لیے خدائے واحد کو ماننا، آخرت پر ایمان رکھنا اور عمل صالح کرنا کافی ہے، جیسا کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے: ان الذين آمنوا والذين هادوا والنصاری والصابئين من آمن بالله واليوم الآخر وعمل صالحا فلهم أجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ نے اہلِ انجیل کو انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے: وليحكم أهل الانجيل بما أنزل الله فيه، ومن لم يحكم بما أنزل الله فاولئك هم الفاسقون (47: 5)۔ وضاحت فرمائیں (محمد سمیع اللہ، ممبئی)

1- اس سوال کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ طرزِ فکر اپنے آپ میں درست نہیں۔ اُخروی" کا مستحق کون ہے، اس کا علم صرف خدا کو ہے۔ کوئی بھی شخص اگر اس معاملے میں اپنی رائے دیتا ہے تو وہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہوتا ہے جس میں داخل ہونے کا سرے سے اس کو کوئی حق حاصل ہمارا کام صرف دعوت دینا ہے، نہ کہ اس سوال پر رائے زنی کرنا کہ نجات اُخروی کا مستحق کون ہے۔ اس معاملے میں قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ مثلاً اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وما أدري ما يفعل بي ولا بكم (46: 9) یعنی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ یہی بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: و اللہ ما أدري، وأنا رسول الله، ما يفعل بي ولا بكم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 7018)

یعنی خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، اگر چہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔

قرآن کی اس آیت اور اس حدیثِ رسول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نجاتِ آخرت کا معاملہ سرتا سر اللہ کے فیصلے کا معاملہ ہے۔ ہمارے ایمان اور ہمارے عمل کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ نجات کی عملی دعا ہے، وہ نجات کی قیمت نہیں۔ ہماری ذمے داری صرف یہ ہے کہ ہم ہر ایک کو یکساں طور پر اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ جہاں تک آخرت کے انجام کی بات ہے، وہ تمام تر اللہ کا معاملہ ہے۔ اللہ ہی ہے جو اپنے علم کی بنیاد پر ہر ایک کے لیے اُس کے اُخروی انجام کا فیصلہ کرے گا۔ 2- قرآن کی دوسری آیت جس کا آپ نے حوالہ دیا، اُس کا ترجمہ یہ ہے: ”بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، اُن میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے عمل صالح کیا، تو اُس کے لیے اُس کے رب کے پاس اجر ہے۔ کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے“ (2: 62)۔

اس آیت میں دراصل گروہی نجات کی تردید ہے۔ نجات کا تعلق کسی فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ مجرد کسی گروہ سے وابستہ ہونے کی بنا پر۔ اس معاملے میں مسلم گروہ کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ مسلمانوں کو دوسرے مذہبی گروہوں سے الگ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مسلمانوں کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے، ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے— ایمان اور عملِ صالح۔ کوئی گروہ اپنے آپ کو خواہ مسلمان کہتا ہو، یا وہ اپنے آپ کو یہودی، یا مسیحی، یا صابی کہے، اُن میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خدا کے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجے کا اعتبار صرف اس بات پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے، نہ کہ مدارِ نجات کے اعتبار سے،

وہ تمام مذاہب یکساں حیثیت رکھتے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ مگر اب سے 14 سوسال پہلے خدا کا آخری رسول آیا۔ اُس نے اعلان کیا کہ پچھلی تمام شریعتیں اللہ نے منسوخ قرار دے دی اسی طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین کے اوپر خدا کا مستند دین ہونے کی حیثیت صرف اسلام کو حاصل ہے، جو شخص خدا کی مرضی کو معلوم کرنا چاہے، اُس کو لازمی طور پر اسلام کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اصولاً دوسرے کسی طریقے کی پیروی میں وہ خدا کی رضا حاصل نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا مواخذہ تمام تر اس بات پر منحصر ہے کہ اُس کو کس درجے میں خدا کا پیغام پہنچا تھا۔ اور اس کا علم صرف اللہ کو ہو سکتا ہے، نہ کہ کسی انسان کو۔ جہاں تک ہماری ذمے داری کا تعلق ہے، وہ یقینی طور پر دعوت ہے، نہ کہ فتویٰ نافذ کرنا۔

3- آپ نے قرآن کی جو آیت (47: نقل کی ہے، اُس کے متعلق مختصراً میں کہوں گا کہ اُس کا تعلق نجاتِ آخرت سے نہیں ہے، اٌس کا تعلق مخصوص سماجی حالات میں ایک سزا کے نفاذ سے آج بھی اگر ایسے سماجی حالات پیدا ہوں تو وقتی طور پر اس اصول کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ماہ نامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spiritual Message 101, Prathemesh Apartment, Azad Road, Gundavli Andheri (East), Mumbai-400 069 (India)

Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323 خبرنامہ، الرسالہ مشن کی ڈائرکٹری ہے۔ وہ الرسالہ مشن کی دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔ اس لیے مشن کے تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اہم دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ ضروری تفصیل کے ساتھ روانہ فرمائیں، تاکہ اس کو خبرنامہ کے تحت شامل کیا جاسکے۔ یہ تفصیل مضمون کے بجائے صرف تعینات کی زبان میں ہو۔ مقام، اہم شخصیت کے ساتھ انٹریشن کی صورت میں اس کا مکمل نام اور تعارف، دعوتی کام کی نوعیت کی وضاحت، کسی ادارے میں پروگرام کی صورت میں ادارے کا نام اور پروگرام کا موضوع، وغیرہ۔ بذریعہ ڈاک الرسالہ کے پتے پر یا اس ای میل پر روانہ فرمائیں: znadwi@yahoo.com

Printed page